ہمارا خیال تھا بلکہ خوش فہمی تھی غلط فہمی تھی کم فہمی تھی گمان تھا خیال تھا تصور تھا۔کہ ہمیں’’دانت درد‘‘ سے نجات مل گئی بلکہ ’’دانتوں‘‘ کہیے کیونکہ دانت دو تھے، ایک بڑی توپ جو پانچ چھ کالمی گولے داغتی تھی اور دوسری چھوٹی توپ جو چار کالمی گولے پھینکتی تھی۔صوبہ خیبر پختون خوا میں ہر صبح جب اخبار اٹھاتے تھے ڈزا ڈز اور دھواں ہی دھواں اور بیچ میں خوشخبریاں ہی خوش خبریاں۔صوبے خیبر پختون خوا کا یہ کردیا گیا ہے صوبے کا وہ کردیا گیا۔یہ گھنگرو ڈال دیے گئے ہیں وہ پائل پہنا دیے گئے ہیں یہ جھمکے وہ بالیاں یہ ہار وہ سینگار دلہن تیار۔کبھی چھوٹی توپ پڑوس کی طرف بھی داغ دی جاتی تھی اور وہاں راجکماری کو نشانہ بنالیتی تھی، یہ کام اتنے تسلسل سے چل رہا تھا کہ صوبے میں جیسے کوئی باقی نہیں رہا ہے، ہر محکمہ اور ادارہ نُور اعلیٰ نُور ہوگیا۔پورا صوبہ پورم پور ہوگیا ہر طرف سے نعمتوں، سہولتوں اور آسائشوں کا ظہور ہوگیا ہے۔
حالانکہ برسرزمین عوام کے لیے تنور ہو گیا تھا۔لیکن پھر جناب’’بانی‘‘ کو اپنے آئینہ جہاں کے ذریعے پتہ لگا کہ دسترخوان پر بیٹھا ہوا یہ’’پینڈا‘‘ شکم سیر ہوگیا ہے، نیا پینڈا بٹھانا چاہیئے کہ کافی دیر سے منتظر کھڑے ہیں اس لیے پینڈا بدل گیا۔اور اسی وقت ہمیں یہ خوش فہمی لاحق ہوگئی کہ شاید اب بڑی توپ اور چھوٹی توپ کی دھنادھن سے کچھ آرام نصیب ہوجائے لیکن ہمیں کیا خبر تھی، ہمیں کیا معلوم تھا، ہمیں کیا پتہ تھا کہ بیٹا اکبر باپ کو بخشواتا ہے۔یہ توپیں جو آگئیں ڈبل بیرل نکلیں۔کیونکہ ایک گولہ نہیں بلکہ ایک کے بعد فوراً دوسرا گولہ بھی فائر کرتی ہیں۔
ایک گولہ چھ ملی میٹر یا چھ کالمی داغتا ہے تو پھر اس کے بعد پانچ ملی میٹر یا پانچ کالمی دوسرا گولہ اس پہلے والے گولے کی تعریف میں داغا جاتا ہے اسی طرح وہ جو چھوٹی توپ ہے جسے معاون خصوصی برائے اطلاعات کہتے ہیں چار کالمی یا پانچ ملی میٹر کا ہے اس کے آس پاس سہ کالمی یا دوکالمی یا دوتین ملی میٹر کا گولہ پہلے والے گولے یا توپ کی تعریف میں داغا جاتا ہے۔ خیر یہ پی ٹی آئی کا توپ خانہ جب سے ظہور میں آیا ہے اس کی اس خصوصیت کی تعریف تو کرنا پڑے گی کہ اس نے گولہ بازی عرف بیان بازی میں یہ انقلاب برپا کیا ہے کہ ان توپوں میں سے ’’گا۔گے گی‘‘ کے روایتی گولے نہیں نکلتے بلکہ ’’ہے‘‘ کے نئے گولے نکلتے ہیں۔
اگلے زمانوں کے پرانے گولے تو یہ ہوتے تھے کہ ہم یہ کریں گے حکومت کرے گی اور بہت جلد یہ یہ اور وہ وہ ہوجائے گا۔لیکن بانی نے جو توپ خانہ قائم کیا ہے اس نے مستقبل کو کھینچ کر حال میں ڈال دیا ہے، یوں کہیے کہ جیسے بانی نے ریاست مدینہ کو ماضی سے کھینچ کر’’حال‘‘ میں پہنچایا تھا، اسی طرح کے پی کے میں اس کے وژن والوں نے مستقبل کو کھینچ کر حال کا حصہ بنادیا۔چنانچہ کے پی کے میں جو انصاف کا نیا توپ خانہ بانی کے وژن کے مطابق پرویز خٹک کی سربراہی میں نصب ہوگیا تو اس نے حلف اٹھانے کے تین سیکنڈ بعد گولہ داغا کہ کرپشن کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا’’ہے‘‘، چھ سیکنڈ بعد کا گولہ یہ تھا صوبے میں مکمل طور پر امن وامان کردیا گیا، اس طرح ایک منٹ پورا ہونے سے پہلے ہی سارا صوبہ جنت نظیر ہوگیا تھا اس کے بعد توپ خانے کی دوسری شفٹ میں سارے ادارے ٹریک پر ڈال دیے گئے جن پر انصاف کی گاڑی چل پڑی دھچک دھچک دھچک اور جب یہ تیسرا توپ خانہ یا توپ خانے کی تیسری شفٹ چلی تو بڑی توپ جو وزیراعلیٰ چلا رہے تھے اور چھوٹی جو معاون خصوصی برائے اطلاعات وتعلقات عامہ و بیانات تو اعلان آٹومیٹک ہوگیا، ہر طرف دے دھنا دھن دے دھنادھن، صوبے میں چونکہ سب کچھ ہموار ہوگیا تھا اس لیے توپ کا رُخ پڑوسی صوبے بلکہ راجکماری کی طرف کردیا گیا،جس نے پڑوسی صوبے اور راجکماری کا بلواڑہ کردیا۔کیونکہ اپنا صوبہ سارا باغ وبہار اور گل گلزار ہوچکا تھا۔ہر دہلیز پر انصاف کے ڈھیر لگ گئے ہر کچن میں اشیائے صرف کی بوریوں کے اسٹاک لگ گئے تھے کوئی مچھر بھی بے روزگار نہیں رہا اور کوئی چوہا بھی بے گھر نہیں رہاتھا۔شیر اور بکری ایک ہی بوتل میں اسٹرا ڈال کر منرل واٹر پی رہے تھے۔ لوگ ورزش کے لیے نکلتے تو سونا اچھال اچھال کر ورزش کرتے تھے۔
وزیر مشیر، معاون اورافسر مصلوں پر بیٹھ کر تسبیح پھراتے تھے اور جہاں ضرورت ہوتی وہاں مصلے اڑاکر پہنچ جاتے تھے تسبیح کو گلے میں ڈال کر خدمت میں جت جاتے تھے اور اس وقت تک جتے رہتے جب تک مسئلہ حل نہ کردیتے تھے۔سارا کام ٹھیک ٹھاک بانی کے وژن کے مطابق چل رہا تھا لیکن بانی نے آکاش بانی سنادی۔عین ممکن ہے کہ اس میں بانی کے وژن کا عمل دخل ہو کیونکہ وہ نجوم اور گردش افلاک پر یقین رکھتے ہیں بلکہ علم نجوم اور فلکیات پر بھی ایک’’ذریعے کے ذریعے‘‘دسترس رکھتے ہیں اور وہاں سے اس’’تبدیلی‘‘ کا اشارہ ملا ہو اور یہ ہر کسی کو معلوم ہے کہ وہ تبدیلی ہی کے علمبردار ہے، بہرحال وجہ کچھ بھی ہو کے پی کے میں پرانا دسترخوان لپیٹ کر نیا دسترخوان بچھاکر ’’نئے منہ‘‘بٹھا دیے گئے۔
وہ ہم نے آپ کو افغانستان کے ایک لوہار کا اور اس کی توپ کا قصہ سنایا تھا،کہ اس لوہار نے بادشاہ سے کہا کہ وہ ایک ایسی توپ بناسکتا ہے جو کابل سے دلی پر گولہ داغ سکے گی۔بادشاہ خوش ہوا کہ وہ یہاں بیٹھے بیٹھے تیمور و نادرشاہ بن جائے گا اور اتنے لمبے سفر سے بھی بچ جائے گا۔آخر لوہار نے خوش خبری سنائی کہ توپ تیار ہوگئی توپ کا مظاہرہ کرنے کی تاریخ مقرر ہوگئی۔ اس دن ایک بڑے میدان میں مظاہرے کا اہتمام کیا گیا تھا۔توپ کو بڑے اہتمام کے ساتھ ہاتھیوں سے کھینچ کر لایا گیا۔
ایک فلک شگاف دھماکہ ہوا اور ہر طرف دھوئیں کے بادل پھیل گئے، کافی دیر بعد دھواں چھٹا تو لوگوں نے دیکھا کہ جہاں توپ تھی وہاں لوہے کے ٹکڑے ہر طرف بکھرے ہوئے تھے، لوہار اور اس کا عملہ اپنی پناہ گاہ سے نکلا، بادشاہ کو دیکھا وہ شدید طیش میں تھا۔لیکن لوہار نے ذرا بھی بدمزہ ہوئے بغیر مبارک باد کا نعرہ بلند کیا اور بادشاہ سے کہا جب یہاں یہ حال ہے تو دلی میں کیا حشرنشر برپا ہوا ہوگا۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ دلی سے خبر کہیں چار پانچ مہینے میں آئے گی۔جس توپ خانے کا ہم ذکر کررہے ہیں بلکہ نیا توپ خانہ کہیے اس میں نہ صرف توپیں ہی نئی اور جدید ہوگئی ہیں بلکہ توپچیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے جو دوسرے معاون و مشیر تھے وہ بھی ڈزڈزانے لگے ہیں،اور پھر ان چھوٹی بڑی توپوں کو دیکھو وہ توپیں بھی چل پڑی ہیں جنھیں سرکاری توپیں کہا جاتا تھا۔ سیکریٹری، ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل،چئیرمین وغیرہ بھی روزانہ دوچار گولے پھینکنے میں لگے ہیں۔ سیکریٹری نے ’’دورہ‘‘ کیا، چھاپہ مارا،معائنہ کیا ہدایات دیں، احکامات جاری کردیے۔