اپنی باری کا انتظار کریں
2013ء کے عام انتخابات 1973ء کے اس آئین کے تحت ہوئے جس میں 18 ویں آئینی ترمیم سمیت چند دیگر اہم ترامیم کی جا چکی تھیں۔
2008ء کے عام انتخابات کے بعد سیاسی حالات نے جو رخ اختیار کیا، اس سے یہ اندازہ لگایا جانے لگا کہ اب پِاکستان کے طاقت ور ترین حلقوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ جمہوریت کو چلنے دیا جائے اور اُسے پٹری سے اتارنے کے لیے کسی مہم جوئی سے گریز کیا جائے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی فوجی آمریت کے بعد اقتدار کسی منتخب حکومت کو منتقل کیا جاتا ہے تو یہ عمل ایک طے شدہ مفاہمت کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا ' پیپلز پارٹی کی حکومت نے آمریت سے جمہوریت تک سفر کے اس مشکل عمل کو آسان بنانے میں لچکدار رویہ اختیار کیا جسے مفاہمت کا نام دیا گیا اور اس غیر تحریری مفاہمت کی روح پر ذمے داری سے عمل درآمد کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کو معلوم ہو چکا تھا کہ جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کے ارادے اب کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔
پی پی حکومت کو سیاسی مجبوریوں اور ناگزیر حالات کی وجہ سے کئی سیاسی گروہوں کو اتحادی کے طور پر حکومت میں اپنے ساتھ رکھنا پڑا جس سے اس کی کارکردگی مثالی نہیں رہ سکی اور ہر نوعیت کی تنقید کا نشانہ بھی اس کو ہی بننا پڑا۔ پی پی کے لیے سب سے حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ مسلم لیگ نواز نے اس کے لیے زیادہ مشکلات پیدا نہیں کیں اور جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے پی ایم ایل (ن) نے اُسے ہر طرح کی سیاسی اور پارلیمانی مدد بھی فراہم کی۔
اس سازگار صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے 73ء کے آئین کی بحالی اور اس میں مزید جمہوری تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کام میں اُنہیں مسلم لیگ نواز سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل رہی اور طویل مشق کے بعد آئین میں 18 ویں ترمیم کی متفقہ منظوری دے دی گئی جس سے نہ صرف صوبوں کو غیر معمولی خود مختاری ملی بلکہ آئینی اداروں کو بھی مزید آزاد اور خود مختار بنا دیا گیا۔ طاقت ور اداروں کی جانب سے جمہوریت کو برداشت کرنا اور پارلیمنٹ کی طرف سے آئین اور ریاستی اور آئینی اداروں کو مزید جمہوری اور خود مختار بنانا ایسے دو بنیادی اقدامات تھے جس کی وجہ سے 2008ء میں منتخب ہونے والی جمہوری حکومت نے اپنی آئینی میعا د مکمل کر لی۔
2013ء کے عام انتخابات 1973ء کے اس آئین کے تحت ہوئے جس میں 18 ویں آئینی ترمیم سمیت چند دیگر اہم ترامیم کی جا چکی تھیں۔ انتخابات کا پورا عمل آزاد الیکشن کمیشن' متفقہ الیکشن کمشنر اور حکومت اور حزب اختلاف کی مشاورت سے قائم ہونے والی نگراں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تحت مکمل کیا گیا۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ نواز نے پارلیمنٹ میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کی۔
2008ء میں ایک آمر نے منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا تھا جس کی بنا پر بعض مفاہمتوں کا ہونا قطعاً نا گزیر تھا۔ تاہم' 2013 ء میں ایک منتخب حکومت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کو اقتدار منتقل کیا جس کے لیے کسی پیشگی وعدے یا مفاہمت کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ ایک بالکل نئی صورتحال تھی۔ پاکستان میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کیونکہ ماضی میں ہر بار اقتدار کسی مفاہمت کے بعد ہی نئی سویلین منتخب حکومت کو منتقل کیا جاتا تھا۔ 2013 ء میں اس صورتحال کا رونما نہ ہونا یقیناً ایک خوش آئند بات تھی لیکن اس کے باعث اقتدار میں آنے والی حکومت کے لیے بعض مسائل کا پیدا ہونا بھی فطری تھا۔
ماضی کی حکومتیں پیشگی مفاہمت اور طاقت ور حلقوں کی رہنمائی میں کام کرنے کی عادی تھیں جنھیں ذرا سی حکم عدولی پر نکال باہر کیا جاتا تھا۔ حکومتوں کو آزادانہ طور پِر آئین کے مطابق کام کرنے کا تجربہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انھیں کسی غیر جمہوری دباؤ کا سامنا نہ ہو اور ان کو آئین کے مطابق کام کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے۔ ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ نئی جمہوری حکومت نے یہ ابتدائی مرحلہ نہایت احتیاط سے پورا کر لیا ہے۔
اس دوران چند مسائل ضرور پیدا ہوئے لیکن ان کو دانش مندی سے حل کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی منتخب حکومت چند بنیادی اصولوں کو اپنانے کی کوشش کر رہی ہے تا کہ کسی بڑی غلطی سے بچا جا سکے۔ ان میں سب سے اہم اصول یہ ہے کہ آئین کی پاسداری ہر قیمت پر کی جائے اور کوئی ایسا عمل نہ کیا جائے جو آئین کے منافی ہو۔ اور اگر یہ غلطی کبھی سرزد ہو جائے تو اس کا بلا تاخیر ازالہ کیا جائے۔ دوسرا اصول یہ طے پایا کہ قانون کی حکمرانی کا اطلاق سب پر بلا امتیاز ہونا چاہیے۔
کوشش یہ کی گئی کہ جس قدر ممکن ہو قانون سب کے لیے مساوی ہو خواہ اس کی زد میں اپنے حامی افراد اور اپنی جماعت کے لوگ ہی کیوں نہ آتے ہوں۔ جس تیسرے اصول کو اس سال کے دوران اپنانے کی سعی ہوئی وہ یہ تھا کہ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کیا جائے' قانون کو اپنا راستہ خود بنانے دیا جائے اور کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی مسئلے کا قانون سے ماورا کوئی حل تلاش کرنے سے اجتناب برتا جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اعلیٰ سطح پر کرپشن کا کوئی بڑا اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ اس کی بنیادی وجہ اس اصول پر عمل کرنا تھا کہ ہر معاملے میں شفافیت یقینی بنائی جائے تا کہ کوئی خواہش بھی کرے تو بد عنوانی کا ارتکاب ممکن نہ ہو سکے۔ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس ایک سالہ تجربے کے بعد مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
ملک کے ان سیاستدانوں کے لیے جو فوری اقتدار کے خواہش مند ہیں، یہ ایک غیر متوقع سیاسی صورتحال ہے۔ ان کا تجزیہ تھا کہ طاقت ور حلقے ملک میں جمہوریت کو مستحکم نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو اقتدار اعلیٰ پر ان کی گرفت پہلے کمزور پڑے گی اور پھر بتدریج ختم ہو جائے گی۔
یہ تجزیہ غلط نکلا۔ پہلے پی پی پی اور اب مسلم لیگ نواز کی حکومتوں کو کسی بھی ماورائے آئین طریقے سے ہٹانے کی نہ کوئی بڑی کوشش ہوئی اور نہ دوسروں کی جانب سے ایسی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ سول ملٹری تعلقات میں اتار چڑھاؤ ضرور آتے رہے لیکن بحران پیدا ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سوچ اور حکمت عملی کا اختلاف ہر جماعت اور ادارے میں ہوتا ہے اور یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہوتا ۔ اختلافات کے حل کا مہذب طریقہ آئین اور قانون کے تحت ہمیشہ موجود ہوتا ہے جسے سب کو اختیار کرنا چاہیے۔
فوری طور پر اقتدار کے آرزو مندوں کا دوسرا تجزیہ یہ تھا کہ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ ان پر قابو پانا حکومت کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔ بالخصوص دہشت گردی کے مسئلے سے نپٹنا ممکن نہیں ہو گا اور حکومت دہشت گردوں کی قوت کے سامنے ڈھیر ہو جائے گی۔ اسی سوچ کے تحت حکومت پر دباؤ بنایا گیا کہ اس مسئلے کو طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل کیا جائے اس کے پس پشت غالباً یہ حکمت عملی کار فرما رہی کہ یہ مسئلہ کبھی ختم نہ ہو اور حکومت کو مسلسل دباؤ کی کیفیت میں رکھا جائے۔
تاہم، یہ سوچ بھی درست ثابت نہ ہوئی۔ اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر یہ طے کیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی اور عسکری قیادت میں دوری پیدا کرنے کی متعدد کوششیں ہوئیں مگر وہ بھی ناکام ثابت ہوئیں۔ اس فیصلے کو تمام جمہوری طاقتوں' سول سوسائٹی اور عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور آپریشن جاری ہے ۔
اقتدار کو جلد سے جلد حاصل کرنے کے لیے بے قرار سیاستدانوں کو یقین کامل تھا کہ پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار کی خواہش میں موجودہ حکومت کے لیے مسائل پیدا کرے گی لیکن اب تک یہ بھی نہ ہو سکا۔ پہلے نواز شریف کو اور اب زرداری صاحب کی حزب اختلاف کو فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے دیے جاتے ہیں لیکن پی پی پی جمہوریت کی قیمت پر کسی سیاسی سودے بازی کے لیے آمادہ نہیں ہے۔ ملک کی دونوں سب سے بڑی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی روشنی میں یہ بات طے کر لی ہے کہ غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بننے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا لہٰذا جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہمیشہ متحد رہنا چاہیے۔
اقتدار کے لیے بے چین لوگوں کی خوش گمانیاں ختم ہو رہی ہیں۔ مایوسی ان کے اندر اشتعال پیدا کر رہی ہے۔ اب مزید انتظار کی اذیت ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ سڑکوں پر نکلنے کے جذباتی فیصلے ہو رہے ہیں۔ جمہوریت کو داؤ پر لگا کر اقتدار کی امید رکھنا عبث ہے۔ اب ہمارے عجلت پسند سیاستدانوں کو اپنے اندر برداشت اور انتظار کی عادت ڈالنی ہو گی۔ قومی سطح پر ایک اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے کہ آئین اور قانون کے دائرہ کار میں رہ کر ہی پاکستان کو بچایا جا سکتا ہے۔
آپ بھی اس اتفاق رائے کا حصہ بنیں اور اپنی باری کا انتظار کریں ۔