بوجھ گھٹائیں!

اب ہم زیادہ تعلیم یافتہ ہو کر بھی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں


شیریں حیدر January 04, 2026
[email protected]

سب کو نیا سال مبارک ہو… سال تو صرف کیلنڈر پر بلکہ اب کیلنڈر کوکون جانتا ہے، آپ کے فون پر ہندسے بدلنے کا نام ہے۔ اگرہم خود کو تبدیل نہ کریں، ہمارے حالات تبدیل نہ ہوں، مسائل جوں کے توں رہیں، عادات اور خامیاں جیسے کی تیسے ہوں تو پھر ہمارے لیے انیس سو چھبیس ہو یا دو ہزار چھبیس، ایک ہی بات ہے۔

ہم جسے ترقی کہتے ہیں، وہ مادی ترقی ہے، اصل میں ترقی تب ہے جب ہمارا بھی ارتقاء ہو۔ جو برائیاں معاشروں میں ماضی میں رہی ہیں، اگر وہ سو سال سے ہمارے ساتھ سفر کر رہی ہیں، ا س وقت جب شعور بھی کم تھا اور تعلیم بھی۔

اب ہم زیادہ تعلیم یافتہ ہو کر بھی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، بچوں کی تربیت میں بہت سی ایسی کجیاں ہیں جو ان کے ساتھ پروان چڑھتی ہیں اور وہ ہوتے ہوتے ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں اور ان کی شخصیت کے سقم زیادہ واضع ہو جاتے ہیں۔

نئے سال کے حساب سے ہم سب کوئی نہ کوئیResolution بناتے ہیں اور سال گزر جاتا ہے مگر خود سے کیے گئے عہد وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔

وقت میں اتنی بے برکتی ہو گئی ہے کہ حد نہیں۔ اگر ہم اپنی دولت کا صدقہ اور زکوۃ نکالتے ہیں تو وقت کی بھی زکوٰۃ نکالیں کہ اپنے وقت کا روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ کچھ حصہ نکالیں، کسی اپنے کو دینے کے لیے، نیکی کی نیت سے۔ ’اس سال وزن کم کرنا ہے، گھر سے فالتو سامان نکالنا ہے، گاڑی کا ماڈل بدلنا ہے… یا ایسے ہی عہد جو کبھی وفا نہیں ہو سکتے۔

چند دن پہلے کسی کا پیغام ملا کہ اگلے برس کے لیے تہیہ کر لیں کہ اسے ملیں گے جو آپ کو ملنا چاہے گا، اسے کال کریں گے جو آپ کو کال کرے گا، اس کی عزت کریں گے جو آپ کی عزت کرے گا، اسے تحفہ دیں گے جو آپ کو تحفہ دے گا۔

ایک لمبی فہرست تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ ہم اس نبی پاک ﷺکی امت ہیں جنھیں ان کی بھی پروا ہوتی تھی جو ان کی راہوں میں خار بچھاتے تھے یا ان کے سر پر اپنے گھر کے کوڑا کرکٹ کی ٹوکری انڈیل دیتے تھے۔

ان اچھے اوصاف کی بجائے ہمیں سوشل میڈیا کیا سکھا رہا ہے، ہمارے بچوں کو تو ایسی باتیں بہت پسند آتی ہیں کہ ان پر سے Obligations کا بوجھ کم ہوجاتا ہے مگر ایسا مت کریں۔ اچھوں کے ساتھ تو سب اچھے ہوتے ہیں، آپ کی اصل اچھائی وہیں نظر آتی ہے جہاں نیکی کرنا آپ کے صبر کا اصل امتحان ہو۔

اس سال عہد کریں کہ آپ خود پر سے ایک بوجھ تو ضرور ہٹائیں گے، وہ بوجھ جو ہمیں بہرصورت جنت سے دور اور جہنم سے قریب کرتا ہے، وہ ہے اپنی زبان کا بوجھ، آپ کہیں گے کہ چھٹانک بھر کی زبان کا بھلا کیا بوجھ ہوتا ہے مگر یقین کریں کہ یہ چھٹانک بھر کی زبان ہی ہمارے اعمال کے پلڑے میں اگر نیکیوں کے عوض رکھ دی جائے گی تو یہ ٹنوں کے اعمال کو ایک چھٹانک سے بھی کم کر دے گی۔

اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں زبان اس لیے دی کہ ہم اس سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، جذبات بیان کر سکیں، تسبیح اور تلاوت کرسکیں، بات کر سکیں، مسائل بیان کر سکیں اور مسائل کا حل نکال سکیں، تکلیف کا اظہار کرسکیں اور کسی کی تکلیف کا مداوا بھی کرسکیں، ضرورت بتا سکیں، دکھ کا اظہار کرسکیں اور ہمدردی کے پھاہے رکھ سکیں۔

اس زبان سے صرف ہم ذائقہ ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ یہ زبان ہماری شخصیت کا مکمل تعارف ہے۔ نرمی، سختی، غصہ، عدم برداشت، پیار، فہم، جہالت یا تعلیم، بے رخی، لاپروائی… غرض ہر وہ حقیقت جو ہماری اصل کو ظاہر کرتی ہے وہ ہماری زبان سے چند الفاظ ادا ہوتے ہی کسی اجنبی کو بھی علم ہو جاتے ہیں۔

صرف دس نکات مختصراً بیان کرتی ہوں، جن مقامات جہاں پر آپ کا بولنایا زبان کھولنا اتنا نقصان دہ ہے کہ اس سے خاموش رہنا کہیں بہتر ہے۔ حتی الامکان کوشش کریںکہ چند منٹ کے لیے اپنی زبان پر قابو پالیں تاکہ ہم اس سے ہونے والے نقصانات سے محفوظ رہ سکیں۔

1- غصے کی شدت میں خاموش رہیں۔ یہ سب سے اہم نکتہ ہے کیونکہ غصہ وہ جذبہ ہے جو انسان کو حیوان بنا دیتا ہے، اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہو جاتی ہیں اور وہ اپنے دماغ سے نہیں بلکہ اس شخص کے دماغ سے سوچ رہا ہوتا ہے جس پر اسے غصہ آتا ہے۔

اگر آپ اس کے سامنے غصے سے بول رہے ہیں تو آپ اسے آزار پہنچا کر حقوق العباد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اگر اس کی پیٹھ پیچھے غصہ کر رہے ہیں تو اس کا شمار غیبت میں بھی ہوجاتا ہے۔ آپ کی صحت متاثر ہوتی ہے اور اس عدم موجود شخص کا کچھ نہیں بگڑتا۔

2- اگر آپ کو اپنے جذبات پر قابو نہیں تو خاموش رہیں۔ اس میں غصے کے علاوہ بھی ہر قسم کے جذبات شامل ہوتے ہیں، مثلاً کبھی دکھ یا تکلیف میں انسان غلط الفاظ بول دیتا ہے۔

3- اگر آپ کے الفاظ کسی بہترین دوستی یا رشتے کو تباہ کر سکتے ہیں تو خاموش رہیں۔ کبھی کبھار اپنے قریبی رشتہ داروں یا دوستوںکے درمیان اختلافات میں، ہم کسی ایک فریق کی ہمدردی میں دوسرے فریق کو وہ باتیں بھی بتا دیتے ہیں جو اس وقت تک صیغہ راز میں تھیں اور ان کا صیغہ راز میں رہنا ہی سب کے حق میں بہتر تھا۔

بالخصو ص میاں بیوی کے مابین جھگڑے میں جو لوگ منفی کردار ادا کرتے ہیں وہ ایک شیطانی فعل کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ اپنی زبان کے چٹخارے کے لیے اپنی عاقبت خراب کرنا ہر گز دانشمندی نہیں ہے۔

4- اگر آپ کو پوری کہانی معلوم نہیںہے تو خاموش رہیں۔ آپ ایک کمرے میں اچانک داخل ہوتے ہیں یا کسی ایسے منظر کا اتفاقاً حصہ بن جاتے ہیں جہاں پہلے سے کسی موضوع پر گفتگو ہو رہی ہے، گرما گرمی ہے… آپ سے سوال کر لیا جاتا ہے ، ’’ فلاں کے بارے میں اس بات کو تم جانتے ہو نا؟‘‘ آپ فوراً جواب دیتے ہیں کہ آپ سب کچھ جانتے ہیں اور وہاں کا ماحول مزید گرم ہوجاتا ہے۔

اس لیے جہاں آپ کو یہ علم نہیں کہ بات کیا ہو رہی تھی وہاں بہتر ہے کہ آپ لاعلمی کا اظہار کریں یا پوچھ لیں کہ کس سلسلے کی کون سی بات۔ کسی بھی طرح بات کا رخ یوں موڑیں کہ آپ کو بلا واسطہ جواب نہ دینا پڑے۔

5- اگر آپ کو موضوع کے بار ے میں یقین نہیں ہے تو خاموش رہیں۔ اچھا مقرر ہونے سے اچھا سامع ہونا بہتر ہے، بالخصوص اگر آپ کسی ایسی متنازع گفتگو میں حصہ لینے لگے ہوں جو کسی متنازعہ موضوع پر ہو، لوگوں کے خاندانی حالات، مذہب اور سیاست پر بحث سے اجتناب کریں۔

جن موضوعات پر آپ کو عبور حاصل نہیں ہے، ان موضوعات کی بحث میں بالکل حصہ نہ لیں بلکہ دوسروں کی رائے کو خاموشی سے سنیں، شاید اس سے آپ کے علم میں کچھ اضافہ ہوجائے۔

6- اگر آپ چیخے بغیر بات نہیں کرسکتے تو خاموش رہیں۔ اس کا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا کوئی چھوٹا بہن بھائی، بچہ یا ملازم کوئی ایسی بات کہہ دے یا کوئی نقصان کردے۔

ہمارے ہاتھ سے بھی تو نقصان ہو جاتا ہے، ہم سب کو اپنے نقصان پر غصہ آتا ہے مگر فوری رد عمل سے گریز کریں اور سوچیں کہ آپ کے الفاظ کسی کے جذبات کو کتنا مجروح کر سکتے ہیں اور اس کے ہاتھوں سے مزید نقصان ہو سکتے ہیں۔

7- جب کوئی اپنی جدوجہد یا کمزوری بتا رہا ہو تو خاموش رہیں۔ کبھی کبھار کوئی ہم پر اعتماد کر کے ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیتا ہے جو وہ کسی اور کو نہیں بتا سکتا، ایسی بات ہمیشہ تنہائی میں کی جانی چاہیے اور جو آپ کو اپنی کمزوری بتا رہا ہے اس کو قصور وار نہ ٹھہرائیں۔

8- اگر آ پ کی خاموشی آپ کے رشتوں کو بچا سکتی ہے تو خاموش رہیں۔ بہت سی باتیں غلط بھی ہوتی ہیں، دوسروں سے جڑی غلط باتوں کو انھی کے ساتھ بات کر کے ختم کرنے کی کوشش کریں نہ کہ دنیا بھر کے سامنے بیان کر کر کے رشتو ں کو ختم کرنے کی۔

9- صرف اپنی انا کو بڑھانے یا داد حاصل کرنے کی خواہش ہو تو خاموش رہیں۔ لوگوں کو اپنے بارے میں، اپنی کارکردگی، ماضی کی سچی اور جھوٹی داستانیں اور وہ کارنامے جن میں آپ کا کوئی کمال بھی نہیں ہوتا، اسے بتا کر ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ داد اور تحسین تو وہ ہے جو دوسرے آپ کے بارے میں بغیر بتائے کریں۔

10- اگر آپ کے الفاظ کسی کا اعتماد توڑ سکتے ہیں تو خاموش رہیں۔ صرف کسی دوسرے پر ہی نہیں بلکہ کسی انسان کا خود پر اعتماد بھی آپ کے الفاظ سے مجروح ہو سکتا ہے۔

کسی نے آپ کو کسی رازکی ڈور پکڑا دی، غلطی سے بھی، تو آپ نے اس راز کا بوجھ اٹھانا ہے تا کہ دو رشتوں کے بیچ کا اعتماد مجروح نہ ہو۔ زبان پر قابو رکھیں، اعمال کا پلڑا اچھائی میں زیادہ تلے تو بہتر ہے۔

مقبول خبریں