کیا پاکستان اس لیے بنایا تھا

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔


Zahida Hina August 12, 2014
[email protected]

بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پاکستان اس لیے وجود میں آیا تھا کہ جمہوریت کا نام سن کر ہی بعض سیاستدانوں کو زکام ہو جائے اور وہ یہ محسوس کرنے لگیں کہ اگر جمہوری حکومتوں کی کارکردگی بہتر رہی تو آیندہ ان کے لیے جیت کر اقتدار میں آنے کے امکانات پہلے سے بھی کم ہو جائیں گے۔

1947کے بعد سے پاکستان میں حکمران اشرافیہ نے جمہوریت سے جس قدر نفرت اور اکراہ کا مظاہرہ کیا' اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس اشرافیہ نے 1970کے انتخابات میں عوامی لیگ کی شاندار فتح کو ٹھوکروں سے اڑا دیا اور ملک کو دولخت کرنا گوارا کر لیا لیکن بنگالیوں کو ان کا حق حکمرانی نہیں دیا۔ یہ وہی رویہ تھا جس نے پاکستان کو صرف دو نیم نہیں کیا بلکہ ہندوستانی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی ذلت بھی گوارا کی۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔ ہندوستانی مسلمانوں کی بڑی تعداد نے نئے وطن کے لیے ووٹ دیے تھے۔ مسلم اکثریتی صوبوں نے مل کر پاکستان بنایا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وفاق کی اکائیوں نے پاکستان کی بنیاد رکھی تھی لہٰذا وفاقی نظام سے رو گردانی پاکستان کے وجود سے انکار کے مترادف ہے۔

1947 کے بعد کیا ہوا؟ ہم نے صوبائی خودمختاری کے اصول کو قیام پاکستان کے چند دنوں بعد سے نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا۔ آزادی کے فوراً بعد سندھ میں ایوب کھوڑو اور صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومتوں کو ختم کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے عوام نے بنگلہ کو قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا جسے ٹھکرا کر انھیں مایوس کیا گیا۔ انھوں نے دیکھا کہ نوآزاد ہندوستان میں بنگلہ کو قومی زبان کا مرتبہ حاصل ہے لیکن پاکستان میں بنگلہ کے ساتھ امتیاز برتا جا رہا ہے حالانکہ پاکستان کی تشکیل میں بنگال کے مسلمانوں نے سب سے اہم اور ہر اول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔

کشت خون کے بعد ان کا مطالبہ مانا گیا لیکن اس وقت تک بد اعتمادی بہت بڑھ چکی تھی۔ وفاقی جمہوریت کی روح پر عمل کرنے کے بجائے کوشش یہ کی گئی کہ مشرقی پاکستان میں رہنے والے پاکستانیوں کی اکثریت کو ختم کر دیا جائے تا کہ جمہوری نظام میں وہ کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکیں۔ اس کام اور مقصد کے لیے ' مساوات' یعنی Parity کا فارمولا متعارف کرایا گیا اور ان کی آبادی کو مغربی پاکستان کی آبادی کے مساوی قرار دیا گیا۔ یہ سارے اقدامات بلکہ سانحے پاکستان بننے کے ابتدائی برسوں میں رونما ہوئے۔ جمہوریت اور وفاق پر پہلا کاری وار گورنر جنرل غلام محمد نے کیا۔

وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت برطرف کی گئی اور پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا گیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کو دُہرانے کی ضرورت نہیں۔ صرف یہ کہنا کافی ہو گا کہ اس واقعے کے بعد پاکستان میں آمریت کی راہ ہموار کر دی گئی۔ مشرقی پاکستان کی عددی برتری کو ختم کرنے کے بعد ملک کے مغربی حصے کی وفاقی اکائیوں کو بھی ون یونٹ کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ہی ملک میں پہلا مارشل لا لگانے کی تیاریاں مکمل ہوگئیں۔

ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک پاکستان کو بے شمار نقصانات اٹھانے پڑے لیکن سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ جمہوریت کے خاتمے سے وفاقی اکائیوں کی اقتدار میں نمایندگی ختم ہو گئی اور بے اعتمادی کی خلیج اتنی بڑھی کہ مشرقی پاکستان' وفاق پاکستان سے الگ ہو گیا۔ 1973 کے آئین نے باقی ماندہ پاکستان میں شامل وفاقی اکائیوں کو آئینی طور پر تسلیم کر کے وفاق کو بچانے کی کامیاب کوشش کی لیکن پہلے ضیاء الحق اور بعد ازاں پرویز مشرف کے مارشل لاء نے وفاقی جمہوری آئین کے ذریعے وفاق پاکستان کو بچانے کی کوششوں کو سخت نقصان پہنچایا جس کے اثرات آج بھی بلوچستان میں ہمیں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

پاکستانی عوام نے ملک کو بچانے کی خاطر ہمیشہ جمہوریت کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔ جب تک عوام کے مینڈیٹ کا احترام ہوا پاکستان محفوظ رہا اور جب اس مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے گریز کیا گیا پاکستان کی سالمیت اور یک جہتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ 2008 میں عوام نے جمہوریت کے ذریعے پاکستان کو بچانے کا دوبارہ فیصلہ کیا۔ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ 18 ویں آئینی ترمیم نے صوبوں کو بے مثال اختیارات دے کر وفاق، پاکستان کو مضبوط کیا۔

یہ کام جمہوری سیاسی قوتیں ہی کر سکتی تھیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ پاکستان کا وفاق' جمہوری عمل کا مرہون منت ہے، جمہوریت سے رو گردانی کا تصور پاکستان کی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ آج 2014 میں ایک مرتبہ پھر پاکستان میں جمہوریت کو نیست و نابود کرنے والی قوتیں یک جا ہو رہی ہیں۔ اس کے لیے بڑے سہانے نعرے' دلفریب الفاظ اور انقلابی فلسفے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح کے حربے ماضی میں بار بار اختیار کیے گئے تھے۔

'مساوات' کے ذریعے مشرقی پاکستانیوں کی نمایندگی کم کرنے کے لیے کتنی پُر اثر باتیں نہیں ہوئی تھیں' ون یونٹ نافذ کرتے ہوئے کتنے اعلیٰ و ارفع اصول بیان نہیں کیے گئے تھے۔ مارشل لا لگا کر جمہوریت کو ختم کرتے وقت سیاسی قائدین کے خلاف کتنا زہر نہیں اگلا گیا تھا۔ لیکن ان تمام اقدامات کا نتیجہ کیا نکلا؟ ملک ٹوٹا' وفاق کمزور ہوا' نسلی اور لسانی منافرت پھیلی' فرقہ واریت نے سر اٹھایا اور دہشت گردوں نے پاکستان کی معیشت' معاشرت اور ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔

یہ سب اس لیے ہوا کہ جن مقاصد کے لیے پاکستان بنایا گیا تھا' ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ مقتدر طاقتوں نے جمہوریت کی نفی کی اور پاکستان آج جنوبی ایشیا جیسے پسماندہ خطے کا پس ماندہ ترین ملک بن چکا ہے۔ پاکستان کے قیام کا مطالبہ اس لیے کیا گیا تھا کہ برصغیر میں مسلم اکثریت کے علاقوں کو خود مختاری حاصل ہو اور وہ ایک آزاد مملکت میں جمہوری بنیادوں پر سیاسی، سماجی اور ثقافتی اعتبار سے اپنا تشخص قائم کر سکیں اور عالمی برادری میں سر بلند ہو سکیں۔ بانیٔ پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ جس ملک کے قیام کی جدوجہد کر رہے ہیں وہاں ایک تھیو کریٹک ریاست قائم کی جائے گی۔

پاکستان کے پرچم میں سفیدی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ اقلیتوں اور امن کی علامت ہے۔ امن کا پاکستان میں جو حشر ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اقلیتوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کے تمام حقوق کی حفاظت کی جائے گی اور انھیں مساوی بنیادوں پر ترقی کے مواقعے حاصل ہوں گے۔ ابتدائی دنوں میں ایسا ہوتا نظر بھی آ رہا تھا لیکن پر یہ تمام وعدے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔

10 اگست 1947 کو جب پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا افتتاحی اجلاس ہوا تو مشرقی بنگال سے رکن منتخب ہونے والے اچھوت رہنما جوگندر ناتھ منڈل کو اسمبلی کا عارضی چیئرمین مقرر کیا گیا اور جب پہلی پاکستانی کابینہ وجود میں آئی تو اس میں منڈل صاحب وزیر قانون بنائے گئے۔ بانیٔ پاکستان کاروبارِ حکومت میں مذہب کا عمل دخل نہیں چاہتے تھے۔ اس کا ثبوت 11 اگست کی ان کی وہ تقریر ہے جس کا بار بار حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے وہ 13 جولائی 1947 کو دلی میں ایک پریس کانفرنس کر چکے تھے جس میں انھوں نے جمہوریت اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں واضح الفاظ میں کہا تھا:

'' پاکستان ایک جمہوری ریاست ہو گی اور اس میں غیر مسلم اقلیتوں کو ہر لحاظ سے مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔ انھوں نے کہا تھا کہ پاکستانی ڈومینین میں اقلیتوں کے مذہب' عقیدے' جان و مال اور ثقافت کا تحفظ ہو گا۔ وہ ہر لحاظ سے پاکستان کے شہری ہوں گے اور ان سے کسی طرح کا کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا البتہ انھیں بلا شبہ پاکستانی شہریت کی ذمے داریاں بھی ادا کرنا ہوں گی۔ اقلیتوں کو ریاست کا حقیقی وفادار ہونا پڑے گا ۔''

ایک طرف یہ تاریخی بیان ہے، دوسری طرف 1948کے بعد سے آج تک ہماری ریاست کا وہ رویہ ہے جو اس نے اقلیتوں کے ساتھ اختیار کیا۔ آج عالم یہ ہے کہ ہزار ہا مسیحی' احمدی اور ہندوبہ امر مجبوری ترکِ وطن کر چکے۔ پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت یعنی شیعہ ہر لمحہ جس طرح جان و مال کے خوف میں گرفتار رہتے ہیں، یہ ان ہی کے دل سے پوچھئے۔ فرقہ واریت کی زد میں اکثریتی اور اقلیتی تمام فرقے آ رہے ہیں۔

کیا ایک ایسے ہی پاکستان کے لیے لوگوں نے 1946میں ووٹ ڈالے تھے۔ آج کے دن پاکستانی پرچم پر نگاہ ڈالیے اور سوچیے کہ اس کی سفیدی جو امن اور اقلیتوں کی نمایندگی کرتی تھی کیا اس پر لہو کے چھینٹے نہیں ہیں ؟

ہمیں خود سے یہ سوال تو کرنا چاہیے کہ جو کچھ ہم نے کیا ہے، کیا پاکستان اس کے لیے بنایا گیا تھا؟

مقبول خبریں