فیوچر ٹور پروگرام پاکستان کا دامن میچز سے بھر دیا گیا

17ہوم اور21 اوے سیریز،77 ٹیسٹ،145 ون ڈے،48 ٹی20شیڈول،5 ہوم سیریز آسٹریلیا اور4 بھارت سے ہونگی


Saleem Khaliq July 08, 2014
تینوں طرز کے31،76 اور21 میچز ہوم،46،69 اور27مقابلے اوے شیڈول، بنگلہ دیش اور زمبابوے سے کوئی ہوم سیریز نہیں ہوگی۔ فوٹو: فائل

نئے فیوچر ٹور پروگرام میں پاکستان کا دامن میچز سے بھر دیاگیا، پی سی بی نے دیگر بورڈز کے ساتھ مل کر اگست 2014 سے مارچ2023 تک کے شیڈول کو حتمی شکل دیدی۔

اس دوران پاکستانی ٹیم کی 17 ہوم اور21 اوے سیریز رکھی گئی ہیں، وہ77 ٹیسٹ، 145 ون ڈے انٹرنیشنل اور48 ٹوئنٹی20 میچز کھیلے گی، تینوں طرز کے بالترتیب31،76 اور21 میچز ہوم جبکہ 46،69 اور 27مقابلے دیار غیر میں شیڈول ہیں، سب سے زیادہ5 ہوم سیریز آسٹریلیا اور4 بھارت کے ساتھ کھیلی جائینگی، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور سری لنکا 2،2 جبکہ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ ایک، ایک بار دورہ کرینگے، کم منافع بخش ہونے کے سبب بنگلہ دیش اور زمبابوے سے کوئی سیریز نہیں رکھی گئی۔

پاکستانی ٹیم کو سب سے زیادہ6بار کیویز کے دیس جانے کا موقع ملے گا، انگلینڈ کو4بار اس کی میزبانی کرنی ہے، بھارت، آسٹریلیا، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے2،2 جبکہ جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کا ایک، ایک دورہ طے کیا گیا ہے۔ نئے ایف ٹی پی کے تحت گرین شرٹس سب سے زیادہ30 ون ڈے میچز بھارت سے کھیلیں گے، نیوزی لینڈ سے25، انگلینڈ 23 اور آسٹریلیا کے ساتھ اس طرز کے22 میچز رکھے گئے ہیں، سری لنکا سے18، جنوبی افریقہ10، ویسٹ انڈیز 8، بنگلہ دیش 6 اور زمبابوے3 ون ڈے انٹرنیشنل پاکستان کے ساتھ کھیلے گا۔

پاکستانی ٹیم کے سب سے زیادہ16 ٹیسٹ انگلینڈ سے ہونے ہیں، نیوزی لینڈ 13، بھارت12 آسٹریلیا11 اور سری لنکا 10 پانچ روزہ میچز میں گرین کیپس کے مقابل ہونگے،ویسٹ انڈیز سے6، بنگلہ دیش 4 ، جنوبی افریقہ3 اور زمبابوے 2 ٹیسٹ میں پاکستان کا سامناکریگا۔ سب سے زائد 11ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میں بھارت سے ٹکرائو ہونا ہے، انگلینڈ سے 9، نیوزی لینڈ8، جنوبی افریقہ 5، سری لنکا وویسٹ انڈیز 4،4، آسٹریلیا3 جبکہ بنگلہ دیش اور زمبابوے سے مختصر طرز کے 2، 2 میچز شیڈول کا حصہ بنائے گئے ہیں۔