تنخواہ دار افراد نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے

ملک بھر میں وصول ہونیوالے مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً ہر 10 میں سے ایک روپیہ بنتا ہے


شہباز رانا January 05, 2026

اسلام آباد:

جاری مالی سال کے پہلے 6ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو ملک بھر میں وصول ہونیوالے مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً ہر دس میں سے ایک روپیہ بنتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جولائی تا دسمبر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق سرکاری و نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کی جانب سے ادا کیا گیا ٹیکس اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے ادا کردہ ٹیکس سے دوگنا سے بھی زیادہ رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار افراد نے 266 ارب روپے سے کچھ زائد انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ ہے۔

یہ رقم بک ایڈجسٹمنٹس کے بغیر ہے۔ گزشتہ مالی سال میں بْک ایڈجسٹمنٹس کے بغیر انکم ٹیکس کی وصولی 243 ارب روپے تھی۔

پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ غیر ضروری طور پر بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور ایف بی آر کی سست روی کا شکار ہے جو ٹیکس وصولی کا بوجھ موجودہ ٹیکس دہندگان، بالخصوص تنخواہ دار افراد اور صنعتکاروں پر ڈال دیتا ہے۔

تنخواہ دار طبقہ اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 38 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے، جو نہ صرف خطے کے دیگر ممالک بلکہ رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے قومی کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے کہا تھا کہ ہم نے اپنی مالی صورتحال کو بگاڑ دیا ہے، اسی لیے حکومت کے پاس واحد حل ٹیکسیشن رہ گیا ہے اور آپ کاروباری حضرات آسان ہدف ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نان کارپوریٹ ملازمین نے سب سے زیادہ 117 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔

کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 82 ارب روپے ادا کیے، جو سال بہ سال 13 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

ایف بی آر کو کم کر کے مقرر کیے گئے 6.5 ٹریلین روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، جس کے باعث اسے بھاری ایڈوانس وصولیوں اور ٹیکس دہندگان کے ریفنڈز کی ادائیگی میں سست روی اختیار کرنا پڑی۔

اس کے باوجود مجموعی وصولیوں میں بمشکل 10 فیصد اضافہ ہو سکا، جو سالانہ ہدف کے لیے درکار شرح کا نصف تھا۔پہلے 6 ماہ میں ایف بی آر نے 3.03 ٹریلین روپے انکم ٹیکس وصول کیا، جس میں سے تقریباً دسواں حصہ تنخواہ دار افراد سے وصول ہوا۔

صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 39 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد کم ہے، جبکہ وفاقی ملازمین کی ادائیگیاں 27 ارب روپے رہیں، جن میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔

حکومت کی جانب سے امیر پنشنرز پر عائد نیا ٹیکس، جو سالانہ 1 کروڑ روپے سے زائد پنشن پر نافذ کیا گیا، خاطر خواہ نتائج نہ دے سکا اور اندازہ ہے کہ سالانہ وصولیاں بمشکل 1 ارب روپے تک پہنچیں گی۔

داخلی دباؤ کے تحت حکومت نے گزشتہ ماہ دوبارہ رٹائرڈ ملازمین کو ایک سے زائد پنشن لینے کی اجازت دے دی، جس سے پنشن اصلاحات اور اخراجات میں کمی کے دعوؤں کو نقصان پہنچا۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی زیادہ ٹیکسوں کا سامنا رہا، جس میں نان فائلرز کے لیے بلند شرحیں اور لیٹ فائلرز کی نئی کیٹیگری شامل ہے۔

پلاٹوں کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی دو تہائی بڑھ کر 87 ارب روپے ہو گئی، جبکہ پلاٹوں کی خرید پر وصولیاں 29 فیصد کم ہو کر 39 ارب روپے رہیں۔

بجٹ میں حکومت نے پلاٹوں کی خرید پر ٹیکس کم جبکہ فروخت پر شرح بڑھا دی تھی۔مجموعی طور پر حکومت نے مالی سال کے پہلے نصف میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا، جو 17 فیصد اضافہ ہے۔

مقبول خبریں