وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا نے اپنی پارٹی کے بانی سے جس طرح کھلے عام عشق کا اعلان کیا ہے، ایسا اظہار پہلے کسی وزیر اعلیٰ نے نہیں کیا جب کہ صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ گنڈاپور بھی سابق وزیر اعظم کے بہت قریب تھے مگر وہ بھی اپنے بانی کے عشق میں اس انتہا پر نہیں گئے جس کا اظہار موجودہ وزیر اعلیٰ آفریدی کر چکے ہیں۔ کے پی کی پی ٹی آئی کی بارہ سالہ حکومت میں وہاں پرویز خٹک اور محمود خان بھی پانچ سال وزیر اعلیٰ رہے مگر انھوں نے کبھی اپنے سیاسی عشق کا کبھی اعلانیہ اظہار نہیں کیا تھا اور اپنے بانی سے عمر میں بڑے وزیر اعلیٰ کے پی پرویز خٹک نے اپنے بانی کے جلسے میں ڈانس ضرور کیا تھا مگر منہ سے اپنے عشق کا اظہار نہیں کیا تھا جس کے بعد محمود خان نے بھی عشق کی سیاست نہیں دکھائی تھی اور دونوں ہی اب اپنے بانی کو چھوڑ چکے ہیں۔
کے پی کے دو سابق وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں 2024 میں ہٹائے گئے وزرائے اعلیٰ سابق بزرگ وزرائے اعلیٰ سے کم عمر ہیں مگر گنڈا پور سے کم عمر موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے عشق کا برملا اظہار کرکے سب کو پیچھے چھوڑ کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے مسائل میں گھرے صوبے کی خدمت کرنے نہیں بلکہ اپنے بانی سے عشق نبھانے کے لیے وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔
پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ خدمت میں تمام صوبوں سے آگے ہے اور صحت کے میدان میں سندھ کا مقابلہ کسی صوبے سے نہیں دنیا سے ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں ان کی پھوپھی وزیر صحت ہیں جو سیاست سے زیادہ خدمت کو ترجیح دے کر اپنی وزارت پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ صدر مملکت نے باہمی معاہدے کے تحت پنجاب اور کے پی میں پیپلزپارٹی کے گورنر رکھنے تھے، جس پر پنجاب میں انھوں نے پنجاب کے کسی اہم پی پی رہنما کی بجائے ایک غیر معروف شخصیت سردار سلیم حیدر کو گورنر پنجاب مقرر کیا اور سابق گورنر پنجاب احمد محمود اور سابق وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ جیسے تجربے کار سیاستدان کو اہمیت نہیں دی اور پی پی میں واپس آنے والے ندیم افضل چن کو اہمیت دی جو صدر زرداری کے قریبی ساتھی ہیں، جو پنجاب میں پی پی کے لیے کچھ کر سکتے تھے ۔ بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانا رہ گیا ہے اور وہ ایسے ہی بیانات دیتے آ رہے ہیں جس سے پنجاب میں پی پی کو اب تک تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا، جو شاید پی پی چیئرمین بلاول زرداری کا انتخاب ہیں۔
کے پی میں ضرور ایک سینئر رہنما فیصل کریم کنڈی کو اہمیت دی گئی جو اپنے ضلع ڈی آئی خان میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ڈیڑھ سال تک سخت مزاحمت کرتے رہے مگر نیا وزیر اعلیٰ آنے کے بعد خاموش نظر آ رہے ہیں اور صدر مملکت کے بھی قریب ہیں۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ اپنے چیئرمین بلاول زرداری کی محبت اور عشق میں مبتلا ہیں جنھیں بلاول زرداری نے دوبارہ وزیراعلیٰ بنوایا تھا جس کے صلے میں وہ بھی بلاول بھٹو زرداری کو مستقبل میں وزیر اعظم دیکھنے کے لیے ازحد کوشاں ہیں اور ہر وقت بلاول بھٹو کے قریب رہتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو سندھ کے مسائل سے زیادہ اپنے نوجوان چیئرمین کی خوشنودی کی زیادہ فکر رہتی ہے اور وہ بلاول بھٹو کے وژن کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ سندھ کی وزارت اعلیٰ پر زیادہ اجارہ داری سیدوں کی رہی ہے۔ 1989 میں بے نظیر بھٹو نے آفتاب میرانی کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا جن کے لیے مشہور تھا کہ وہ محترمہ کے نہایت ہی قریب تھے جنھیں بعد میں محترمہ نے وزیر دفاع بھی مقرر کیا تھا اور صدر زرداری بھی انہیں اہمیت دیتے تھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا عشق ان کے غیر ملکی دورے ہیں۔ وہ ہر ماہ ہی نہیں بلکہ ایک ماہ میں کئی کئی غیر ملکی دورے کر رہے ہیں اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تو غیر ملکی دوروں میں وزیر اعظم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اقتدار میں آنے کی ہر سیاستدان کی خواہش ہوتی ہے مگر عقب کے دروازے سے ناکامی کے بعد جو جنرل پرویز مشرف نے پوری نہ ہونے دی تھی بعد میں بالاتروں نے بانی پی ٹی آئی کو ایماندار اور ملک سے مخلص سمجھ کر پوری تو کرا دی تھی مگر بعد میں بانی کی انتقامی سیاست، من مانی اور طویل اقدار کے عشق کو دیکھ کر ساڑھے تین سال بعد وہ پیچھے ہٹے تو بانی نے ان پر جھوٹے الزامات کا ریکارڈ بنایا اور اقتدار میں لانے والے اپنے ہی محسنوں کو بھی نہیں بخشا اور حصول اقتدار کے عشق میں مبتلا ہو کر وہ کچھ کر دکھایا کہ جو آج تک کسی سیاستدان نے نہیں کیا تھا۔ بانی کے عشق اقتدارکی انتہا یہ ہے کہ اپنی آئینی برطرفی کا انہیں صدمہ تھا کہ انھوں نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ مجھے ہٹانے سے بہتر تھا کہ ملک پر ایٹم بم گرا دیا جاتا اس سے بڑی ملک دشمنی کی کوئی مثال نہیں ہوتی۔
بھٹو کے عشق میں بعض جیالوں نے خود کو جلایا تھا مگر بانی کے عشق میں کسی یوتھیے نے تو ایسا نہیں کیا وہ صرف اپنے عشق میں بانی کو صرف ووٹ ہی دے سکتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ سیاسی کارکن اپنے اپنے رہنما سے عشق کرتے ہیں اور اپنے رہنما کی اگر وہ اپنی آنکھوں سے برائی دیکھ لیں وہ تب بھی اس پر یقین نہیں کرتے اور اپنے رہنما ہی کو درست سمجھتے ہیں۔ عشق صرف اپنے ملک سے ہونا چاہیے کیونکہ ملک ہے تو سیاست بھی رہے گی ۔ رہنما چلے جاتے ہیں نیا رہنما آ جاتا ہے مگر ملک و قوم سے مخلص رہنما برائے نام رہ گئے ہیں باقی سب اپنے مفاد سے ہی مخلص ہیں۔