بند یونٹس کی بحالی سے برآمدات 1 ارب ڈالر بڑھیں گی خرم دستگیر

ایک لاکھ افراد کو روزگار بھی مہیا ہوگا، بند یونٹس کی بحالی کیلیے حکمت عملی بنارہے ہیں، وفاقی وزیر تجارت


Numainda Express July 17, 2014
ایک لاکھ افراد کو روزگار بھی مہیا ہوگا، بند یونٹس کی بحالی کیلیے حکمت عملی بنارہے ہیں، وفاقی وزیر تجارت فوٹو : این این آئی/فائل

وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بند ٹیکسٹائل یونٹوں کو دوبارہ چلا کر پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں تقریباً ایک ارب ڈالر کا سالانہ اضافہ اور روزگار کے ایک لاکھ نئے مواقع پیدا کریں گے۔

بند ٹیکسٹائل یونٹوں کو دوبارہ چلانے کے لیے نجی شعبے کی مدد سے حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں، ٹیکسٹائل کی صنعت کی مالی مشکلات دور کرنے کے لیے بینکوں سے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اسٹیٹ بینک کے حکام قائل کریں گے۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ موڈیز انٹرنیشنل نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ منفی سے مستحکم کر دی ہے، انسانی حقوق اور سیاسی استحکام سے متعلق پاکستان کے اعدادوشمار بہتر ہو رہے ہیں جس کی بدولت عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے خریداروں اور پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

وفاقی وزیر نے وفد کو ہدایت کی کہ انھیں بند ٹیکسٹائل یونٹوں کی تعداد، بند ہونے کی وجوہ اور اس کے نتیجے میں بیروزگار ہونے والے کارکنوں کی مکمل تعداد سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار مہیا کیے جائیں تاکہ وزارت تجارت ان معلومات کی روشنی میں بند یونٹوں کی بحالی کے لیے اپنی حتمی تجاویز پیش کر سکے۔ وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ ان بیمار یونٹوں کے دوبارہ چلنے سے 25 سے 30 ہزار خواتین ورک فورس کو روزگار مہیا ہوگا اورپاکستانی ٹیکسٹائل کی صنعت عالمی منڈی میں اپنے کھوئے ہوئے خریدار دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔

وزیر تجارت نے وفد کو اپنی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی ایک کلو کپاس سے 4 سے 5 ڈالر کما رہا ہے جبکہ حکومت کا ویژن ہے کہ اس آمدن کو 15 ڈالر فی کلو سے زائد پر لے کر جائیں گے۔ وفد نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ چیمبر کے عہدیداران متعدد عالمی این جی اوز کو پاکستانی ٹیکسٹائل کی صنعت میں کارکنوں کو عالمی قوانین کے مطابق مہیا کی جانے والی سہولتوں سے آگاہ کر رہے ہیں جس سے انسانی حقوق سے متعلق پاکستان کے اعدادوشمار میں مثبت تبدیلی متوقع ہے۔