ورلڈ چیمپئن جرمنی کو 10 سال کی محنت کا صلہ مل گیا

پاکستان میں فٹبال کو وہ مقام حاصل نہیں جو کرکٹ کا ہے یا ماضی میں ہاکی کا ہوتا تھا


Abbas Raza July 21, 2014
جرمن کوچ نے ماریو گوٹزے کا اعتماد یہ کہہ کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا کہ ’’تم میسی سے بہتر کھلاڑی اور گول کرکے جرمنی کو ورلڈکپ جتوا سکتے ہو۔‘‘ فوٹو: فائل

فٹبال ورلڈ کپ میں کھیلے گئے 64 میچز میں مجموعی طور پر 171 گول ہوئے، گیند کو جال میں پھینکے جانے کے مناظر دنیا بھر کے کروڑوں شائقین نے بار بار دیکھتے ہوئے کھلاڑیوں کی برق رفتاری، ہوشیاری اور مہارت پر داد تحسین کے پھول نچھاور کیے۔

بیشتر ٹیموں کے جاندار کھیل کی بدولت گولز کے علاوہ 187 یلو اور 10 ریڈ کارڈ فاؤل سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنے، تاہم جرمنی کو ورلڈ چیمپئن بنانے والا کرشماتی گول کرنے والے ماریوگوٹزے نے قبل ازیں ایونٹ میں سامنے آنے والے تمام ہیروز کے کارنامے دھندلا دیئے۔ ایک بروقت فیصلہ، ایک تھپکی کسی کی دنیا بدل سکتی ہے۔ اس کی مثال ''میریکل بوائے'' کے چند منٹ کے کھیل میں سامنے آئی۔ ڈچ ٹیم کے کوچ لوئس وان گال نے ایک میچ میں گول کیپر کی تبدیلی سے پنالٹیز میں حریف کو زیر کرنے کا نسخہ ڈھونڈ لیا تھا لیکن ارجنٹائن کیخلاف سیمی فائنل میں انہوں نے اپنا کامیاب تجربہ دہرانے سے گریز کیا اور نقصان بھی اٹھایا۔

دوسری طرف جرمن کوچ جوشملیو نے فیصلہ کن معرکے میں سخت لڑائی کے بعد ایک تازہ دم سپاہی کو میدان میں اتارا جنہوں نے حریف کے دفاع میں ایسا شگاف ڈالا کہ اسے پُر کرنا ناممکن ہوگیا، کوچ نے ماریو گوٹزے کا اعتماد یہ کہہ کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا کہ ''تم میسی سے بہتر کھلاڑی اور گول کرکے جرمنی کو ورلڈکپ جتوا سکتے ہو۔'' جوشم لیو نے بجا طور پر اپنی فتح کو 10 سال کی محنت کا ثمر قرار دیا ہے، قوموں کی طرح عالمی ایونٹس جیتنے والی ٹیمیں بھی راتوں رات نہیں بن جاتیں، کھلاڑیوںکو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنانے اور کمبی نیشن تشکیل دینے کیلئے طویل مدت پلاننگ اور سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگرچہ فائنل میں ارجنٹائن نے سخت مزاحمت کرتے ہوئے جرمنی کو بھر پور چیلنج دیا تاہم ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر چیمئنز کی کارکردگی ہی سب سے بہتر نظر آتی ہے۔ میگا ایونٹ کی فاتح ٹیم نے سب سے زیادہ 18 گول کیے جن میں سے 15 فیلڈ میں براہ راست حملوں کی صورت میں ہوئے، نیدر لینڈ نے 15، کولمبیا نے 12 جبکہ برازیل نے 11 گول داغے۔ جرمنی نے بال پر قبضہ برقرار رکھنے میں بھی دیگر ٹیموں کو پیچھے چھوڑ دیا، ٹورنامنٹ میں ایک کھلاڑی سے دوسرے کو اوسطاً 1583 پاس فی میچ مکمل ہوئے، جرمنی نے مجموعی طور پر 4157 کامیاب پاس دیئے جن میں 1017 شارٹ، 2763 میڈیم اور 377 لانگ تھے، ورلڈ چیمپئن ٹیم کے کپتان کے 86.3 فیصد پاس درست رہے۔



ایونٹ کے دوران سب سے زیادہ متحرک رہنے والے کھلاڑی بھی جرمن سٹار تھوماس ملر تھے جنہوں نے میچز کے دوران 83957 میٹر فاصلہ طے کیا۔ دوسری طرف لیونل میسی کے بل بوتے پر ورلڈ کپ جیتنے کی خواہشمند ارجنٹائن ٹیم کو ضرورت سے زیادہ توقعات کے بوجھ نے پریشان کیا، سال بھر میدانوں پر راج کرنے والے میسی نے ایسے سنہری مواقع ضائع کیے کہ سابق سٹار ڈیگو میراڈونا نے ان کا ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کے طور پر انتخاب ہی غلط قرار دیدیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گولڈن بال کے حق دار ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکور کولمبین سٹار جیمز روڈ ریگز تھے۔ میراڈونا کے مطابق میسی خود بھی ایوارڈ کی توقع نہیں رکھتے تھے، اسی لیے سٹیج پر جاتے ہوئے جھجک کا شکار نظر آئے۔ یاد رہے کہ جرمنی نے چوتھی بار ورلڈ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ 1954ء میں مغربی جرمنی نے فائنل میں ہنگری کو 3-2 سے شکست دے کر پہلی بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ 1974ء کے میگاایونٹ کے میزبان کی حیثیت سے مغربی جرمنی نے ہالینڈ کیخلاف فائنل میں 2-1 سے فتح کے ساتھ دوسری بار ٹائٹل اپنے نام کیا، اٹلی میں ورلڈ کپ 1990ء جرمنی کا تیسرا عالمی اعزاز تھا، فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو واحد گول سے مات ہوئی، برازیل میں یہی دونوں ٹیمیں فیصلہ کن معرکے میں مقابل ہوئیں، تاہم اب تاریخ میں پہلی بار مغربی کے بجائے متحدہ جرمنی نے ٹائٹل جیتا ہے۔

پاکستان میں فٹبال کو وہ مقام حاصل نہیں جو کرکٹ کا ہے یا ماضی میں ہاکی کا ہوتا تھا، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ برازیل میں ورلڈ کپ کا ایک ایک مقابلہ شائقین کی بھر پور توجہ کا مرکز بنا، دنیا بھر کے کرکٹرز کے گن گانے والے شائقین فٹبال سٹارز سے اتنے واقف ہوچکے ہیں کے سامنے آجائیں تو فوری پہچان لیں گے، لیاری میں برازیل کے پرستاروں کی خوشیوں اور مایوسیوں کو میڈیا پر بھر پور توجہ ملی تو دوسری طرف ملک بھر میں شائقین اپنی فیورٹ ٹیموں کو سپورٹ اور تبصرے کرتے نظر آئے، ٹی وی چینلز پر اشتہارات اور سپانسرز کی بھی کوئی کمی نہ تھی، خاص طور پر فائنل میچ کے دوران لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ان کے چہروں پر بیتابی صاف دیکھی جاسکتی تھی، اس دوران عزیزوں، دوستوں سے فون کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔



پاکستان کی فٹبال ٹیم ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائنگ راؤنڈ کے ابتدائی مراحل میں ہار کر ایشیائی سطح پر بھی اپنا وجود منوانے میں ناکام رہی، اس کے باوجود عوام خاص طور پر نوجوانوں کی کھیل میں بھر پور دلچسپی کو پیش نظر رکھتے ہوئے بہتر مستقبل کی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں،سٹریٹ چائلڈز کے مختلف شہروں میں استقبال اور ورلڈ کپ میچز کی بھرپور پذیرائی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانیوں میں فٹبال کا شعور اور شوق مزید اجاگر کیا جاسکتا ہے۔

تاہم فی الحال مناسب مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اس ضمن میں کوئی زیادہ پیش رفت نہیں ہورہی، حکومت اور فٹبال فیڈریشن مل کر کوئی مربوط حکمت عملی بنائیں تو بتدریج اس کھیل کو بھی کرکٹ کی طرح مقبول بنایا جاسکتا ہے۔ پاکستان پریمیئر لیگ کے مزید پروفیشنل انداز میں منظم کرنے سے کھلاڑیوں میں فٹبال کیلیے کشش بڑھے گی،نیا ٹیلنٹ سامنے آنے سے آئندہ 8 یا 10 سال میں پاکستان کم از کم ایشیائی سطح پر اپنا لوہا منواکر عالمی مقابلوں میں جلوہ گر ہونے کا اعزاز حاصل کرسکتا ہے۔ قدرتی ٹیلنٹ کے بل بوتے پر ہم کرکٹ میں ایک طاقت کے طور پر پہچان بناسکتے ہیں تو فٹبال میں کیوں نہیں؟

حال میں پاکستان کے فٹبالر کلیم اللہ کا اگلے دو سال کے لیے کرغزستان کے چیمپئن کلب ڈروڈوئی ایف سی سے 10 ملین روپے کا معاہدہ خوش آئند ہے، ان کے ساتھ محمد عادل بھی کنٹریکٹ پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ گرین شرٹس کو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ہمراہ ایکشن میں نظر آنے کے مواقع ملتے رہیں تو ان کی مالی مشکلات کم ہوں گی جس سے دیگر نوجوانوں کا بھی حوصلہ بڑھے گا۔

[email protected]