بھارت کے مختلف شہروں میں ایک منفرد قسم کی تحریک چلی ہے۔ اس عوامی مہم میں لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے بھیک دینے سے کسی کی مدد ہو یا نہ ہو لیکن اس سے مختلف قسم کی مافیا مضبوط ہوتی ہیں اور ان کا نیٹ ورک بیرون ملک تک پھیلتا ہے لٰہذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ کسی کو خیرات نقد دینے کے بجائے انہیں کھانا پانی فراہم کر دیں۔
اس سے مانگنے والے کی فوری ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اور بھیک مافیا کا توڑ بھی ہو سکے گا۔ اطلاعات کے مطابق مہاراشٹر میں نقد خیرات دینا بند کر دیا گیا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم بھیک مانگنے والوں کو کھانے کو اور پینے کو دیں گے، مگر ایک روپیہ بھی نقد نہیں دیں گے، اگر کوئی شخص بھیک مانگ رہا ہے، تو ہم اسے کھانا اور پانی دیں گے لیکن آج سے ہم نقد خیرات نہیں دیں گے۔
ممبئی، پونے اور پورے مہاراشٹر میں یہ منفرد تحریک شروع ہو چکی ہے اور دیگر شہروں میں بھی اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھیک مانگنے والے گروہ ٹوٹ جائیں گے اور پھر بچوں کی اغوا کی وارداتیں خود بخود رک جائیں گی۔ اس طرح کے جرائم کے گروہ ختم ہو جائیں گے۔
راقم کے خیال میں یہ ایک اچھی کوشش ہے کہ جس سے دیگر مافیا کمزور ہونگی اور ظلم کے کئی دروازے بھی بند ہونگے کیونکہ اس سے منسلک کئی دھندے چل رہے ہیں۔ مثلاً اپنے بچوں سے بھیک منگوانے کے لیے یہ طبقہ اپنے بچوں کو جان بوجھ کرگندی اور قبل ترس حالت میں رکھتا ہے تاکہ دیکھنے والے ترس کھا کر خیرات دیں، ایسی طرح بچوں کو بعض اوقات بیمار اور معذور رکھا جاتا ہے تاکہ انہیں لوگ بھیک زیادہ سے زیادہ دیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام باتیں قابل توجہ ہیں اور جہاں ریاست کی ذمے داری ہے وہاں لوگوں پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے بچوں سے بھیک منگوانے والوں کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ بچے اس کرب کے ماحول سے نکل سکیں۔
اسی طرح سے بچوں کو بھیک منگوانے کے لیے اغوا کرنا اور بیرون ملک فروخت کر دینا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے کیونکہ اس طرح بیرون ملک کی کرنسی سے اور بھی زیادہ کمائی ہوتی ہے۔ یہ نظار ے ہمارے سامنے ہیں کہ بیرون ملک خاص کر سعودی عرب میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہاں کی حکومتیں اب سخت ایکشن لینے پر مجبور ہیں۔ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی اکثر سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھیج رہے کہ جن میں پاکستانی، جو دیکھنے میں اچھے خاصے صحت مند ہیں، راہ چلتے لوگوں سے بھیک مانگ رہے ہیں۔
ظاہر ہے کہ اس سے ہمارے ملک کی بدنامی بھی ہوتی ہے پھر میڈیا پر خبریں آرہی ہیں کہ منظم قسم کے لوگ اس نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں اور پاکستان سے خاص طور پر ایسے لوگوں کو لایا جا رہا ہے جو یہاں آکر بھیک مانگتے ہیں۔ خود ہمارے کئی واقف کار جو حج اور عمرے سے واپس آئے تو انھوں نے شکایت کی کہ بھیک مانگنے والے پاکستانیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ گویا بھیک مانگنے والوں کا نیٹ ورک اب عالمی سطح کا بن چکا ہے کہ جس میں صرف بھارت کا ’’ برینڈ‘‘ ہی نہیں پاکستان کا ’’ برینڈ‘‘ بھی دستیاب ہے اور یہ نیٹ ورک اس قدر مضبوط ہے کہ ریاستیں بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔
ایک عام آدمی بغیر سوچے سمجھے کسی پر ترس کھا کر، دس روپے کا نوٹ نکال کر دے دیتا ہے، اگر غورکیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ دس روپے کا حقیر سا، معمولی سا نوٹ ہی مذکورہ بالا بیان کردہ خرابیوں کا ذمے دار ہے اور یہی دس روپے کا نوٹ اس سارے نیٹ ورک کو چلا رہا ہے، لیکن ایک اہم ترین سوال تو یہ ہے کہ کسی کی مدد کیوں اور کس طرح کی جائے؟ کیا صرف ظاہری شکل پر جاکر نقد امداد دے دی جائے؟ راقم نے ایک ایسے شخص کو ہفتہ بازار میں کئی مرتبہ دیکھا کہ جس کے دونوں پاؤں صرف گھٹنے تک تھے اور ہاتھ بھی صرف کہنیوں تک تھے اور وہ پورے بازار میں ایک تھال کے ساتھ گھسٹتا رہتا تھا، لوگوں کی خیرات سے اس کا تھال نوٹوں سے بھرا نظر آتا تھا۔
سوال یہ ہے کہ ایسے معذور شخص کو تو ایک جگہ آرام سے بیٹھا کر اس کے کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنی چاہیے تھیں، پھر آخر کس نے اس معذور کو سخت گرمی میں بازار میں اس طرح گھسٹنے اور بھیک مانگنے پر مجبور کیا؟ اس کی ضرورت تو محض دو وقت کی روٹی تھی پھر کون اس سے یہ سخت کام کرا رہا ہے؟ اور پھر یہ جو دن بھر نوٹ جمع کر رہا ہے وہ کون لے کر جائے گا؟ یہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں اور کیسے جائے گا؟ ان سوالوں پر غور کرنے کے بجائے لوگ اس کی تھال نوٹوں سے بھرتے ہیں۔
ان تمام مسائل کا حل صرف یہ ہے کہ ہم کسی انجانے کو نقد رقم نہ دیں اور صرف کھانے، پینے کو دیں جیسا کہ بھارت کے شہروں میں مہم چل رہی ہے۔ تاہم یہاں ایک اہم سوال یہ بھی تو اٹھتا ہے کہ کسی انسان کی ضرورت صرف کھانا پینا تو نہیں، کپڑوں وغیرہ جیسی کئی اور ضرورتیں بھی تو ایک انسان ہی کی ہوتی ہیں اور اگر اس کے گھر میں دیگر افراد بھی ہیں تو ظاہر ہے کہ ان سب کی ضروریات بھی ہونگی۔
سیدھی سی بات ہے کہ بازاروں وغیرہ میں انجانے افراد کو رقم کے بجائے صرف فوری ضرورت کی اشیاء دی جائیں جیسے کھانا، پانی وغیرہ لیکن اپنے اردگرد نظر رکھی جائے کہ کون کون کسمپرسی کی حالت میں ہے؟ ایسے لوگوں کی مدد کی جائے۔ ایسے لوگ ہمارے آس پڑوس، محلے اور دفتروں وغیرہ میں بھی مل جاتے ہیں ضرورت صرف توجہ دینے کی اور خبر گیری کرنے کی ہوتی ہے۔
مثلاً ہو سکتا ہے کہ بظاہر کوئی دوست، پڑوسی جس کو ہم مالی لحاظ سے بہتر سمجھتے ہوں لیکن وہ روزگار نہ ملنے کے سبب یا اپنے گھر میں کسی کی بیماری پر خرچے کے باعث، مالی طور پر سخت پریشان ہو، اگر ہم اپنے آس پاس نظر رکھتے ہیں اور خبر گیری بھی رکھتے ہیں یا تھوڑا بہت غور کرنے کی عادت رکھتے ہیں تو ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ کس کو، کس وقت ہماری مدد کی ضرورت ہے، ایسے شخص کی ہر قسم کی امداد کرنی چاہیے اور اس طرح کہ اس کی عزت بھی خراب نہ ہو۔
مذکورہ بات نہایت اہم ہے کیونکہ عام طور پر ہم صرف کسی بازار میں مانگنے والے کو رقم نہیں دیتے، بلکہ کسی نہ کسی بڑی تنظیم کو چندہ، خیرات وغیرہ بھی دیتے رہتے ہیں کہ چلو یہاں سے ہماری رقم کسی مستحق تک پہنچ جائے گی، لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ کسی تنظیم یا ادارے کو دی گئی ہماری رقم پہلے اس ادارے کے اکاؤنٹ میں جائے گئی پھر مختلف مراحل سے ہوتی ہوئی کسی دوسرے فرد تک پہنچے گی جب کہ اگر میں اپنے کسی پڑوسی یا دفتر کے کسی مستحق فرد کو دے دو، تو اس کو فوراً مل جائے گی، اس کے دل میں میرے لیے جگہ بھی بنے گی اور مجھے بھی نیکی کرنے کے بعد قلبی اطمینان و سکون ہوگا۔ اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ خیرات لینے والے بڑے ادارے جب کروڑوں، اربوں کی رقم امداد میں جمع کر لیتے ہیں، تو اس میں سے کروڑوں روپے اپنے ادارے کو چلانے کے اخراجات کے ضمن میں نکال بھی لیتے ہیں۔ گویا لوگ جو رقم امداد کے لیے کسی ادارے کو دیتے ہیں، مستحق لوگوں تک پہنچنے سے قبل کم ہو جاتی ہے جب کہ ہم کسی کو براہ راست رقم دیتے ہیں تو پوری رقم مستحقین تک پہنچتی ہے، آئیے! غور کریں۔