لاہور:
پنجاب حکومت اور بیوروکریسی کے لیے سال 2025ء تلخ یادیں اور نہ ٹوٹنے والے ریکارڈ چھوڑ گیا.
ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ چیف سیکریٹری ،آئی جی پولیس سمیت دیگر اہم انتظامی عہدوں پر تعینات افسران کو تبدیل نہیں کیا گیا بلکہ نگران دور سیٹ اپ کو ہی پروموٹ کیا گیا.
2024 میں ٹرانسفر پوسٹنگ پر عائد پابندی سال 2025 میں بھی جاری رہی مگر وزیر اعلیٰ کی منظوری سے ٹرانسفر پوسٹنگ ہوتی رہی.
تمام سرکاری محکمے سینٹرلائزڈ رہے سپاہی سے لیکر ایڈیشنل آئی جی نائب قاصد سے لیکر محکمہ کے سیکریٹری تک کی ٹرانسفر پوسٹنگ کو وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ سے کنٹرول کیا جاتا رہا۔
پابندی کے باوجود گریڈ ایک سے لیکر گریڈ 21 تک کے دو ہزار سے زائد سول و پولیس افسران و ملازمین کو تبدیل کیا گیا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون اور روزنامہ ایکسپریس کو دستیاب ریکارڈ کے مطابق سال 2025 بھی افسر شاہی کے لیے یونیک سال کے طور پر جانا جائے گا اس سال نئے ریکارڈ بن گئے ہیں۔
35 سے زائد سول و پولیس افسران صوبے کے سیاہ و سفید کے مالک اور حکومت کی آنکھ کا تارا رہے ، پنجاب کے ہر منظر پر چھائے رہے نگران دور سے تعینات یہ افسران اس سال بھی پنجاب کے کنگ میکر رہے۔
اس کے برعکس پنجاب میں گزشتہ سال کچھ افسران ٹرانسفر پوسٹنگ کے نام پر شٹل کاک بنے رہے دستیاب معلومات و ریکارڈ کے مطابق موجودہ حکومت گزشتہ سال یہ بھی اعزاز حاصل ہو گیا کہ وہ دیگر صوبوں یا وفاق سے بہت کم افسران لائی۔
صرف نگران حکومت دور کے افسران سے ہی استفادہ کر کے صوبے میں بیوروکریسی کے نظام کو سنٹرلائزڈ طریقہ سے چلایا گیا۔
پابندی کے باوجود سمریوں پر پنجاب کی افسر شاہی میں جاری تبادلوں کا "سونامی '' دسمبر کے آخری ہفتے تک بھی زور و شور سے جاری رہا ۔