حکومت نے لانگ مارچ کو سیریس نہیں لیا فواد چوہدری

اب عدلیہ نوٹس لے یا فوج مداخلت کرے، تجزیہ کار کی سیاست اور قانون میں گفتگو


Monitoring Desk August 02, 2014
آرٹیکل 245 کے نفاذ کا حتمی فیصلہ13اور14اگست کی درمیانی رات ہوگا،شاہ زیب خانزادہ۔ فوٹو: فائل

تجزیہ کار فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت کی ناکامی ہے کہ ابھی تک14 اگست کے مارچ کو سیریس نہیں لیا گیا ۔عدالت کو صورتحال کے مطابق 184 کے اختیارات استعمال کرنے چاہئیں۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام سیاست اورقانون میں میزبان اسد اللہ خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کی منظوری پارلیمنٹ دیتی ہے سیاسی لحاظ سے اس کانفاذ مناسب نہیں ہے کیونکہ اس کے نفاذ سے انسانی حقوق سلب ہوجاتے ہیںعدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔حکومت کی کامیابی اس میں ہے کہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے سے پہلے معاملات کو مینج کرلے بیک ڈور سے عمران خان سے رابطے کیے جارہے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے بہت تاخیر کی گئی ہے

۔پیپلزپارٹی اس وقت اپوزیشن کے موڈ میں نہیں ہے اسوقت عمران خان ہی لیڈر ہیں وہ حکومت تبدیل کرنا چاہتے ہیں عمران خان اورطاہرالقادری کے درمیان رابطہ ہوچکا ہے معاملات طے پاچکے ہیں ان کا آخر کار اتحاد ہونا ہی ہونا ہے۔اب دوہی صورتیں ہیں یا عدلیہ نوٹس لے یا پھر فوج مداخلت کرے۔ حکومت کے وزرا کے بیانات آپس میں نہیں ملتے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے سنجیدہ لوگوں کو عمران خان سے مذاکرات کے لئے بھیجیں۔ سانحہ ماڈل ٹائون میں پولیس کو عوام کے سامنے لاکھڑا کیا گیا اور اب فوج کو عوام کے سامنے لایا جارہا ہے۔حکومت اس معاملے کو روکنے کی پوزیشن سے باہر ہوچکی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے ٹی وی اینکر شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ میری رائے ہے کہ حکومت ابھی تک آرٹیکل 245 کے نفاذ میں خود کنفیوز ہے۔13اور14 اگست کی درمیانی رات کو اس کے نفاذ کا حتمی فیصلہ ہوگا۔عمران خان کو نظر بند کرنے والا آپشن آسان نہیں ہے عمران خان کے ساتھ بہت لوگ ہیں وہ الگ بات ہے کہ ان کی موومنٹ قومی موومنٹ نہیں ہے۔ عمران خان کی فلائٹ سولو فلائٹ ہے جس میں وہ دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر نہیں چل رہے۔

عمران خان مڈٹرم الیکشن کی بات کریں گے لیکن نوازشریف نہیں مانیں گے۔یہ طے ہے کہ حکومت مڈٹرم نہیں مانے گی عمران خان کو بھی پتہ ہے کہ وہ کے پی کے میں ڈلیور نہیں کرسکے۔پیپلزپارٹی کی حکومت پر لاکھ اعتراض صحیح لیکن ان کے پاس شخصیات تھیں جو صورتحال کو سنبھال لیتی تھیں لیکن ن لیگ کے پاس شخصیات نہیں ہیں۔جلسہ تگڑا ہو گا لیکن رکے گا نہیں۔عوام کو طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔