سیاحت و ثقافت کا ایک اہم دن (آخری حصہ)

سندھ کے زندہ دل میر بحر قبیلے کے ماہی گیر ایک سحر انگیز منظر پیش کرتے ہیں


نسیم انجم January 04, 2026
[email protected]

کل پاؤں ایک کاسئہ سر پر جو آگیا

یکسر وہ استخوانِ شکستوں سے چور تھا

کہنے لگا دیکھ کے چل راہِ بے خبر

میں بھی کبھو کسو کا سَر پر غرور تھا

بے شک یہ عظیم الشان سلطنتیں، یہ ٹھاٹ باٹ سب پڑا رہ جاتا ہے۔ اس ویرانے میں قبروں کے درمیان نظیر اکبر آبادی کی نظم بھی ذہن کے نہاںخانوں میں گونجتی ہے:

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا،جب لاد چلے گا بنجارا

کچھ کام نہ آوے گا تیرے،یہ لعل و زمرد سیم و زر

نقارے نوبت بان نشان دولت حشمت فوجیں لشکر

کیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھتر

سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا،جب لاد چلے گا بنجارا

دنیا کی بے ثباتی ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی ہمارے دل و دماغ پر سایہ فگن تھی۔ ہم مغفرت کی دعا کے لیے ہاتھ بلند کرتے ہیں اور اپنی آخری منزل کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

تیسرا پڑاؤ شاہجہانی مسجد کے گرد و نواح کا تھا، لیکن اصل تو ہمیں مسجد کی زیارت کرنی تھی سب سے خاص بات یہ تھی کہ پیش امام ریحان صاحب نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس وسیع و عریض مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کہیں نہیں لگائے گئے ہیں۔

یہ مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار ہے جسے مغل بادشاہ شاہجہان نے 1649-1647 کے درمیان تعمیر کرایا تھا، ایک فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔

اس مسجد میں 100 گنبد ہیں جو کاشی کاری اور انوکھے صوتی نظام کا ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے، مسجد میں امام کی آواز پوری مسجد میں سنائی دیتی ہے۔

مسجد کے تقدس نے ہمارے دل کو بھی نور سے بھر دیا تھا اور ایمان تازہ ہوگیا تھا۔ ظاہر ہے ہم اللہ کے گھر میں تھے لہٰذا دعا مانگتے ہوئے کوسٹر کی جانب چل دیے۔

غروب آفتاب کا نظارہ بھی دیکھنا تھا لہٰذا منتظم اور قافلے کے سپہ سالار محمود شام کی خواہش اور اصرار پر ڈرائیور نے ہمیں بروقت پہنچا دیا، کیا نظارہ تھاسبحان اللہ۔ چاندی جیسا سورج سونے کا بن گیا تھا اور کینجھر جھیل کے حسن میں اضافہ کر رہا تھا۔

دلآویز اور طلسماتی منظر تھا اور دور تک چمکتا ہوا نیلگوں پانی اور رنگ برنگ کی کشتیاں، سورج کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اپنا حسن بلادریغ کینجھر جھیل اور اس کے متوالوں کے لیے لٹانے کے لیے ہر پل تیار رہتا ہے چونکہ غروب آفتاب کا منظر بلاناغہ اسی طرح اپنا جلوہ دکھاتا ہے۔

کشتی کی سیر نے عہد ماضی میں پہنچا دیا جب بیتے ماہ و سال میں ہم نے سمندر کی لہروں سے اٹھکھیلیاں کی تھیں، آج بھی کینجھر جھیل میں سیر کرتے ہوئے لطف اٹھا رہے ہیں لیکن وہ احباب اور دوست نہیں ہیں، نیا قافلہ نئے مسافر بھی اپنے ہی ہیں چونکہ قلم قبیلہ سے تعلق ہے۔

کشتی کی سیر کے بعد بھوک نے نڈھال کر دیا تھا، بہرحال ایک خوبصورت اور صاف ستھرے ریستوران میں پہنچ کر اطمینان ہو گیا کہ بھوکے شکم کو بھرنے کا اہتمام بھی بہت خوب ہوگا۔ ہوٹل کے منیجر اور دوسرے ملازمین بھی بااخلاق اور تہذیب یافتہ تھے۔

انتظار کی گھڑیاں بڑی تکلیف دہ ہوتی ہیں لہٰذا اسی دوران محمود شام صاحب نے اپنی نظم نما غزل ماحول کی مناسبت سے پیش کی ’’سندھ کے جام پیو، کھل کے جیو‘‘۔

کھانا کھانے اور چائے پینے کے بعد واپسی کے سفر کے لیے ایک نئی نویلی کوسٹر میں سوار ہوئے، یہ کوسٹر سندھ حکومت نے جاپان سے منگوائی تھی جس طرح کچھ مسافروں کا نیشنل ہائی وے پر سفر کرنے کا پہلا اتفاق تھا، بالکل اسی طرح کوسٹر بھی پہلی ہی بار سیاہ تارکول کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی۔

یہ بات بھی ہم سب کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھی کہ تاریخی جگہوں کو دیکھنے کے لیے اچھا خاصا چلنا پڑا تھا، لیکن تھکن ذرہ برابر بھی نہیں ہوئی، سب تازہ دم نظر آ رہے تھے اور آپس میں محو گفتگو تھے کچھ لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے اورہمارا حال تو ہمیشہ ہی کی طرح تھا، ماضی کے دھندلکوں میں گم۔

بہت سی کامیابیاں اور ناکامیاں ہمارے سامنے آ کر ٹھہر گئی تھیں اور کچھ تاریخی واقعات نے بھی ہماری تنہائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تھی۔

تاریخ سے ہمیں شروع ہی سے دلچسپی ہے، لہٰذا ہم نے کوئی اعتراض نہیں کیا چند لمحوں بعد ہی ہوائی گھوڑا ہمارے سامنے موجود تھا اور ہم بلا چوں و چرا اس کی پشت پر سوار ہو گئے ہیں اور ایک بار پھر منچھر جھیل اور اس کے اطراف کی آبادی میں پہنچ چکے ہیں۔

یہاں طلسماتی سکوت ہے اس سکوت کو دن کی روشنی اس وقت توڑتی ہے جب چھوٹی بڑی کشتیوں اور پتواروں کا شور ایک خوبصورت دنیا کا پتا دیتا ہے، زندگی سانس لیتی ہے اور جینے کی امنگ کو بڑھاتی ہے اس پراسرار منظر میں ماضی کے خواب کروٹ لے رہے ہیں یہ قدرت کی صناعی کا وہ شاہکار ہے جو دادو کے قلب پر سونے کے تاج کی طرح جڑا ہوا ہے۔

سندھ کے زندہ دل میر بحر قبیلے کے ماہی گیر ایک سحر انگیز منظر پیش کرتے ہیں۔ محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قبیلے کا تعلق شمال مشرقی علاقے سے ہے۔

شاید ان کا براہ راست تعلق ان لوگوں سے گہرا تھا جو موہنجو دڑو کے باسی تھے اور یہ قبیلہ حضرت مسیح کی ولادت سے تین سو سال پہلے سے آباد تھا ان کے آباؤ اجداد کی داستان اس منزل تک لے جاتی ہے جہاں سے اس قبیلے نے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا تھا۔

یہ لوگ زماں و مکاں کی قید سے بے نیاز ہیں ان کا ذریعہ معاش مچھلی اور آبی پرندوں کا شکار ہے، صدیوں سے منچھر جھیل اور بالائی سندھ کے دریائے سندھ سے ضرورت کی چیزیں حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کشتی میں پیدا ہونے اور پرورش پانیوالے وہ لوگ ہیں جن کا مرنا جینا کشتی میں ہی ہے۔

منچھر جھیل میں مرد ہی نہیں خواتین بھی چھوٹی چھوٹی کشتیاں چلاتی ہیں، تاریخ بتا رہی ہے کہ کشتی میں سوار مرد، خواتین اور بچے دھات کے برتنوں، تختوں، لکڑیوں کی ہم آہنگ آوازوں کے ساتھ شور و غوغا کرتے ہیں اور زندگی کا لطف لیتے ہیں گویا یہ ان کا دلچسپ مشغلہ ہے۔

مچھلیوں کا شکار کرنے کے ساتھ آپس میں مل کر سیر و تفریح کرتے ہیں، مرد و خواتین خوبصورت آواز میں قدیم لوک گیت گاتے ہیں صوفیا کرام کی کافیوں اور موجودہ دور کے کلام سے بھی دل بہلاتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔

انسانی ذہن لمحوں اور منٹوں میں سیکڑوں میل کا سفر طے کر لیتا ہے اور ماضی کی اتھاہ گہرائیوں سے ہیرے موتی جیسی یادیں یاپھر دکھ اور پچھتاوے کا بھاری پتھر اٹھا کر لے آتا ہے، اس وقت تو انمول یادوں کے جزیرے میں ہم بنا مشقت اور سفر کی صعوبتوں کو برداشت کیے بغیر پہنچ گئے ہیں۔

یہ موہنجو دڑو ہے، سندھ کے عین وسط میں موہنجو دڑو کانسی کے دور کی عظیم ترین دریافت ایک معمہ کی مانند ہے۔

یہ ان دنوں کی یادوں سے ایک قابل قدر یاد ہے، جب ہم رینجرز کالج میں پڑھایا کرتے تھے اور اسپورٹس کی ٹیم اور اپنے کولیگ کے ساتھ نواب شاہ اور لاڑکانہ کا سفر کیا تھا، رینجرز کے ہاسٹل میں ٹھہرے تھے اور پھر ہمارے کالج کے بچوں نے شان دار کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ ڈیبیٹ، شاعری اور کھیلوں کے مقابلے تھے ہم نے وہاں بہت سی تاریخی جگہوں کو دیکھا تھا اور ان کی تاریخ جانی تھی۔

وادی سندھ کی تہذیب اور تشریح عظیم ترین عصری واقعہ ہے یہ بیسویں صدی میں سامنے آیا۔ ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ موہنجو دڑو کا جو پلان سامنے آیا اس کی مشابہت ہڑپہ جیسی ہی تھی۔

شہر کے مغرب میں قلعہ ہے اور اس شہر کی گلیاں مکانات اور اناج گھر ہڑپہ سے مماثلت رکھتے ہیں، یہاں کی منفرد اور نمایاں چیز بڑا اشنان گھر ہے۔ یہ بڑا غسل خانہ بڑی باؤلی یا عظیم حمام ایک بڑی عمارت کی مانند ہے جس کے بیچوں بیچ ایک بڑا تالاب ہے۔

موہنجو دڑو دریائے سندھ کے اندر ایک جزیرہ نما خشکی پر واقع تھا۔ اس کے ایک طرف دریائے سندھ اور دوسری طرف نالہ تھا۔ اسی لیے شہر کی حفاظت کے لیے ایک میل لمبابند باندھا گیا تھا اس شہر کے مکانات پختہ اور کئی منزلہ تھے۔

سڑکیں اور بازار موہنجو دڑو کے مکینوں کے ذوق اور تہذیب کا پتا دیتے ہیں۔ یہ شہر اپنی ترقی سے زوال تک پہنچ گیا اور آج سوائے کھنڈرات اور کچھ نشانات کے سوا کچھ نہیں ہے جو ان کے ہنر اور طرز زندگی، تجارت کو نمایاں کرتے ہیں۔ ہوش میں اس وقت آئے جب کراچی آگیا تھا۔

مقبول خبریں