آج کل ہماری سیاست کے چلن ہی نرالے ہو چلے ہیں، الزامات، پروپیگنڈہ، جھوٹ و فریب کے ساتھ خیالی بیانیہ بنانے کا ایسا رواج بنا دیا گیا ہے کہ حقائق تک عام آدمی کی رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟
اور اس قسم کی بے سروپا خیال آرائی یا باتیں کیوں کی جا رہی ہیں اور سیاسی دنگل کی صحیح صورتحال عوام تک کیوں نہیں پہنچائی جا رہی؟
اس سیاسی گھمبیرتا کے جملہ حقائق عوام تک پہنچانے کی بنیادی ذمے داری ملک کی اشرافیہ اور حکومتی حلقوں سے زیادہ شہری آزادیوں کی حفاظت کرنے والے صحافی یا وہ تحقیقاتی صحافی تصورکیے جاتے ہیں جو سیاست کے داؤ پیچ سے نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ سیاست کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے یہ بھی اضافی قابلیت سمجھی جاتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طور عملی طریقے سے سیاست میں سرگرم رہا ہو۔
تاکہ وہ رپورٹنگ میں سیاست کی باریکیوں کا ادراک بھی رکھے اور اپنے تجزیے کو عوام کے لیے آسان بنائے، وگرنہ محض رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی نئی نسل کو یہ سنجیدہ ذمے داری سونپ دی جائے گی تو نیا رپورٹر صحافی اپنے کم تجربے کی بنا پر ملکی سیاست کے ان گوشوں کو شاید نظرانداز کردے جو عوام کے لیے سیاست کو سمجھنے کے لیے ہوتے ہیں۔
ہمارے ملکی سیاست میں خیالی بیانیہ بنانے کے ماہ پرش اکثر و بیشتر سرد جنگ کے خیالی ادیب جارج اورویل کی کتاب ’’ اینیمل فارم‘‘ کا حوالہ دے کر اپنی رپورٹنگ یا تجزیوں میں ایک ایسا ماحول تراشتے ہیں، جس میں الفاظ کی چاشنی اور جملوں کی کاٹ کی تیزی عوام کو اصل سیاسی صورتحال سمجھنے سے دور رکھتی ہے۔
اور عوام اپنے حقیقی مسائل کو بھول کر خیالی بیانیے پر تبصرے یا تجزیے کی چاشنی پرگفتگو کرتے نظر آتے ہیں جو کسی طور بھی سنجیدہ رویہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اس ساری صورتحال میں مجھے اس موقع پر ہمارے گاؤں دادو میں سیکنڈری کلاس کے ایک دوست شدت سے یاد آگئے، ہماری کلاس کا یہ ساتھی بلا کا چرب زبان اورکہانی بنانے کا ماہر سمجھا جاتا تھا اور اس قدر لچھے دار باتوں کا ماہر تھا کہ ہمارے ڈرل ماسٹر سائیں نادر جو انتہائی سخت گیر اورکسی سے رعایت کرنے والے نہیں تھے تو وہ بھی اس کی لچھے دار باتوں میں آکر پریڈ اسکول میں کرانے کے بجائے اسکول سے متصل سایہ دار میدان میں کروانے پر فوری راضی ہوجاتے تھے۔
حالانکہ پریڈ کے لیے مخصوص بے سایہ گراؤنڈ موجود تھا، مگر نجانے سہیل کے پاس کونسا ایسا کیمیائی نسخہ تھا کہ وہ سائیں نادرکو درختوں کی چھاؤں تلے پریڈ کروانے پر راضی کرلیا کرتا تھا، نہ صرف سہیل یہ سہولت تمام کلاس کے طلبہ کے لیے لے لیتا تھا بلکہ بسا اوقات وہ اپنی چکنی چپڑی باتوں میں سائیں نادرکو ایسا الجھاتا تھا کہ پریڈکے پیریڈ ختم ہونے کی گھنٹی بج جایا کرتی تھی اور ہم سب پریڈ سے جان چھڑوانے پر سہیل کے شکرگزار ہوا کرتے تھے۔
یہی نہیں بلکہ سہیل سائیں نادرکی پریڈ سے عموما جان چھڑانے کی ایک عجیب سی ترکیب استعمال کرتا تھا کہ جیسے ہی سب لڑکے پریڈ کے لیے تیارکھڑے ہوتے تھے تو سہیل درمیان سے نکل کر سائیں نادر سے کہتا کہ ’’ سر! نیم کے درخت سے چھڑی توڑ لاؤں، تاکہ آپ آسانی سے ان سب کو سزا دے سکیں‘‘ جس پر سائیں نادر فورا کہتے’’ ہاں! سہیل تم جاؤ اور نیم کی مضبوط ٹہنی توڑ کر لے آؤ، اس طرح سہیل پریڈ سے بچ بھی جاتا تھا اور نصف سے زیادہ پیریڈ کے گزرنے کے بعد ہاتھ میں نیم کی چھڑی لہراتا ہوا نمودار ہوا کرتا تھا۔
ان تمام تراکیب کے ماہرکے طور سہیل اپنی لچھے دار باتوں اور حرکتوں سے ساری کلاس کے طلبہ کا ’’ سر پنج ‘‘ بن گیا اور جس طالب علم کوکوئی مسئلہ درپیش ہوتا تھا، وہ سہیل ہی سے رجوع کرتے تھے، نہ صرف یہ بلکہ سہیل سارے استادوں کا چہیتا بھی سمجھا جاتا تھا۔
لٰہذا طلبہ کی کوشش ہوتی تھی کہ اسکول کی انتظامیہ سے بچنے اورکسی بھی رعایت لینے میں سہیل کا سہارا لیا جائے یا سہیل سے ہی دوستی گانٹھی یا پکی کی جائے۔
ہمارے گاؤں دادوکے کالج روڈ پر شہر سے باہر ہمارا پائلٹ سیکنڈری اسکول ہوا کرتا تھا، ہمارے اسکول سے پہلے لڑکیوں کا اسکول ہوا کرتا تھا، مگر انتظامی طور پر لڑکیوں کے احترام کی خاطر راستے میں آنے والا لڑکیوں کا اسکول ایک گھنٹے بعد لگتا تھا اور لڑکوں کے اسکول سے ایک گھنٹہ پہلے لڑکیوں کی چھٹی ہوجایا کرتی تھی۔
اسکول کے دنوں میں سب لڑکوں کو محسوس ہوا کہ سہیل اپنی چرب زبانی اور چکر بازی کی مہارت کی بنا اسکول بند ہونے یا اسکول کی چھٹی ہونے سے قبل ہی نکل کھڑا ہوتا ہے۔ سہیل کا یہ اندازاور حرکت سب کے لیے ایک عجوبہ تھی۔
سو اس سارے ماجرے کی کھوجنا کی گئی تو پتہ چلا کہ سہیل اپنی چرب زبانی اور لچھے دار باتوں سے بہت سی استانیوں اور طالبات کو اپنا گرویدہ کرچکا تھا، لٰہذا سہیل اپنی سہیلیوں کی خاطر اسکول کی چھٹی سے قبل ہی غائب ہو جایا کرتا تھا۔
یہ بات اس گاؤں ایسے ماحول میں بالکل اچھنبا تھی، سو سب دانتوں میں انگلیاں دبائے سہیل کی چرب زبانی اور لچھے دار باتوں اور اس کی ’’سہیلیوں‘‘ کے بارے میں ذکر صرف حسرت و بے بسی سے ہی کیا کرتے تھے اورآج تک سہیل اور اس کی بتائی جانے والے سہیلیوں کا پتہ نہیں چلا سکا ہے۔
یہی کچھ آج کل ہمارے لکھاریوں اور تجزیہ کاروں کے ساتھ ہو رہا ہے کہ نہ انھیں درست معلومات کے ذرائع کا علم ہے اور نہ ہی وہ ان نادیدہ قوتوں کے ارادوں کی کوئی کوڑی لا سکے ہیں جو آدھی خبر دینے کے بعد اپنے ارادوں کی سمت ہی تبدیل کردیتے ہیں۔
یہی کچھ خیالات کے گھوڑے دوڑانے والے امریکی لکھاری جارج اورویل کے ساتھ امریکا اور ان کے اتحادی ملکوں نے کیا۔
یہ 1945 کے اوائل کا قصہ ہے جب دنیا میں روس کی سوشلسٹ حکومت سوشل ازم کے عوام دوست نکتہ نظرکے تحت پوری دنیا اور خاص طور پر یورپ اور امریکا کے عوام کو متاثرکر رہی تھی اور سرمایہ دارانہ ممالک اپنے عوام دشمن سرمائے کے خلاف اپنے عوام کے سیاسی رجحانات میں واضح تبدیلی محسوس کر رہے تھے۔
عوام کو جمہوری حقوق دینے پر مجبور یورپ اور امریکا کو اپنے ممالک میں عوام دوست سوشل سیکیورٹی اصلاحات لانا پڑیں تاکہ کسی طرح سوشل ازم کا عوام میں بڑھتا ہوا رجحان روکا جا سکے۔
اسی بنا پر امریکا نے جارج اورویل کی خدمات حاصل کیں اور اسے روس کے سوشل ازم کے خلاف ایک ایسی من گھڑت کہانی اور چاشنی سے بھرپور ناول’’ اینیمل فارم‘‘ لکھنے کی سہولیات فراہم کیں،جس ناول نے یورپ اور امریکا کو وہاں کی سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ سے بچایا اور عوام سیاست سے لا تعلق ہوکر جارج اورویل کے ناول کے سحر میں مبتلا ہوگئے اور روس کے عوام دوست سوشل ازم کے مقابلے میں’’ اینیمل فارم‘‘ ناول کی چاشنی عوام کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
جس کے نتیجے میں عوام دشمن سرمایہ داری آج تک اپنے ارتکاز دولت کے فلسفے پر عمل پیرا ہے جب کہ عوام صدیوں بعد بھی جدید ترقی کے ہوتے ہوئے محکوم اور اپنے جمہوری و سماجی حقوق لینے سے لاچار ہے۔
آج کل ہماری ریاست انسانی سہولیات اور جمہوری حقوق سے محروم عوام کو بھی ہمارے کلاس فیلو سہیل کی سی چکنی چپڑی باتوں میں الجھا کر کسی بھی لچھے دار سے،کبھی کمپنی نہ چلنے والی ایسی کتابیں تخلیق کرواتی ہے اورکبھی جارج اور ویل کوکہتی ہے کہ جب تم پر کڑا وقت آئے تو خود کو عوام کے سامنے ’’ ٹٹ پونجیا‘‘ ظاہرکردیا کرو۔