ہیلتھ کیئر کمیشن کا زندہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا نوٹس ، انکوائری کا حکم دے دیا

واہ کینٹ لالہ رخ کے عزت شاہ ہسپتال میں روبینہ خاتون کے ہاں پری میچور جڑواں بچے بیٹا اور بیٹی پیدا ہوئے


جمیل مرزا January 04, 2026

گزشتہ سال کے آخری دن ہولی فیملی ہسپتال کی جانب سے مردہ قرار دے کر باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ والدین کے حوالے کیا گیا بچہ  ہولی فیملی ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر اور بغیر وینٹی لیٹر کے  12 گھنٹے  سے زائد وقت زندہ رہنے کے بعد چل بسا۔

واہ کینٹ لالہ رخ کے عزت شاہ ہسپتال میں روبینہ خاتون کے ہاں پری میچور جڑواں بچے بیٹا اور بیٹی پیدا ہوئے جہنیں بعدازاں ایمبولینس کے ذریعے ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 31 دسمبر 2025 کو اسپتال کے ڈاکٹروں نے بچی کو ایڈمٹ کرلیا جب کہ بچے کو مردہ قرار دے کر اس کا باقاعدہ  ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرکے ڈاکٹر طیبہ صدف نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر بچے کی ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کر دینے کی تحریر لکھ دی تاہم بچے کو جب ایمبولینس میں شفٹ کیا گیا تو ایمبولینس کو جھٹکا لگنے پر بچے نے ایک دم سانس لینا شروع کی تو اسے آکسیجن ماسک لگا دیا گیا۔

والدین زندہ بچے اور ہاتھ میں اٹھائے اس کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ دوبارہ ہولی فیملی اسپتال پہنچے تو بچے کو وینٹی لیٹر لگایا گیا تو اس کی سانسیں بحال ہوگئیں۔

اس صورتحال کو اسپتال انتظامیہ نے لازرس سینڈروم نامی کیفیت قرار دے دیا اور عجلت میں جاری کیے گے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر انکوائری رپورٹ مرتب کرکے سربمہر صورت میں سیکرٹری ہیلتھ کو بھجوا دی جبکہ ہولی فیملی اسپتال میں۔ 12 گھنٹے سے زیادہ وقت زندہ رہنے کے بعد بچے کی موت واقعہ ہونے پر بچے کی میت والدین کے حوالے کر دی گئی۔

اس بچے کے ہمراہ پیدا ہونے والی بچی تاحال ہولی فیملی اسپتال میں زیر علاج ہے، ادھر پنجاب ھیلتھ کئیر کمیشن نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ھمایوں انور کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

کمیٹی نے ہولی فیملی ہسپتال اور عزت شاہ ہسپتال واہ کینٹ لالہ رخ سے متعلقہ میڈیکل ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

پنجاب ھیلتھ کئیر کمیشن اس معاملے میں اپنی پروسیڈنگ شروع کردی ہے جس کے مکمل ہونے پر باقاعدہ رپورٹ مرتب کی جائے گی۔

مقبول خبریں