بھارت کو بنگلہ دیش کے ساتھ کھیل دشمنی مہنگی پڑگئی، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنی قومی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ بھارت کو کھیل کے میدان میں اختیارکی گئی دشمنانہ اور متعصبانہ پالیسی اب مہنگی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے اپنی قومی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا باضابطہ اعلان محض ایک انتظامی یا سکیورٹی فیصلہ نہیں، بلکہ اس رویے کا فطری رد ِعمل ہے جو بھارت مسلسل کھیل، سفارت کاری اور علاقائی تعلقات میں اختیارکیے ہوئے ہے۔
کھیل کو ہمیشہ قوموں کے درمیان فاصلے کم کرنے، دلوں کو جوڑنے اور صحت مند مسابقت کے فروغ کا ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے، مگر بدقسمتی سے بھارت نے کھیل کو بھی نفرت، سیاست اور تعصب کی نذرکردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کرکٹ جیسا مقبول کھیل بھی اس کی متعصبانہ سوچ کی بھینٹ چڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔کچھ عرصہ قبل ایشیا کپ کے دوران بھارتی کھلاڑیوں کا پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ تک نہ کرنا، اس کے بعد ٹرافی وصول کرنے سے ان کار اور منتظمین کی جانب سے ٹورنامنٹ جیتنے کے باوجود بھارت کو ٹرافی نہ دینا کھیل کی تاریخ کے افسوسناک واقعات میں شمار کیے جائیں گے۔
کھیل کے میدان میں اسپورٹس مین اسپرٹ بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں جیت اور ہارکے باوجود باہمی احترام اور شائستگی کو مقدم رکھا جاتا ہے، مگر بھارت میں کھیل کو بھی سیاست کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے، جہاں نفرت انگیز بیانیہ اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ کھلاڑیوں کے رویے بھی اسی تعصب کی عکاسی کرنے لگے ہیں۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ کھیل کے ذریعے نفرت پھیلانے کا نقصان صرف ایک ملک یا ٹیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا خطہ اس کے منفی اثرات کی لپیٹ میں آتا ہے۔ بنگلہ دیش جیسے ملک کا یہ فیصلہ کہ وہ اپنی ٹیم کو بھارت نہ بھیجے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارتی رویہ اب دیگر ممالک کے لیے ناقابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے پر فخر کرتا ہے، اگر کھیل جیسے غیر سیاسی شعبے میں بھی عدم برداشت اور تکبر کا مظاہرہ کرے گا تو عالمی برادری میں اس کی ساکھ متاثر ہونا ناگزیر ہے۔بھارت اس وقت عالمی سطح پر بھی مختلف محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے۔
مئی میں ہونے والی جنگ میں ناکامی ہو یا عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری، بھارتی قیادت کے لیے حالات پہلے ہی سازگار نہیں رہے۔ امریکا جیسے قریبی شراکت دار سے تعلقات میں دراڑیں پڑنا، کینیڈا اور برطانیہ کے ساتھ سفارتی کشیدگی اور یورپی ممالک میں بھارت کے کردار پر سوالات، سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مودی حکومت کی پالیسیاں دنیا میں اعتماد کھو رہی ہیں۔ اس کے باوجود بھارتی قیادت نے خود احتسابی کے بجائے جارحانہ اور مداخلت پسندانہ حکمتِ عملی کو مزید تیز کر دیا ہے۔
خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے بھارت غیر روایتی اور خفیہ ذرائع استعمال کر رہا ہے۔ غیر تسلیم شدہ عبوری افغان حکومت کو پاکستان کے خلاف سازشوں کے لیے بطور ٹول استعمال کرنا، اس کی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کو استحکام، معاشی بحالی اور عالمی تعاون کی شدید ضرورت ہے، بھارت وہاں بھی اپنے تنگ نظر مفادات کے تحت آگ سے کھیل رہا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔بھارت کی مداخلت صرف افغانستان تک محدود نہیں رہی۔ نیپال، سری لنکا، مالدیپ اور بنگلہ دیش جیسے ہمسایہ ممالک بھی بھارتی دباؤ اور مداخلت کے تجربات سے گزر چکے ہیں۔ کبھی معاشی دباؤ،کبھی سیاسی انجینئرنگ اور کبھی خفیہ سرگرمیوں کے ذریعے بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت کے پڑوسی ممالک میں بداعتمادی بڑھ رہی ہے اور علاقائی تعاون کے امکانات کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر اب محض الزامات نہیں بلکہ ٹھوس شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ کینیڈا، امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں حکومت مخالف سکھ رہنماؤں کے قتل کے الزامات نے بھارت کو عالمی سطح پر سخت تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ الزامات اگرچہ بھارت کے لیے باعثِ شرمندگی ہیں، مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایک ریاستی پالیسی کے طور پر ماورائے عدالت کارروائیوں کا تصور عالمی قوانین اور سفارتی اقدار کے منافی ہے۔ ایسے اقدامات کسی بھی ملک کو تنہائی کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
نریندر مودی کی قیادت میں بھارت جس تیزی سے انتہا پسندی کی طرف بڑھ رہا ہے، وہ خود اسی ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا بھارت جو کبھی سیکولرازم کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، آج کٹر ہندو ریاست کی شکل اختیارکر چکا ہے۔ اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے جینے کا حق تک محدود کیا جا رہا ہے۔
مذہبی بنیادوں پر امتیازی قوانین، نفرت انگیز تقاریر اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد نے بھارت کے اندرونی حالات کو بھی شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹس، اقوام متحدہ کی تشویش اور عالمی میڈیا کی نشاندہی کے باوجود بھارتی حکومت کشمیری عوام پر ظلم و جبر سے باز نہیں آ رہی۔ مواصلاتی پابندیاں، سیاسی قیادت کی گرفتاریاں اور ماورائے عدالت قتل ایک طویل المیے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
اس کے باوجود بھارت عالمی سطح پر خود کو مظلوم اور امن پسند ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کی دوغلی پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔یہ تمام حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت کا موجودہ رویہ نہ صرف کھیل کے میدان میں بلکہ سیاست، سفارت اور علاقائی امن کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا فیصلہ دراصل ایک وارننگ ہے کہ دنیا اب بھارتی تکبر اور تعصب کو مزید برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں۔ اگر بھارت نے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہ کی تو اسے عالمی سطح پر مزید تنہائی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ حقیقت اب عالمی سطح پر واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں اور سیاسی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے جارحانہ قوم پرستی، نفرت انگیز بیانیے اور ہمسایہ دشمن پالیسیوں کا سہارا لے رہا ہے۔
کھیل ہو یا سفارت، معیشت ہو یا خارجہ امور، ہر شعبے میں مودی حکومت نے تصادم اور برتری کے زعم کو فروغ دیا ہے۔بھارت کے لیے لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ عالمی برادری اب اس کے دعوؤں کو بغیر سوال کے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکا کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری، کینیڈا اور برطانیہ کے ساتھ کھلے اختلافات، اور انسانی حقوق کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تنقید اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کا عالمی تشخص تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔ عالمی طاقتیں اب بھارت کو محض ایک معاشی منڈی یا تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہیں، نہ کہ کسی اخلاقی یا سیاسی رہنما کے طور پر۔ یہ تبدیلی بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔خطے میں بھارت کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں نے جنوبی ایشیا کو مسلسل کشیدگی کی حالت میں رکھا ہوا ہے۔
پاکستان کے خلاف سازشیں، افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں، اور دیگر پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت بھارت کی اسی جارحانہ ذہنیت کا تسلسل ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ علاقائی تعاون کے فورمز غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور مشترکہ ترقی کے خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے بجائے مزید دور ہوتے جا رہے ہیں۔کشمیر کا مسئلہ اس تمام صورتحال کا سب سے تاریک پہلو ہے۔ وہاں جاری مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بھارت کے جمہوری دعوؤں کو جھوٹا ثابت کرتی ہیں۔ طاقت کے بل پر خاموشی مسلط کرنا کبھی دیرپا حل ثابت نہیں ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے ذریعے مسائل دبائے تو جا سکتے ہیں، ختم نہیں کیے جا سکتے۔
بھارت اگر واقعی امن اور استحکام چاہتا ہے تو اسے کشمیر میں جبر کی پالیسی ترک کر کے سیاسی حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔بنگلہ دیش کا فیصلہ بھارت کے لیے ایک آئینہ ہے، جس میں اسے اپنا اصل چہرہ نظر آنا چاہیے۔ یہ ایک موقع ہے کہ بھارت اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے، کھیل کو سیاست سے الگ رکھے، اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری اور احترام کی بنیاد پر تعلقات قائم کرے۔ اگر بھارت نے اس موقع کو بھی گنوا دیا تو مستقبل میں اسے مزید سفارتی تنہائی، معاشی دباؤ اور اخلاقی دیوالیہ پن کا سامنا کرنا پڑے گا۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ طاقت، غرور اور تعصب کسی قوم کو عظمت نہیں دلا سکتے۔
عظمت کا راستہ انصاف، برداشت اور احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ بھارت اگر اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا تو کھیل کے میدان سے لے کر عالمی سفارت کاری تک اسے بار بار ایسے فیصلوں اور ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس کی اپنی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ہوں گے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو نفرت کے بجائے ہم آہنگی، اور تصادم کے بجائے تعاون کو اپنا شعار بنائیں گی۔