اک سال گیا، اک سال نیا ہے آنے کو
پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو
(ابنِ انشا)
ہمارے ملک میں دو قسم کے کیلنڈر موجود ہیں، ایک ہجری کیلنڈر اور دوسرا عیسوی کیلنڈر۔ مسلمانوں کا اصلی کیلنڈر عیسوی نہیں ہجری ہے۔
ہجری کیلنڈرکا آغاز محرم سے ذی الحجہ مہینے کے اختتام پر ہوتا ہے اور اس اسلامی نئے سال کے آغاز میں ہمیں دوکام کرنے چاہئیں۔
نمبر ایک ’’ ماضی کا محاسبہ‘‘ اور نمبر دو ’’مستقبل کا لائحہ عمل۔‘‘ دنیا بھر میں اسلام ہی وہ واحد ایسا پاکیزہ اور مکمل دین ہے جسے انسانیت کی اصلاح و فلاح کے لیے اُتارا گیا۔
جس کے اندر تمام تر انسانی وسائل کا حل دلیل کے ساتھ موجود ہے، کیوں کہ اسلام ہر مسئلے کو بہت ہی نرالے اور واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔
ہجری کیلنڈرکے مطابق کیا مسلمانوں کو نئے اسلامی سال کی خوشی منانی چاہیے؟ محرم الحرام اسلامی نیا سال ہے اور میرے خیال میں اس کا آغاز خوشی کے بجائے عبرت، توبہ اور اللہ سے قربت کا موقع ہے، (خاص طور پر نواسہ رسول حضرت امامِ حسینؓ کی شہادت کی یاد میں)، اس لیے اس کی ’’خوشی‘‘ نہیں منائی جاتی، بلکہ اس مہینے میں اللہ کی عبادت (روزے، صدقہ) اور گناہوں سے بچنے پر زور دیا جانا چاہیے، جب کہ شور مچانے، آتش بازی اور دیگر خلافِ شرع طریقوں سے خوشی منانا ناجائز ہے۔
اسلامی نئے سال کی آمد پرگزشتہ گناہوں سے توبہ کرمعافی مانگنا چاہیے۔کے اللہ سے اسلامی سال کو اپنانا مسلمانوں کی علامت ہے اس لیے اس کا خیال اچھی طرح سے رکھنا چاہیے۔ ہمیشہ کی طرح ہر سال کیلنڈر بدلتے ہیں مقدر نہیں بقول اعتبار ساجد کہ:
کسی کو سال نو کی کیا مبارک باد دی جائے
کیلنڈرکے بدلنے سے مقدرکب بدلتا ہے
عیسوی کیلنڈرکی بات کریں تو اس کا آغاز جنوری سے اور اختتام دسمبر کے مہینے پر ہوتا ہے۔ ایسے میں بہت سے لوگ نیا سال 2026 کی خوشی منانے کی بجائے زندگی میں آگے آنے والے نئے عزائم اورکامیابیوں کے بارے میں ابھی سے سوچ رہے ہیں۔
نئے سال کے عزائم کا مطلب ہے زندگی میں مثبت تبدیلی لانے، خود کو بہتر بنانے، خاص مقاصد حاصل کرنے یا بری عادتیں چھوڑنے کا پختہ ارادہ کرنا ہے۔
میرے اس نئے سال میں تین عزائم یہ ہے کہ صحت مند عادات اپنانا، نئی مہارتیں سیکھنا اور اپنے رشتوں کو مضبوط کرنا شامل ہیں۔ 2025 میں میری تین کامیابیوں میں پہلی کامیابی میری ماں کی دُعائوں کا سایہ اور ان کا میری ہر مشکل میں میرے ساتھ کھڑے ہونا ہے، دوسری کامیابی بہت سے سنیئرز سے سیکھ کر زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا، تیسری کامیابی کاروبار میں دن بہ دن ترقی آنے سے مالی حالات مستحکم ہوئے جس سے بہت سے مشکلات حل ہوئیں۔
مجموعی طور پر2025 دنیا بھر کے لیے غیر معمولی طور پر ہنگامہ خیز اور آزمائشوں سے بھرپور ثابت ہوا۔ مختلف خطوں میں جاری جنگوں، شدید موسمی تبدیلیوں، تباہ کن سیلابوں اور قدرتی آفات نے کروڑوں افراد کی زندگیوں کو متاثرکیا۔
کہیں مسلح تنازعات نے انسانی المیوں کو جنم دیا تو کہیں موسمی شدت نے ریاستی نظام اور معاشی ڈھانچوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ بے گھر افراد، غذائی قلت، معاشی دبائو اور سفارتی کشیدگیاں سال بھر عالمی منظر نامے پر چھائی رہیں، جس نے دنیا کو ایک نئے عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا۔
ان عالمی مشکلات کے باوجود سال 2025 پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ اگرچہ پاکستان کو بھی ماحولیاتی خطرات اور علاقائی چیلنجزکا سامنا رہا، تاہم دفاعی محاذ پر یہ سال انتہائی سود مند ثابت ہوا، پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت، پیشہ ورانہ مہارت اور اسٹرٹیجک بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی خود مختاری کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔
مجموعی طور پر یہ سال دنیا کے لیے آزمائش، جب کہ پاکستان کے لیے عزم، استحکام اور دفاعی کامیابی کی علامت بن کر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
2025 میں پاکستان نے فوج کی وجہ سے پوری دنیا کے ممالک میں اپنا کھویا ہُوا مقام پانے میں کامیاب ٹھہرا۔ آئی ایم ایف کے ہوتے ہوئے بھی پاکستان ترقی و خوشحالی کے منزلیں طے کرتا ہُوا دن بہ دن آگے بڑھ رہا ہے۔
رہی بات سیاسی چہروں کی جو موجودہ حکومت میں ہیں، کون کتنا ایمانداری سے کام کر رہا ہے وہ سب جانتے ہیں آپ بھی۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ 2026 میں اپنے لیے اور اپنے وطنِ عزیز پاکستان کی خوشحالی کے لیے دُعائیں مانگتے ہوئے ہمیشہ اپنی اور اپنے وطن کی بہترین کے لیے دن رات کام کریں اور جو غلطیاں ماضی میں ہوئی اُن سے سبق سیکھتے ہوئے آنے والے سال میں دھرائی نہ جائیں۔ کیوں کہ جو غلطیوں سے سیکھتے ہیں وہیں لوگ کامیاب زندگی کی ضمانت ٹھہرتے ہیں۔ ایک بار پھر بقول شاعر۔
رنج کا لمحہ کسی کا بھی مقدر ٹھہرے
ہم نئے سال میں ایسا نہیں ہونے دیں گے