کراچی:
وشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی مختلف مسائل کا شکار ہے، ٹوٹی سڑکیں، کھلے نالوں نے شہر کی شکل بگاڑ دی، گزشتہ کئی برس سے کراچی کے مختلف علاقوں میں ادھڑی ہوئی سڑکوں کے اطراف فوڈ اسٹریٹس قائم ہیں جو کھانے پینے کا مرکز بنی ہوئی ہیں جہاں روزانہ ہزاروں افراد باربی کیو اور دیگر چٹ پٹے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ان فوڈ اسٹریٹس میں غیرمعیاری اور غیر حفظان صحت کھانے فراہم کیے جارہے ہیں کیونکہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے اڑنے والی دھول مٹی اور گاڑیوں کا دھواں سڑک کنارے تیار ہونے والے کھانوں میں شامل ہوجاتا ہے علاوہ ازیں لوگ سڑک کنارے بیٹھ کر ہی یہ کھانے تناول کرتے ہیں۔
ماہرین صحت نے گندے نالوں اور ٹوٹی سڑکوں پر قائم فوڈ اسٹریٹس کو صحت کے لیے ہولناک قرار دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلے ہوئے نالوں سے اٹھنے والا تعفن کھانوں کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر صحت کے مسائل میں مسلسل اضافہ کررہا ہے، شہر میں بعض فوڈ اسٹرٹ ایسی ہیں جو کہ نالوں پر قائم ہیں جہاں گندگی کے ڈھیر لگے ہیں اور ان سے تعفن اٹھ رہا ہوتا ہے، ٹریفک کا دھواں اور دھول مٹی ہوتی ہے، سڑکوں پر ہی کھانے تیار کیے جارہے ہیں، زیادہ تر فوڈ اسٹرٹ ایسے گنجان علاقوں میں قائم ہیں جہاں ٹریفک کی امدورفت بہت زیادہ ہے ایسی فوڈ اسٹریٹس میں کھانے کی معیار خراب ہوتا ہے، ان فوڈ اسٹریٹ کا عملہ احتیاطی تدابیر نہیں اپناتا۔
ماہرین کے مطابق کھلے عام فروخت ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء پر مچھر اور مکھیوں کی بھرمار ہوتی ہے، ان فوڈاسٹریٹ میں کھانے پینے کی اشیاء کو ناقص حالات، آلودگی، کھلی دھول، گندے برتن یا غیر معیاری اجزاء کے ساتھ تیار یا فروخت کیا جاتاہے جس کی وجہ سے فوڈ پوائزننگ (Food Poisoning)، ہیضہ (Cholera)، ٹائیفائیڈ (Typhoid Fever)، ہیپاٹائٹس A اور E، ڈائریا / اسہال (Diarrhea)، پیٹ کے امراض، ای کولائی انفیکشن (E.coli Infection)گیسٹرو اینٹرائٹس (Gastroenteritis) کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
تعفن، دھواں اور مٹی کھانے میں شامل ہوکر امراض کا باعث بن رہی ہے، ڈاکٹر قیصر سجاد
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے ایکسپریس ٹریبون کو بتایا کہ بدقسمتی سے سڑکوں کے اطراف فوڈ اسٹریٹس پر کھلے عام کھانے پینے کی اشیاء فروخت کی جارہی ہیں جو طبی نقطہ نگاہ سے انتہائی مضر صحت ہیں، فوڈ اسٹریٹ کے قریب سیوریج کے کھلے ہوئے نالوں سے اٹھنے والا تعفن ہمارے کھانے میں شامل ہوکر سانس کی نالی کے ذریعے جسم میں داخل ہورہا ہے جبکہ ادھڑی ہوئی سڑکوں سے اڑنے والا گردوغبار بھی ان کھانوں میں شامل ہورہا ہے، جبکہ جگہ جگہ سڑکوں پر جمع گندے پانی اور ابلتے ہوئے سیوریج کے پانی میں مختلف اقسام بیکٹریا اور وائرس ہوتے ہیں جو ان کھانوں میں شامل ہوکر انسانی صحت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام انتہائی آلودہ ماحول میں نہ صرف زندگی گزار رہے ہیں بلکہ ان سیوریج کے نالوں پر بیٹھ کر کھانوں کا اہتمام بھی کررہے ہیں جو کہ ایک ہیلتھ ہیزرڈ(مضر صحت) ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے لوگوں کومختلف طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر محفوظ اور غیر صحت مندانہ ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے سے مختلف امراض لاحق ہوسکتے ہیں جو انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں، ایسے آلودہ ماحول میں مختلف اقسام کے بیکیٹریا جس میں e-colai، salmonella، Shigella موجود ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مختلف طبی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے غیر صحت مندانہ ماحول میں کھانا کھانے سے ڈائریا، فوڈ پوائزننگ، پیٹ کے مختلف امراض گیسٹرو، ہیپیٹائٹس اے اور دیگر صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں، ان غیر معیاری اور نام نہاد فوڈ اسٹریٹس میں کھانے پینے کے برتنوں اور چمچوں کو دھونے کے لیے بھی آلودہ پانی استعمال کیا جاتا ہے، ان غیرمعیاری فوڈ اسٹریٹس پر بار بی کیو کھانے کا بہت رجحان ہے جوانتہائی مضرصحت ہوتا ہے، ایسی جگہوں پر باربی کھانوں میں تکے بوٹی میں گوشت کچا رہ جاتا ہے اور اکثر ان تکے بوٹیوں میں جانوروں کا خون بھی واضح نظر آتا ہے کیونکہ گوشت کو اچھی طرح سے نہیں دھویا جاتا جس کے کھانے سے صحت کے شدید مسائل جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے مقامات پر Parasites بھی موجود ہوتے ہیں جن کہ وجہ سے انٓتوں میں کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں جو Intestinal worm کہلاتے ہیں، ان غیر صحت مندانہ فوڈ اسٹریٹس میں مکھیوں اور مچھروں کی بہتات ہوتی ہے، اس کے علاوہ الرجی پیدا کرنے والے مختلف کیڑے مکوڑے بھی موجود ہوتے ہیں بعض مقامات پر فوڈ اسٹریٹ کے قریب کچرا کنڈی بھی موجود ہیں جہاں غلاظت کا ڈھیر لگا ہوتا ہے اور جس سے تعفن اٹھتا ہے اور دیگر جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور وہاں لوگ اپنی فیمیلی کے ساتھ بیٹھ کر اہتمام سے کھانا کھاتے ہیں اور اس بات سے غافل ہوتے ہیں کہ کھانے کے ساتھ وہ مختلف بیماریوں کو بھی اپنے گھر لے جارہے ہیں، ہیضہ، ڈائیریا کے بڑی وجہ آلودہ کھانے اور آلودہ پانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ Cohleara، Dysentary اور فوڈ پوائزننگ کے مرض میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، کراچی پہلے ہی فضائی آلودگی کا شکار ہے، سڑکوں سے اٹھنے والے گردوغبار کے کھانے میں شامل ہونے سے دمہ، ریسپارٹری (bronchotitis)، الرجی، زکام، ناک کی الرجی اور پھیپھڑوں کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، ان طبی علامات میں ڈاکٹرز مریضوں کو اینٹی بائیوٹک تجویز کررہے جس کی وجہ سے کراچی میں اینٹی بائیوٹک کا استعمال بڑھ رہا ہے۔