دھرنے اور انقلاب ایسی بھی کیا جلدی
کہا جارہا ہے کہ برکس‘ عالمی بینک کے مقابلے میں قائم کیا جارہا ہے کیونکہ عالمی بینک پر امریکا اور یورپ کی اجارہ داری ہے
چند دنوں پہلے ایک خبر نے پوری دنیا کو چونکا دیا۔خبر یہ تھی کہ تیزی سے معاشی طاقت کے طور پر ابھرتے ہوئے پانچ ملکوں نے مل کر ایک ترقیاتی بینک قائم کیا ہے جس کا نام برکسBRICS ہے۔ برازیل' رشیا' انڈیا' جنوبی افریقا اور چین نے یہ بینک تشکیل دیا ہے، اس کا ابتدائی سرمایہ 50 ارب ڈالر ہے۔ صدر دفتر چین کے شہر شنگھائی میں ہوگا جب کہ اس بینک کا پہلا صدر ہندوستان سے ہوگا۔
کہا جارہا ہے کہ برکس' عالمی بینک کے مقابلے میں قائم کیا جارہا ہے کیونکہ عالمی بینک پر امریکا اور یورپ کی اجارہ داری ہے۔ یہ وہ پانچ ملک ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 21 ویں صدی کی معیشت پر ان کا کنٹرول ہوگا۔ اس خبر کی عالمی اہمیت اپنی جگہ لیکن مجھے اس بینک کے قیام کی خبر نے ایک اور حوالے سے اپنی طرف متوجہ کیا۔
ہندوستان اور ہم ایک دن کے فرق کے ساتھ 1947 میں آزاد ہوئے تھے' ہمارے بعد چین 1948 میں آزاد ہوا' برازیل اب سے پندرہ بیس سال پہلے تک ایک غریب ملک تھا( امیر اب بھی نہیں ہے)۔ نیلسن منڈیلا کے جنوبی افریقا نے جو مشکل ترین وقت گزارا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 1917کے انقلاب کے بعد روس' سوویت یونین کے نام سے ابھرا۔
50,40 سال تک اس نے حیرت انگیز ترقی کی اور دنیا پر امریکا کی بالادستی کو بھرپور انداز میں چیلنج کیا اور امریکا اور مغرب کے مقابلے میں کمیونسٹ اور سوشلسٹ ملکوں پر مشتمل ایک طاقت ور بلاک تشکیل دیا جس نے سرد جنگ کے زمانے میں پورے مغربی بلاک پر لرزہ طاری رکھا۔ لیکن وقت نے کروٹ لی' سوویت یونین کا سخت گیر نظام خود کو تبدیل نہ کر پایا تھا اس لیے معاشی بحران میں مبتلا ہوا' اور اس کا شیرازہ بکھر گیا۔سوویت یونین کی تحلیل کے بعد روس نے جمہوریت کی راہ اختیارکی اورآج وہ تیزی سے دوبارہ ایک بڑی معاشی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
ہم جب آزاد ہوئے تو ان ملکوں کی طرح ہی تھے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ برکس نامی عالمی بینک بنانے والے ان پانچ میں سے کئی ملکوں سے ہم بہت حوالوں سے بہتر صورتحال میں تھے۔ یہ خبر پڑھ کر جہاں میں نے ان ملکوں پر رشک کیا وہیں اپنے آپ پر ماتم کیا۔ ماتم اس بات کا کہ ہم نے درست راستہ اختیار کیا ہوتا تو یہ بینک پانچ نہیں چھ ملکوں کا بنایا ہوا ہوتا جن میں پاکستان بھی ہوتا اور اس کا نام غالباً برکس کے بجائے پیبرکس(PBRICS) ہوتا۔اس صورتحال پر دل نے جو ماتم کیا وہ اپنی جگہ لیکن جس بات نے واقعی بہت دکھی کیا وہ یہ تھی کہ 67 برس گزر جانے اور پے در پے ناکامیوں کے صدمات جھیلنے کے باوجود ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
نہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہم آج ایک مصیبت زدہ غریب ملک کیوں ہیں اور یہ کہ اس الم ناک صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ 67برس کی ناکامیوں کے یوں تو کئی اسباب ہونگے تاہم، اس کی بنیادی وجہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ہم نے آزادی کے بعد جمہوریت کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کیا اور اس کی بد ترین قیمت ادا کی۔
بعض حلقے اور دانش ور لفظ'' جمہوریت'' کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ جو یہ کرتے ہیں وہی اس ملک کے تمام مسائل کے ذمے دار بھی ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت ہوتی تو کیا ہم 50 کی دہائی میں سیٹو' سنیٹو کے رکن بنتے' کیا ہم نے امریکا سے فوجی اور دفاعی معاہدے کرکے سوویت بلاک کو ناراض کیا ہوتا۔ کیا ہمارے حکمران امریکا کے ساتھ مل کر قومی آزادی کے لیے جنگ کرنے والے ملکوں کے مخالف ہوتے اور وہ وقت بھی آتا کہ ہم اردن میں ان فلسطینیوں کے قتل عام میں حصہ لیتے جو آج بھی غزہ میں ظلم و جبرکا نشانہ بن رہے ہیں؟ کبھی ہم نے یہ سوچا کہ جمہوریت ہوتی تو پاکستان میں جنرل ایوب کیا دس سال تک ملک پر قابض رہ سکتے تھے؟
ایسا نہ ہوتا تو مشرقی پاکستان کے محب وطن پاکستانی جن کے ووٹوں کی بدولت یہ ملک ہم کو ملا، اتنے دل برداشتہ ہوتے کہ تنگ آکرہم سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے؟ جمہوریت ہوتی تو کیا پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگیں ہوتیں؟ جنگیں نہ ہوتیںتو کیا ہمارے 90 ہزار فوجیوں کو ہندوستان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑتے؟
نہ یہ واقعہ رونما ہوتا اور نہ ذلت آمیز مناظر دیکھنے کو ملتے۔مستحکم جمہوریت ہوتی تو ہم پر کبھی جنرل ضیاء الحق کی آمریت مسلط نہ ہوتی ۔موصوف اقتدار میں نہ آتے تو پاکستان کچھ اور ہوتا۔ نہ ہم امریکا کی نیابتی جنگ(پراکسی وار) لڑتے' نہ دنیا بھر سے انتہا پسند مجاہدین کو پاکستان لاکر امریکا کی قیادت میں انھیں افغانستان میں سوویت یونین اور افغان فوجیوں سے لڑایا جاتا۔ یہ ''مہمان'' نہ آتے تو ملک میں ڈرگ اور کلاشنکوف کلچر پیدا نہ ہوتا' فرقہ وارانہ کشیدگی بھیانک رنگ اختیار نہ کرتی اور انتہا پسندی ہمارے کثیر المشرب سماج کی خوبصورتیوں کو بارود اور بموں سے نہ مٹاسکتی۔
پاکستان میں جمہوریت ہوتی تو پرویز مشرف مکے لہراتے ہوئے اور مغرب کو خوش کرنے کے لیے کتوں کو گود میں اٹھا کر تصویریں نہ کھنچواتے اور11/9 کے بعد پاکستان' افغان جنگ سے الگ رہتا ۔ یہ صورت ہوتی تو ہمارے 55ہزار شہری اور 5ہزار فوجی اپنی جانیں نہ گنواتے' پورا پاکستان دہشت گردوں کے رحم وکرم پر نہ ہوتا' اہم ترین فوجی تنصیبات پر دہشت گرد گھنٹوں اور دنوں قابض نہ ہوپاتے اور آج جنگ عضب بھی جاری نہ ہوتی۔ آمریت کی جگہ جمہوریت مستحکم ہوتی تو نہ آپریشن جبرالڑ اور 65 کی جنگ کا سامنا ہوتا' نہ مشرقی پاکستان کے بحران کے باعث 71 کی لڑائی ہوتی' نہ کارگل ہوتا اور نہ سیاچن کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ جمہوریت اور جمہوری نظام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے والوں پر ایسے تمام المیوں کی براہ راست ذمے داری عائد ہوتی ہے۔
دنیا کے یہ 5ملک بڑی تیزی سے عالمی معاشی طاقت کی حیثیت اختیار کررہے ہیں۔انھوں نے جو نیا بینک قائم کیا ہے اورجسے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کا حریف کہا جارہا ہے اس کا چھٹا رکن ہم بھی ہوسکتے تھے اگر ہمارے ملک میں جمہوریت ہوتی ۔ پاکستان انسانی اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ جمہوریت ملک کو متحد رکھتی' حکومتیں جواب دہی کے خوف سے کام کرتیں' نا اہل سیاستدان رفتہ رفتہ انتخابات کی چھلنی سے چھن کر کب کے قصۂ پارینہ بن چکے ہوتے۔ملک میں سیاسی استحکام ہوتا' قانون کی حکمرانی ہوتی۔صبر' ضبط اور تحمل ہمارا مزاج ہوتا ۔
جن دنوں اس نئے بینک کی خبریں آرہی تھیں ان ہی دنوں ہمارے بعض قومی رہنما دو طرح کے اعلانات کررہے تھے جن میں اب شدت آتی جارہی ہے۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کہ جمہوریت کوئی نظام نہیں ہے اس کو ختم کرنے کے لیے انقلاب لانا ضروری ہے۔ دوسرے صاحب یہ فرمارہے تھے کہ افہام و تفہیم کا وقت جاچکا' اب لاکھوں کا جلوس پاکستان کے دارالحکومت میں دھرنا دے گا اور جب تک موجودہ حکومت کا خاتمہ نہیں ہوتا یعنی جمہوریت کا تختہ الٹ نہیں دیا جاتا اس وقت تک یہ لڑائی جاری رہے گی۔
یہ قومی رہنما دھمکی دیتے ہیں کہ ان کے کارکنوں کے ساتھ زیادتی ہوئی تو وہ پولیس والوںکواپنے ہاتھوں سے چوراہے پر پھانسی پر لٹکائیں گے۔ دونوں رہنما یہ نہیںسوچتے کہ گزشتہ6دہائیوں کے دوران جمہوریت کی نفی کرکے پاکستان نے کتنی بھاری قیمت چکائی ہے۔ ان کے دلوں میں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری فوج ایک فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے' اس وقت اُسے مکمل حمایت کی ضرورت ہے۔ یہ معاملہ ختم ہوجائے تو آپ شوق سے تحریکیں چلائیں۔دس لاکھ افراد بے گھر ہوکر خیموں میں پڑے ہیں۔
یہ وقت ان کی دیکھ بھال کا ہے' سیاست ہوتی رہے گی' اقتدار میں آنے کی ایسی جلدی کیا ہے؟ دونوں انقلابی رہنما کیا اس حقیقت سے نا واقف ہیں کہ کسی بھی وقت دہشت گردی کی کوئی بڑی کارروائی ہوسکتی ہے۔ ان حالات میں لاکھوں یا ہزاروں لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا خطرہ مول لینے کی کیا ضرورت ہے۔ایسی کون سی مصیبت آگئی ہے کہ وہ یہ تمام باتیں اور حقائق تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں؟ حکومت کی کارکردگی مثالی نہیں تو مایوس کن بھی ہر گز نہیں ہے۔ دنیا اور عالمی ادارے پاکستانی معیشت کی درست سمت اور معاشی بحالی کے عمل کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کو داد دے رہے ہیں۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اس ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا میں آپ نے کیا دودھ اور شہد کی نہریں بہادی ہیں؟
ابتدا سے ہی اقتدار کی ہوس نے ہمارے ملک کو تباہ کیا۔ اب جمہوری عمل کا ایک تسلسل شروع ہوا ہے جس میں رخنہ ڈالاگیا تو پھر باقی کچھ نہیں بچے گا کیونکہ اس سے پہلے بھی جمہوریت کی نفی کرکے ہم اپنا سب کچھ گنوا چکے ہیں۔ تھوڑا بہت جو باقی رہ گیا ہے اُسے تو نہ گنوایا جائے۔ ہم کیا اپنی ذات اور اقتدار کی خواہش کو ملک پر ترجیح دیں گے؟ برکس کا قیام دنیا میں ابھرتے ہوئے5ملکوں کو محترم و ممتاز بناتا ہے اور ہمارے دھرنوں کی خبریں اور تصویریں ہمیں دنیا کی نظروں میں تمسخر کا ہدف بناتی ہیں۔ دنیاسوچتی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جنھیں اپنے ملک کی نہیں صرف اپنے اقتدار کی فکر ہے۔