امریکا کی جانب سے وینزویلا کی قیادت کے خلاف حالیہ براہِ راست کارروائی، گرفتاری کے اعلانات اور ریاستی سطح پر سخت اقدامات نے عالمی سیاست میں ایک نئی اور فیصلہ کن لکیر کھینچ دی ہے۔
یہ محض سفارتی دباؤ یا زبانی انتباہ نہیں تھا بلکہ ایک عملی قدم تھا جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کچھ معاملات محض بیانات، مذمتی قراردادوں اور طویل انتظار سے حل نہیں ہوتے۔ اس اقدام کے فوراً بعد عالمی سطح پر شور اٹھا، خاص طور پر سوشل میڈیا اور مسلم دنیا میں، جہاں اسے ایک طاقتور ریاست کی جانب سے کمزور ملک پر حملہ قرار دے کر سادہ اور جذباتی فریم میں پیش کیا گیا، مگر حقیقت اس بیانیے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تلخ ہے۔
یہ واقعہ دراصل اس عالمی نظام کے لیے ایک کڑا سوال ہے جو برسوں سے انصاف، انسانی حقوق اور ریاستی خودمختاری کے نعروں میں خود کو مطمئن کرتا رہا مگر عملی سطح پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھوتا چلا گیا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا نے کارروائی کیوں کی، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کب تک کچھ نہ کرنے کا فیصلہ کیے بیٹھی رہتی؟
جب کوئی ریاست مسلسل منظم جرائم، منشیات کی عالمی اسمگلنگ، سیاسی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا مرکز بن جائے تو خاموشی غیر جانبداری نہیں رہتی بلکہ بالواسطہ شراکت داری میں بدل جاتی ہے اوروینزویلا اسی مقام پر آ کر کھڑا ہو چکا تھا۔
امریکا کا مؤقف اس پورے کیس میں کسی اخلاقی نعرے یا نظریاتی جنگ پر نہیں بلکہ ایک سخت اور غیر مبہم الزام پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق وینزویلا محض معاشی بدحالی یا سیاسی بحران کا شکار ملک نہیں رہا تھا بلکہ ایک ایسی ریاست میں تبدیل ہو چکا تھا جہاں حکومتی ڈھانچہ خود منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کی سرپرستی کر رہا تھا۔ منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ، ریاستی سطح پر کرپشن اور طاقت کے ذریعے اختلافی آوازوں کا کچلا جانا ، یہ سب محض الزامات نہیں بلکہ برسوں سے جمع ہوتے شواہد کا حصہ ہیں۔ ایسے میں یہ بحث ثانوی ہو جاتی ہے کہ کارروائی سفارتی لحاظ سے کتنی خوش نما تھی۔ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کیا عالمی برادری کے پاس مزید انتظار کرنے کا کوئی جواز باقی رہ گیا تھا؟
یہاں ایک بنیادی اور فکری اعتراض پوری شدت سے سامنے آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ آخر امریکا کون ہوتا ہے یہ فیصلہ کرنے والا کہ کس ریاست کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور کس کے خلاف نہیں؟ بظاہر یہ سوال امریکی طاقت پر اٹھتا ہے مگر حقیقت میں یہ عالمی نظام کی ناکامی پر ایک فردِ جرم ہے۔ امریکا کوئی ماورائے قانون قوت نہیں بلکہ اسی عالمی نظام کا مرکزی فریق ہے جسے دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا نے اجتماعی طور پر قبول کیا تھا۔ جب اقوامِ متحدہ، عالمی عدالتیں اور دیگر بین الاقوامی ادارے محض بیانات تک محدود ہو جائیں تو ایک خلا پیدا ہوتا ہے اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسے خلا ہمیشہ طاقت سے پُر ہوتے ہیں، خواہ وہ طاقت اخلاقی طور پر پسند کی جائے یا نہیں۔
اسی تناظر میں عراق میں Weapons of Mass Destruction کی مثال بار بار دی جاتی ہےاور یہ حوالہ بجا بھی ہے کیونکہ وہ واقعہ عالمی سیاست پر ایک گہرا اور ناقابلِ انکار داغ ہے۔ مگر ایک تاریخی غلطی کو ہر آئندہ اقدام کے لیے حتمی دلیل بنا لینا بھی فکری دیانت کے خلاف ہے۔ عراق کا معاملہ مفروضات، انٹیلی جنس کی ناکامی اور سیاسی جلد بازی پر کھڑا تھا جبکہ وینزویلا کے خلاف کارروائی کسی ایک دعوے یا اندازے پر نہیں بلکہ برسوں پر محیط شواہد، عدالتی فردِ جرم، ضبط شدہ منشیات کی بھاری کھیپوں اور بین الاقوامی تحقیقات پر مبنی ہے۔ یہاں کسی خیالی ہتھیار کا بیانیہ نہیں بلکہ منظم جرائم کی ایک دستاویزی حقیقت موجود ہے۔
اسی مقام پر ایک اور خطرناک رجحان، جھوٹ یا آدھی سچائیوں کے ذریعے ہمدردی پیدا کرنے کی صورت میں سامنے آرہا ہے، اور وہ یہ ہے کہ بعض حلقوں میں یہ تاثر شعوری طور پر پھیلایا جا رہا ہے کہ وینزویلا کے خلاف کارروائی کی اصل وجہ فحش نگاری، اسقاطِ حمل، ہم جنس پرست شادیوں، جنسی تبدیلیوں پر پابندیاں یا فلسطین کی حمایت تھی۔ یہ دعوے نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ دانستہ گمراہ کن بھی ہیں۔ ان امور کو نہ کبھی امریکی مؤقف کا حصہ بنایا گیا، نہ ہی کسی عدالتی کارروائی میں بنیاد بنایا گیا۔ یہ محض ایک جذباتی اسکرپٹ ہے جس کا مقصد اصل الزامات سے توجہ ہٹانا ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ امریکا خود کو عالمی نظم و نسق کا غیر اعلانیہ نگران سمجھتا ہے۔ اس کردار پر تنقید بجا سہی، مگر یہ حقیقت بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ موجودہ عالمی ادارے فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ قراردادیں منظور کرتی ہے، رپورٹس مرتب ہوتی ہیں مگر زمینی حقائق اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ ایسے خلا میں طاقت خود راستہ بناتی ہےاور امریکا اسی خلا کو پُر کرتا دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان اس پورے منظرنامے کو ایک بالکل مختلف زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو عالمی طاقتوں کے رویّوں، فیصلوں اور مفادات کو نعروں کے بجائے گہرے مشاہدے اور سفارتی فہم کے ساتھ پرکھتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی روایت توازن، مکالمے اور حقیقت پسندی پر مبنی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی سیاست میں خود کو کسی ایک انتہا پر کھڑا کرنے کے بجائے ایک سنجیدہ، باخبر اور ذمے دار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس تناظر میں وینزویلا کا واقعہ پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ عالمی بحث میں اخلاقی نعرے بازی کے بجائے قانونی ذمے داریوں، ریاستی احتساب اور بین الاقوامی نظم کے عملی تقاضوں پر گفتگو کرے۔ یہ ایک ناظر اور تجزیہ کار کی پوزیشن ہے، فریق کی نہیں اور یہی پاکستان کی سفارتی قوت ہے۔
یہ بحث امریکا کے بے خطا ہونے یا نہ ہونے پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں کسی ریاست کو کھلی چھوٹ دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے ہی نظام کو عالمی جرائم کا مرکز بنا لے؟ اگر نہیں، تو پھر مداخلت پر ہونے والا شور اخلاقی کم اور سیاسی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ خاموشی اکثر غیر جانبداری نہیں ہوتی بلکہ یہ طاقت کے غلط استعمال کو سہارا دینے کا ایک طریقہ بھی بن سکتی ہے۔
وینزویلا کا کیس ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ عالمی سیاست میں فیصلے نعروں، جذبات یا مقبول بیانیوں پر نہیں بلکہ شواہد، ذمے داری اور ریاستی جوابدہی کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں ، چاہے وہ فیصلے کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔