فوج اور پارلیمنٹ میں مشاورت ہونی چاہیے رضا ربانی

وزیرستان میںآپریشن کافیصلہ سیاسی وعسکری قیادت مل کرکر ے،امریکا کودبائوڈالنے سے گریزکرناہوگا


News Agencies/Monitoring Desk September 23, 2012
وزیرستان میںآپریشن کافیصلہ سیاسی وعسکری قیادت مل کرکر ے،امریکا کودبائوڈالنے سے گریزکرناہوگا،نیشنل سیکیورٹی کونسل نہیںبننی چاہیے. فوٹو: ایکسپریس/فائل

قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹررضاربّانی نے کہاہے کہ فوج اور پارلیمنٹ میںمشاورت ہونی چاہیے۔

حتمی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے، شب خون مارنیوالوںکی حمایت نہیںکی جاسکتی،شمالی وزیرستان میںآپریشن کرنے یانہ کرنے کافیصلہ پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت کومل کر کرناہے، امریکا کواس حوالے سے دبائوڈالنے سے گریزکرنا چاہیے،ڈرون حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں،لاپتہ افرادکے معاملے پرتواقوم متحدہ اپناکمیشن پاکستان بھجوادیتاہے لیکن ڈرون حملے انھیںنظرنہیںآتے،دُہرے معیارکی وجہ سے اقوام متحدہ خودمختاربین الاقوامی ادارہ نہیںرہاوہ امریکا کاغلام ہے،یوتھ پارلیمنٹ سے ا ن کاکہناتھاکہ اقوام متحدہ نے ڈرون حملوںکوعالمی قوانین کی خلاف ورزی قراردیا،پارلیمنٹ نے ڈرون حملوں کے خلاف قراردادیںمنظورکیں۔

تاہم امریکا نے ان سب کی پروانہیںکی،انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے اچھی ابتداکی،فوج نے بھی قدم بڑھایا،اس ابتداکواب ختم نہیں کیاجاسکے گا،جمہوریت میںفوج کوپارلیمنٹ وعوام کے تابع ہوناپڑتاہے،قیام پاکستان کے آغازسے ہی ملک میںسول وملٹری بیوروکریسی نے جنم لے لیاتھا،موجودہ حکومت ہویاکوئی اور،وہ اس بیوروکریسی کی یرغمالی رہی ہیں،انھوںنے کہاکہ موجودہ عدلیہ ملک کی پہلی عدلیہ ہے جس نے آمرکے اقدام کی توثیق نہیںکی،نیشنل سیکیورٹی کونسل نہیںبنناچاہیے کیونکہ یہ ایک فوجی آمرکے ذہن کی اختراع ہے،اس کے بجائے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کومضبوط بنانا چاہیے،انھوںنے کہاکہ اب ہماراملک ایک وفاق کے بغیرزندہ نہیںرہ سکتا۔

رضاربّانی کا کہناتھاکہ یوم عشق رسول ؐکے موقع پراحتجاج میں پُرتشدد واقعات سے عاشقان رسول ؐ کو نقصان ہواہے،انھوںنے کہا کہ انقلاب کے ذریعے ہی قائم ہونے والی حکومت فوجی آمرکا ٹرائل کرسکتی ہے، انتخابی راستے سے آنے والی حکومتیںآمروں کااحتساب نہیںکرسکتیںکیونکہ یہ پورے ادارے کے خلاف اقدام تصورکیاجائے گا،فوج کے سبکدوش افسران کاسول اداروںکواحتساب کرناچاہیے اس حوالے سے کوئی مقدس گائے نہیں،انھوں نے کہاکہ اداروں کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہے،عدلیہ اورحکومت کے درمیان محاذآرائی کی فضاکا تاثربھی درست نہیں،کیایہ وہی پارلیمنٹ نہیںہے کہ جس نے اٹھارہویں ترمیم پرعدالت عظمیٰ کی آبزرویشن کومد نظر رکھ کر19 ویںترمیم منظورکی،این آراو عملدرآمدکیس میںوزیراعظم کوگھرجاناپڑا،قوم کوفکرمندہونے کی ضرورت نہیں،عدلیہ اور حکومت کے درمیان تصادم نہیں،تبدیلی کے عمل سے ضرورگزررہے ہیں۔