کراچی:
کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت کمشنر آفس میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ فٹ پاتھوں، سڑکوں اور سروس روڈز پر قائم تجاوزات اور سٹنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف کارروائی بلا تعطل جاری رکھی جائے گی۔
اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز نے بالمشافہ جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
کمشنر کراچی نے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ تجاوزات کے خاتمے کی مہم مزید مؤثر بنائی جائے اور دکانداروں سے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دکانداروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ مقررہ حدود میں کاروبار کریں تاکہ شہر میں ٹریفک دباؤ کم ہو اور سرکاری زمینوں سے تجاوزات کے خاتمے کی حکومتی کوششیں کامیاب ہو سکیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جو دکاندار ایس او پیز پر عملدرآمد کی تحریری یقین دہانی کے طور پر حلف نامہ جمع نہیں کرائے گا، اس کی دکان نہیں کھولی جائے گی۔
تین روز تک سیل رہنے والی دکانوں کے مالکان متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں حلف نامہ جمع کرا سکتے ہیں، جس کے بعد ایس او پیز جمع کرانے والی دکانوں کو مرحلہ وار کھولا جائے گا۔
مزید فیصلہ کیا گیا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دکان سیل ہونے کے تین دن مکمل ہونا لازمی ہوگا، جبکہ حلف نامہ جمع کرانے کے باوجود خلاف ورزی کی صورت میں دکاندار کو گرفتار کیا جا سکے گا اور اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جائے گی۔
اس سے قبل اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹرز رابعہ سید نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈپٹی کمشنرز کی رپورٹس کے مطابق اب تک مختلف اضلاع میں 430 دکانیں جبکہ 177 روڈ سائڈ ہوٹل سیل کیے جا چکے ہیں۔
سب سے زیادہ 246 دکانیں ضلع جنوبی میں سیل کی گئیں، جبکہ ضلع شرقی میں 98، ضلع وسطی میں برنز مارکیٹ کی 22 دکانوں سمیت مجموعی طور پر 27 اور ضلع کورنگی میں 33 دکانیں سربمہر کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیل کیے گئے 177 روڈ سائڈ ہوٹلوں میں ضلع جنوبی کے 76، ضلع شرقی کے 52، ضلع وسطی کے 19 اور ضلع کورنگی کے 31 ہوٹل شامل ہیں۔