جب تک ضمیر زندہ ہے
مسلم اُمہ کے ہزار ہا افراد اعتکاف میں بیٹھ گئے ہیں اور وہ جو باہر ہیں انھیں افطار کی تیاریوں سے فرصت نہیں۔
ٹیلی وژن اسکرین پر تنگ گلیوں اور اونچے نیچے گھروں کا منظر نامہ چند لمحوں کے لیے نظر آتا ہے اور پھر دھماکے سنائی دیتے ہیں۔ گھر' دیوار و در مٹی کا ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ ان میں رہنے والے جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں۔ مائیں بچوں کو کلیجے سے لگائے' نوجوان اپنے بوڑھے باپ کو سہارا دیتے ہوئے اور جوان نو عمر لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ کر جائے پناہ کی تلاش میں دوڑتے ہوئے۔ لیکن پناہ کہیں نہیں ہے۔
فلسطین کے مشہور اور دل گیر شاعر محمود درویش نے کیا غلط کہا تھا کہ میرے ذہن میں اپنے گھر کی کوئی تصویر نہیں بنتی اور بنے بھی کیسے کہ میں اب تک 20 سے زیادہ مکان بدل چکا ہوں۔ ہر مکان میں میری کچھ چیزیں چھوٹ جاتی ہیں۔ کتابیں' ڈائریاں' جوتے اور قمیصیں۔ اتنے بہت سے مکان بدلنے کے باوجود کوئی بھی میرا گھر نہ ہو سکا۔ یہ صرف محمود درویش کا نہیں' تمام فلسطینیوں کا ذاتی تجربہ ہے۔ یہ ایک ایسا ڈراؤنا خواب ہے جو مسلسل سفر میں ہے اور جس سے آنکھ نہیں کھلتی۔ کیا بوڑھے اور کیا جوان' کیا عورتیں اور بچے سب ہی ایک غیر حقیقی دنیا میں زندہ ہیں۔
غزہ کی گلیاں اور گھر خون کے تھالوں سے بھر گئے ہیں مردہ خانوں میں میتوں اور اسپتالوں میں زخمیوں کی تصویروں سے دنیا بھر کے اخباروں کے صفحۂ اول بھرے ہوئے ہیں۔ آج اتنے مارے گئے۔ ان میں شیر خوار کتنے تھے اور نوجوان کتنے۔ عورتوں کی ہلاکت کی تعداد بھی بتائی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ' سلامتی کونسل' آرگنائزیشن آف اسلامک کونسل' حماس کے رہنما خالد مشعل' اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو' 53 اسلامی ملکوں کے سربراہ جن میں خادم حرمین شریفین بھی شامل ہیں' ان کے علاوہ امریکی صدر براک اوباما اور روسی وزیر اعظم ولادی میر پیوٹن سب ہی سے التجا کی جا رہی ہے' اُمید باندھی جا رہی ہے کہ وہ آگے آئیں گے اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے غزہ پر اسرائیلی حملہ اور دوسرے مرحلے میں اس کا محاصرہ ختم کروائیں گے۔ تمام آہ و بکا اور داد فریاد کے باوجود کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔
مسلم اُمہ کے ہزار ہا افراد اعتکاف میں بیٹھ گئے ہیں اور وہ جو باہر ہیں انھیں افطار کی تیاریوں سے فرصت نہیں۔ یوں بھی عید سر پر آ پہنچی ہے اور اس کے انتظام و انصرام میں بھی کروڑوں فرزندان اسلام مصروف ہیں۔ یوں بھی شام' عراق' مصر' لیبیا' افغانستان سے بمباری کی خبریں آ رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق شام میں قیامت کا جو رن پڑا ہے' سنا ہے اس میں 3 لاکھ مسلمان کھیت رہے۔ اس جنگ میں مارے جانے والوں اور مارنے والوں میں سب ہی مسلم اُمہ کے افراد تھے۔ سب ہی نے کلمہ پڑھتے ہوئے ایک دوسرے کو ذبح کیا' بمباری سے ہلاک کیا۔ مسلم تاریخ کے بے مثال اور بے بدل شہر کھنڈر کر دیے گئے۔ ایک مسیحی نام جس کا رابرٹ فسک ہے' وہ گریباں چاک کرتا ہوا دمشق' موصل اور حلب کی گلیوں میں گھومتا پھرا۔
لیجیے... بات پھر کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔ ذکر تھا غزہ کے محاصرے اور اسرائیلی فوجیوں کی جنگی کارروائیوں کا۔ فلسطینیوں سے گہرا عشق رکھنے والوں کو مسلم اُمہ اور مسلم اکابرین سے فلسطینیوں کے لیے امن قائم کرنے کی کتنی ہی اُمیدیں اور خواہشیں ہوں۔ لیکن میرے دل میں تمام نامی گرامی رہنماؤں کی ایسی کوششوں کے بارے میں اُمید کا کوئی اکھوا نہیں پھوٹتا۔
امن کا توشہ اور تبرک بانٹنے والوں میں مجھے تمام اُمیدیں اُن کمزور اور بے بضاعت ادیبوں' شاعروں اور صحافیوں سے ہیں جن میں سے بہت سے یہودی النسل ہیں' اسرائیل کے شہری ہیں یا امریکا اور یورپ میں آباد ہیں لیکن جن کے ہاتھ سے انصاف کا دامن نہیں چھوٹتا۔ مجھے للین روزن گارٹن کا خیال آتا ہے جس کی عمر 73 برس ہو چکی۔ اس کے والدین اپنی اس شیر خوار بچی کو گود میں چھپا کر نازیوں کے ظلم و ستم سے بچا کر جرمنی سے فرار ہوئے تھے۔ للین کی عمر کا بیشتر حصہ امریکا اور دنیا کے دوسرے ملکوں کی رہ نوردی میں گزرا۔ اس کا ہر سفر اس علاقے میں امن کی کوششوں سے متعلق تھا۔ اس نے جب غزہ کے شہریوں کے لیے امدادی قافلے کے ساتھ سفر کیا' فلسطینیوں کے لیے درد سے بھری نظمیں لکھیں تو اسرائیلی حکمران اس قدر برہم ہوئے کہ اسرائیل میں اس کے داخلے پر پابندی عاید کر دی گئی۔ اس کا بے باک لہجہ انھیں برا فروختہ کر گیا۔
اسرائیل دنیا بھر کے یہودیوں کو پناہ دینے کے لیے وجود میں آیا تھا لیکن اسی ریاست میں للین کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ وہ یہ بنیادی سوال اُٹھاتی ہے کہ کل کے مظلوم آج کے ظالم کیسے بن گئے؟ اس نے غزہ میں رہنے والوں کے لیے نوحے لکھے۔ اس نے کہا کہ میں گھروں' بازاروں' گلیوں اور میدانوں میں کس دل سے سیر کو نکلوں جنھیں اپاچی ہیلی کاپٹروں سے چلائے جانے والے میزائیلوں نے ملیا میٹ کر دیا۔ وہ ہنستے گاتے انسان جو شرم ناک گولہ باری سے جلے ہوئے گوشت کا ڈھیر ہو گئے' ان میں سے بچ جانے والوں سے میں کس طرح آنکھیں چار کروں۔ مسمار کیے جانے والے محلوں سے فلسطینی خچروں اور گدھوں پر بیٹھے جائے امان تلاش کرتے ہیں۔ ان کے لیے کھانا اور پانی نہیں۔ ان کے سر پر کوئی سائبان نہیں اور ان کے لیے کوئی گھر باقی نہیں بچا ہے۔
وہ سوال اٹھاتی ہے اُمید کہاں چلی گئی اور زیتون کے وہ کنج جن سے مجھے عشق تھا وہ نظر کیوں نہیں آتے۔ مجھ میں ہمت نہیں کہ میں مظلوموں کی طرف کھلی بانھوں سے بڑھوں۔ کیا وہاں کوئی مجھے سینے سے لگا لے گا۔ میں شرم سے سر جھکائے ہوئے ان کی طرف جاتی ہوں جن کے رشتے ان سے چھین لیے گئے اور جو گھر کی آسائیش سے محروم کر دیے گئے۔
یہ صرف للین کے خیالات ہی نہیں' دوسرے بہت سے اسرائیلی شاعر اور ادیب ہیں جو اس طرح سوچتے ہیں اور اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر اپنے جنونی حکمرانوں کے غیظ و غضب کا سامنا کرتے ہیں۔ ان میں سے کتنے ہی لکھنے والے ہیں جنھوں نے فلسطینیوں کا ساتھ دینے اور ان کی ہمدردی میں شاعری کرنے کے جرم میں جیل کاٹی' نوکریوں سے محروم کیے گئے۔ ان میں سے ایک مرد کئی ونونو ہے جس نے اسرائیلی ریاست کے خفیہ ایٹمی ہتھیاروں کا بھانڈا پھوڑا اور لگ بھگ دو دہائیوں کی قید تنہائی کاٹی۔ ان میں وہ سیکڑوں فوجی ہیں جنھوں نے نہتے اور بے گناہ فلسطینیوں پر گولی چلانے سے انکار کیا۔
چند دنوں پہلے اسرائیل کے جنگی طیاروں نے غزہ کے جن فن کاروں کے گھروں کو ملیا میٹ کیا ان میں سے ایک رعید عیسیٰ ہے جس کے فن پارے جل گئے۔ ان میں سے ایک عثمان حسین ہے' فلسطین کا ایک نامور شاعر جس کے گھر پر ایک ٹینک سے گولے برسائے گئے۔ اس کے اہل خانہ اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے لیکن اس کی کتابوں کو آگ نگل گئی۔
فلسطینی ادیب اور شاعر اپنا غم و غصہ اور اپنا درد و الم کاغذ پر منتقل کر رہے ہیں۔ وہ صرف شعر نہیں کہتے' کہانیاں بھی لکھتے ہیں۔ ایسے اشاعتی ادارے ہیں جو ان فلسطینی اور اسرائیلی لکھنے والوں کی تحریریں شائع کرتے ہیں جنھوں نے زندگی' روزی اور روزگار سب ہی داؤ پر لگا دیا ہے۔ ان میں نیروزقرموط' نجلا عطااللہ اور کئی دوسرے شامل ہیں۔
یہ وہ لکھنے والے ہیں جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان نفرتوں کی خلیج پاٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری تمام اُمیدیں ان ہی لوگوں سے وابستہ ہیں جو دلوں کو نفرت کے زہر سے آلودہ نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہ نہیں کہتے کہ ہمارا انتقام ہی اس جنگ کے شعلے سرد کر سکتا ہے۔
مجھے فلسطینی شاعرہ سمیعہ القاسم کی ایک نہایت مختصر نظم یاد آتی ہے۔ اس نے کہا:
میں تمہیں اس بلبل کا قصہ سناتی
جس نے جان دے دی
لیکن میں اس کی داستان الم تمہیں کیسے سناؤں
وہ میری زبان کتر کر لے گئے ہیں!
یہ حوصلہ اور یہ جی داری صرف لکھنے والوں کے حصے میں آتی ہے کہ ان کی زبان کتر دی جائے تب بھی وہ کسی نہ کسی انداز سے اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور اس بلبل کا قصہ سناتے ہیں جس کے دل کا درد لوگوں کے دلوں میں ہوک اٹھاتا ہے اور انھیں ان لوگوں سے جوڑتا ہے جو بم دھماکوں کی آواز میں بھی بلبل کا نغمہ سنتے اور سناتے ہیں۔ ایسے با ضمیر انسان جب تک موجود ہیں' ظلم کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ نہ فلسطین میں اور نہ کہیں اور...!