جی ڈی پی کی شرح نمو 5 سال کی بلند ترین سطح 41 فیصد تک پہنچ گئی اسٹیٹ بینک

کاروبار دوست پالیسیوں اور بیرونی رقوم کی آمد کے نتیجے میں معیشت میں بہتری آئی، ایس بی


Business Reporter July 11, 2014
ٹیکس وصولی کی کارکردگی قابل رشک نہیں، صوبائی حکومتیں بھی موثرطریقے سے ٹیکس نافذکریں،جینکوز،ڈسکوز،پی آئی اے، ریلوے کی تشکیل نواور روزگار کے نئے ذرائع کیلیے صنعتی پالیسی تشکیل دی جائے،تیسری سہ ماہی رپورٹ۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے معیشت کی کیفیت پرتیسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال14 جاری کردی جس کے مطابق تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستانی معیشت نے بظاہرنیا موڑ لیا ہے۔

معاشی سرگرمیوں کی بحالی مالی سال14 میں اہم پیش رفت ہے۔ حقیقی جی ڈی پی نمو4.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو 5سال کی بلندترین نموہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برسوں تک پست نمو کے بعد معیشت کے بارے میں احساسات بظاہر بہترہوئے ہیں۔ اس کی عکاسی حقیقی جی ڈی پی نموکی دوبارہ افزائش، نجی شعبے کوقرضے میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو، گرانی کے امکانات میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائرکے تیزی سے بڑھنے اورشرح مبادلہ کے بڑھنے اور بعدازاں مستحکم ہونے سے ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہاگیا کہ معیشت میں بہتری توانائی کی قلت سے نمٹنے کے لیے حکومت کے عزم، کاروباردوست پالیسیوں کے بڑھتے ہوئے تاثر اور بیرونی رقوم کی آمد کا نتیجہ ہے جوحال ہی میں موصول ہوئی ہیں۔ خاص طورپر تھری جی، فورجی لائسنسوں کی نیلامی، یوروبانڈ کے توسط سے توقع سے بڑھ کر آمدرقوم، بین الاقوامی مالی اداروں سے پروگرام قرضوں اور زرمبادلہ کو سہارا دینے کی اسٹیٹ بینک کی کوششوں نے ملک کے بیرونی شعبے کے تناظرکو بہت بہتربنایا ہے اورکسی قدر مالیاتی پوزیشن کوبھی۔ تاہم رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بہتری کی ان علامات کی بنا پرمعیشت کودرپیش مشکلات نظرانداز نہیںکی جانی چاہئیں اور بے حدضروری ساختی اصلاحات کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

اس مثبت صورتِ حال سے وسط مدت میں پائیدارمعاشی نموکی جانب پیشرفت کے لیے مضبوط پلیٹ فارم مل گیاہے۔ رپورٹ کے مطابق ان رقوم کی آمدسے نہ صرف شرح مبادلہ مستحکم ہوئی بلکہ اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائربھی تیزی سے بڑھ گئے۔ 30مئی 2014کو اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر8.7 ارب ڈالر ہوگئے جبکہ آخر دسمبر2013 میں صرف 3.5ارب ڈالرتھے۔ پاکستانی روپے کی قدربڑھنے سے کاروباری احساسات بہترہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جولائی تا مارچ14 کے دوران اوسط گرانی 8.6فیصد تھی۔ مستقبل میں پاکستانی روپے کااستحکام، تیل کی مستحکم بین الاقوامی قیمتیں اوراجناس کی معتدل عالمی قیمتیں گرانی کی توقعات کوقابو میں رکھیں گی۔

رپورٹ میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ اخراجات کے حوالے سے مالیاتی استحکام کی کوششوں کے باوجود ٹیکس کی وصولی کی کارکردگی اب بھی قابل رشک نہیں کیونکہ ایف بی آرپست ٹیکس بنیادپر کام کررہا ہے۔ صوبائی حکومتوں کوبھی صوبائی ٹیکسوں کے زیادہ مؤثرنفاذ کی ضرورت ہے۔ اس امرکو بھی اجاگرکیا گیاکہ مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 60فیصد سے پہلے ہی تجاوز کرچکا ہے جومالیاتی ذمے داری کے لیے مقرر کردہ حدہے۔ چنانچہ بیرونی قرضے میںاضافے کے ساتھ کم از کم ملکی واجب الادا قرضے میں اتنی ہی کمی کی جانی چاہیے۔ پالیسی سازوںکو ایک صنعتی پالیسی تشکیل دینی چاہیے جس میں پیداواری کارگزاری اور روزگار کی تخلیق کوترجیح دی جائے۔ مسابقت کی ترویج، جینکوز، ڈسکوز، پی آئی اے اورریلوے کی تشکیل نوکی جائے۔