بھارتی آلو کی سخت قرنطینہ جانچ کو یقینی بنانیکا مطالبہ

زرعی بیماریاں، پیسٹ پھیلنے کا خدشہ ہے، مکئی کا ہیلمٹ نامی پیسٹ بھی بھارت سے آیا تھا


Business Reporter July 28, 2014
آلو کی افغانستان اسمگلنگ کو روکنا ہوگا، فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس۔ فوٹو: فائل

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے بھارت سے آلو کی درآمد پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی آلو کی سخت قرنطینہ جانچ کو یقینی بنایا جائے۔

ایسوسی ایشن کے شریک چیئرمین وحید احمد نے ایکسپریس کو بتایا کہ واہگہ کے راستے بڑے پیمانے پر بھارتی آلو بغیر کسی قرنطینہ جانچ پاکستان درآمد کیا جارہا ہے۔بھارتی آلو کے ذریعے پاکستان میں زرعی بیماریاں اور پیسٹ پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ماضی میں بھی ہلمٹ نامی پیسٹ بھارت سے پاکستان میں آیا تھا جو مکئی میں پایا جاتا ہے۔ وحید احمد کے مطابق پاکستان میں آلو کی طلب پوری کرنے کے لیے چین اور بنگلہ دیش سے بھی بڑے پیمانے پر آلو درآمد کیا جارہا ہے تاہم سمندری راستے سے درآمد کردہ آلو کی انتہائی سخت قرنطینہ جانچ کی جارہی ہے اور صرف لیبارٹری رپورٹ کلیئر ہونے کی صورت میں ہی آلو کو کلیئرنس مل رہی ہے، تاہم بھارت سے درآمد کیے جانیوالے آلو جو واہگہ کے راستے آرہے ہیں، پاکستان میں بیماریاں پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

پاکستان میں آلو کی مقامی فصل موسمی کی سختی اور قبل از وقت ہارویسٹنگ اور بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کی وجہ سے ناکافی ہے اور اس بات کا قومی امکان ہے کہ پاکستان میں آلو کے بیج بھی ختم ہوجائیں اور پاکستانی آلو کی جگہ بھارتی آلو کے بیج کاشت کردیے جائیں۔ انہوں نے بتایاکہ اب تک چین اور بنگلہ دیش سے 200 سے زائد کنٹینرز پر مشتمل آلو درآمد کیا جاچکا ہے، مزید 800 کنٹینرز کے سودے طے کیے جاچکے ہیں جن میں سے 150 سے 200 کنٹینرز چل پڑے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے 31 جولائی تک ختم ہونے والی آلو کی درآمدی ڈیوٹی اور چھوٹ کی مہلت اب 15 نومبر تک بڑھادی گئی ہے جس کے بعد بڑے پیمانے پر چین سے آلو درآمد کیا جارہا ہے۔

ایک ہزار کنٹینرز کی درآمد اگست کے وسط تک پوری ہوجائیگی جس کے بعد نومبر تک مزید آلو درآمد کیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ 38 لاکھ ٹن آلو پیدا ہوتا ہے تاہم پیداوار گزشتہ سال 26 لاکھ ٹن تک محدود رہی جس میں سے 5 لاکھ ٹن آلو افغانستان اور ایران کی سرحد کے ذریعے اسمگل کردیا گیا۔ آلو کی پیداوار کم ہونے اور بڑے پیمانے پر اسمگل ہونے کی وجہ سے آلو کی قانونی برآمد بھی انتہائی کم رہی۔ سال 2013 کے دوران پاکستان سے 2.5 لاکھ ٹن آلو برآمد کیا گیا تھا تاہم 2014 میں بمشکل 40 ہزار ٹن آلو برآمد کیا گیا۔ آئندہ سیزن آلو کی پیداوار بڑھانے کیلیے آلو کی قبل از وقت ہارویسٹنگ اور اسمگلنگ پر پابندی عائد کرنا ہوگی، بصورت دیگر آئندہ سیزن بھی آلو کی قلت کا سامنا کرنا پڑیگا۔