وہ مل گیا…
آج ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے بلکہ جی تو چاہتا ہے کہ قلم پھینک ،کاغذ پھاڑ کر اٹھ جائیں
آج ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے بلکہ جی تو چاہتا ہے کہ قلم پھینک ،کاغذ پھاڑ کر اٹھ جائیں اور خوب بھنگڑا ڈالیں بلکہ ساتھ ہی گائیں بھی کہ
جو دردست است روزی خوش بگو مطرب سرودی خوش
کہ دست افشاں غزل خوانیم و پاکوباں سراندازیم
ترجمہ : اے مطرب جب اتنا اچھا دن ہاتھ آیا ہے تو بجا سرود، کہ میں ہاتھ پھیلا پھیلا کر گاؤں اور پاؤں مار مار کر ناچوں ۔۔۔ لیکن ڈرتے ہیں کہ اس عمر میں ''دست افشاں و باکوبان'' کے نتیجے میں کسی ماہر ''ہڈی و پٹھ'' کے پاس نہ پہنچ جائیں، نہ اٹھنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ جو تصویر ہم نے دیکھی ہے مارے خوشی کے دل اتنا بے قابو ہو رہا ہے کہ اگر گھنٹوں سے سنبھالا نہ دیں تو سینے کی دیواریں توڑ تاڑ کر باہر نہ جا پڑے، کیا پتہ نادان بچے سے کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے بلکہ اس کا ریکارڈ بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔
ایک مرتبہ ایسا ہو چکا ہے کہ جب کنڈولیزا رائس کی افغانستان آنے کی خبر آئی تو فوراً طورخم کی طرف دوڑ گیا، بڑی مشکل سے ہم نے اسے لنڈی کوتل کے مقام پر جا پکڑا تھا، چلیے سپنس دور کر ہی دیں، آج ہم نے وہ ''چہرہ'' دیکھ ہی لیا جس کے بارے میں ایک عرصہ سے ہم نالاں تھے کہ
وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کی آنکھیں ترسیاں ہیں
اس تصویر میں سامنے تو شہباز شریف بیٹھا ہیں اگرچہ انھیں دیکھ کر بھی ''اک تیر'' سا دل ول میں لگا لیکن سنبھل گئے، کیونکہ ان کے اور ان کے بڑے بھائی دونوں کے ساتھ اب ہماری ''کٹی'' ہو چکی ہے، ہماری نہ سہی ان کی ہمارے ساتھ سہی لیکن ''کٹی'' بہرحال ہو چکی ہے جو اپنے کام نہیں آتا اس کا ہمیں نام نہیں آتا، وہ اصل ''مقناطیس'' پیچھے کی صف میںموجود تھا جس نے ہماری آنکھوں کو ایک جھٹکے سے کھنیچا اور وہیں پر فکس کر دیا۔ ساری دنیا جیسے تھم سی گئی کراں تاکراں سب کچھ ساکت و جامد ہو گیا تھا، پوری کائنات میں صرف ایک ہی آواز گونج رہی تھی، وہ ہمارے دل کی دھڑکن تھی، ہاں ایک باریک سی آواز نصرت فتح علی خان کی بھی تھی جو فلم دھڑکن کی قوالی میں لفظ دھڑکن پر ہی گھوم رہی تھی دھڑکن دھڑکن (x ایک ہزار)
بگیر طرہ مہ چہرہ ای قصہ مخواں
کہ سعد رنجس ز تاثیر زہرہ و زحل است
ترجمہ : اس کے چہرے کے چاند کو دیکھ کر اور بھول جا کہ ''سعد و نحس'' کا تعلق ''زہرہ و زحل'' سے ہے، ایسا لگا جیسے وہ چہرہ کوئی چہرہ نہ ہو بلکہ روشنی کا ایک سرچشمہ ہو اور جس سے سورج چاند ستارے اپنا کشکول پھیلائے کسب نور کر رہے ہیں، پتہ ہے وہ چہرہ کس کا تھا نہیں نہیں کنڈولیزا رائس کا نہیں بلکہ اس سے بھی کئی گنا میگا واٹ پر مشتمل جناب امیر مقام کا تھا، ہم چاہیں تو اسی وقت وہی شعر یہاں درج کر سکتے ہیں جو غالب نے ''تجمل حسین خان'' کے لیے کہا تھا یعنی زباں پر بار خدایا ۔۔۔ اور میرے نطق نے ۔۔۔ بوسے وغیرہ زباں کے لیے ۔۔۔ لیکن شعر ہماری اس کیفیت کو واضح کرنے کے لیے بہت ہی چھوٹا ہے اور یہاں ''بات'' نطق کی نہیں نہ زباں کی ہے بلکہ ''نگاہوں'' کی ہے، ایک اور شعر بھی یاد آرہا ہے کہ دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی ۔۔۔ لیکن یہاں تو نگاہ ہماری تھی اور دوسری طرف صرف تصویر تھی۔
لب خاموش سے اظہار تمنا چاہیں
بات کرنے کو بھی تصویر کا لہجہ چاہیں
ان کو تو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ کسی کے دل پر کیا گزر رہی ہے، ہم اس تصویر کو دیکھتے رہے، دیکھتے رہے نہ جانے کتنی صدیاں بیت گئیں تقریباً پچاس صدیاں تو گزری ہی ہوں گی کیونکہ آج کل کا ایک دن شاید اتنی ہی صدیوں کا ہوتا ہے اور اگر کوئی خریداری کے لیے بازار میں بھی نکل پڑے تو پوری سو صدیوں کا ہو جاتا ہے اور اگر لوڈ شیڈنگ بھی ہو ۔۔۔ ہم بھی کیا ۔۔۔ کہاں سے کہاں نکل گئے یہی ہوتا ہے بے خودی میں
پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
جاتا وگرنہ ایک دن اپنی خبر کو میں
خیر ہم ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی کیفیت میں مبتلا رہے اور دل کی گہرائیوں سے میاں شہباز شریف کو دعائیں دیتے رہے کہ ان کی برکت سے ہمیں بھی اپنی متاع گم گشتہ کا سراغ ملا ورنہ ہم تو صرف یہی ٹپہ دہرانے رہ گئے تھے کہ
زما د لرے وطن یارہ
شکل دے ھیر دے پہ نامہ وے یادومہ
یعنی میرے دور کے یار گم گشتہ، تمہاری شکل تو اب بھول چکا ہوں اور صرف نام لے لے کر یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، ہم سوچ رہے ہیں خدا بھی نہ جانے اپنے کس کس کام میں کتنی حکمتیں اور راز رکھتا ہے، کون سا کام کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں جا کر کس کس کو فائدہ پہنچا دیتا ہے، اگر آپریشن ضرب عضب نہ شروع ہوا ہوتا تو میاں شہباز شریف بھی لاہور میں آرام سے بیٹھے ہوتے اور جناب امیر مقام بھی اپنے کسی خاص مقام پر مقیم ہوتے، نہ یہ تصویر بنتی اور نہ ہی دیدار یار سے یوں مشرف ہوتے۔