غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ

خلاصہ یہ رہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی جنگ بندی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا ہے


صابر کربلائی January 03, 2026

غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے، اس عنوان سے عالمی ذرائع ابلاغ پر خبریں نشر ہو رہی ہیں، البتہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب بھی ایک صیہونی قیدی حماس کے پاس ہے۔

جب کہ حماس اس بارے میں پہلے ہی تردید کرچکی ہے اور بتا چکی ہے کہ صیہونی قیدی جس کا تعلق اسرائیلی پولیس سے تھا، وہ غزہ میں اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہو چکا ہے اور غزہ پر شدید بمباری کی وجہ سے اس کی باقیات کو تلاش کرنا بھی ممکن نہیں رہا ہے۔

غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس نے تمام 30 صیہونی قیدیوں کو غاصب اسرائیل کے حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہرکی تھی، جس کے عوض تقریبا 1700سے 2000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہونا طے پائی تھی، ان فلسطینی قیدیوں میں خواتین، بچے اور جوانوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔

بہرحال پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے، لیکن اس مرحلے کے آغاز سے اختتام تک غاصب صیہونی افواج نے مسلسل معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور غزہ میں بمباری جاری رکھی اور یہاں تک کہ حماس کے ایک رہنما کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔ خلاصہ یہ رہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی جنگ بندی معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا ہے، بلکہ ہمیشہ عالمی قوانین کے ساتھ ساتھ معاہدوں اور قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے۔

اب جیسا کہ بتایا جا رہا ہے کہ غزہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے تو اب دوسرے مرحلے کی بات ہو رہی ہے۔ غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں امریکی صدر ٹرمپ کی پیش کردہ شرائط اور نقاط کے مطابق غزہ میں ایسے علاقے جہاں اسرائیلی افواج نے کنٹرول حاصل کیا ہے، وہاں سے اسرائیلی افواج کا انخلاء کیا جائے گا اور اس کے عوض حماس کو غیر مسلح ہونا ہو گا۔

واضح رہے کہ اس معاہدے کے پہلے روز سے ہی حماس اور تمام فلسطینی دھڑوں نے غیر مسلح ہونے والے نقطہ کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ البتہ حماس کی قیادت کے ایسے بیانات میڈیا پر آئے تھے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر حماس کو غیر مسلح ہونا ہوا تو حماس آزاد فلسطینی ریاست کی فوج کے سامنے اپنا اسلحہ رکھے گی۔

دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کے سیاسی ماہرین بھی اپنے تجزیات میں بیان کرتے آئے ہیں کہ حماس کا غیر مسلح ہونا، اتنا آسان کام نہیں ہے جس طرح ٹرمپ سمجھ رہے ہیں، کیونکہ حماس کبھی بھی امریکا اور اسرائیل کے سامنے اپنا اسلحہ نہیں رکھے گی۔

حالیہ دنوں میں یہ بحث اب شدت اختیارکر رہی ہے، کیونکہ اسی دوسرے مرحلہ میں اسرائیلی افواج کے انخلاء اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم نقطہ مشروط ہے، وہ یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی خواہش پر مسلمان ممالک کی افواج عالمی استحکام فورس کے عنوان سے غزہ میں تعینات ہو جائیں گی۔

جس کے بارے میں نیتن یاہو نے بھی اس شرط پر قبول کیا ہے کہ ترکیہ کی افواج غزہ نہیں آئیں گی، باقی کسی بھی مسلمان ممالک کی افواج غزہ آسکتی ہے۔ اس معاملے میں جہاں انڈونیشیا، سعودی عرب، مصر، اردن، ترکیہ اور آذربائیجان کی افواج کی بات چل رہی ہے وہاں پاکستان کی افواج کو بھی غزہ میں تعینات کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

پاکستان میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کئی ایک مرتبہ حکومتی وزراء نے وضاحتیں پیش کی ہیں ۔

دوسری طرف جیسا کہ ترکیہ افواج کو اسرائیل نے قبول کرنے سے انکارکیا ہے اور ساتھ ساتھ مصر اور انڈونیشیا نے بھی غزہ میں فوج تعینات کرنے سے معذرت خواہانہ رویہ اختیارکیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آذربائیجان جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، اس نے بھی غزہ میں فوج تعیناتی پر معذرت کی ہے اورکہا ہے کہ فوج کی کمی کے باعث آذربائیجان اپنی فوج غزہ نہیں بھیجے گا۔ اب صرف پاکستان اور اردن سمت سعودی عرب کی فوجوں کی بات رہ گئی ہے۔


یاد رہے کہ نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں قیامِِ امن کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کے حق میں قرارداد منظورکی تھی، جس میں غزہ میں عالمی امن فورس بھیجنے کی شق بھی شامل تھی۔ پاکستان نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی تھی۔

امریکی عہدیدار مارکو روبیو کی پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان اس معاملے میں پیش کش کرچکا ہے ۔ وفاقی وزیر اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ کہا گیا کہ وہاں جا کر لڑنا شروع کر دیں۔ حماس کو غیر مسلح کریں اور اُن کی سرنگوں کو جا کر ختم کریں تو یہ ہمارا کام نہیں ہے۔

وہ ایک مسلمان کو دوسرے سے لڑانے والی بات ہوگی۔ ہم صرف امن قائم رکھنے اور سوشل ورک کے لیے وہاں جانے کو تیار ہیں۔ یہ وہ وضاحت ہے جو پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو ہونے والی نیوز بریفنگ میں غزہ میں 3500 پاکستانی فوج بھیجنے کی میڈیا رپورٹس سے متعلق پوچھے گئے، سوال کے جواب میں دی۔

 نیوز بریفنگ میں اسحاق ڈارکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی سول اور فوجی حکومت کے مابین اس معاملے میں مکمل ہم آہنگی ہے کہ ’’ہم غزہ میں صرف امن قائم کرنے کے لیے جائیں گے۔‘‘

 پوری دنیا یہ دیکھ چکی ہے کہ گزشتہ اڑھائی برس میں اسرائیل نے فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے لیکن کسی بھی مسلمان فوج نے غزہ میں جا کر امن قائم کرنے کی کوشش نہیں کی تو اب کس طرح کا امن؟ اسی طرح فلسطین کے عوام اور فلسطینی دھڑے کسی بھی غیر ملکی فوج کی غزہ تعیناتی کو پسند کرتے ہیں یا نہیں اس کے بارے میں مختلف رائے ہیں۔

اصولی طور پر اس معاملے میں فیصلہ وہی ہونا چاہیے جو فلسطینی عوام چاہتے ہیں، جو فلسطینی سیاسی و عسکری دھڑے چاہتے ہیں نہ کہ امریکی صدر کی خواہشات کی تکمیل کے لیے مسلمان ممالک کی افواج کو استعمال کیا جائے۔

بہرحال یہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ ہے جس کی تکمیل نا ممکن نظر آتی ہے۔ اس کے بعد تیسرے مرحلے میں غزہ میں ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کا ہے پھر اس کے بعد غزہ کی تعمیر نوکا کام شروع ہونا ہے جوکہ چوتھا مرحلہ ہے۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ امریکا جو اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک امن معاہدہ فلسطینی عوام پر تھونپ دینا چاہتا تھا اور جنگ کی کامیابی کا کریڈٹ حاصل کرنا چاہتا تھا، بری طرح سے ناکام ہو چکا ہے،کیونکہ دنیا بھر کے سیاسی ماہرین کی رائے ہے کہ اگرکوئی بھی معاہدہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر لاگو کیا گیا تو وہ قابل عمل نہیں ہو گا اور مستقبل میں اس کے مزید نقصانات سامنے آئیں گے۔

ان تجزیات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ امریکا اور اسرائیل میدان میں شکست کھائی ہوئی جنگ کے بعد میز پر بھی شکست کھاتے نظر آ رہے ہیں۔
 

مقبول خبریں