بھارتی ریاست راجستھان میں ہندوتوا کے کارکنوں نے ایک بزرگ شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا اور نیم مردہ حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان، جہاں مودی سرکار کی حکومت قائم ہے، ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔
ریاست راجستھان کے ایک گاؤں میں ہندوتوا کے جنونی دہشت گردوں نے ایک نامعلوم مسلم بزرگ شخص کو نہایت تشدد کا نشانہ بنایا۔
ان بے لگام حملہ آوروں نے مسلم بزرگ پر پہلے تو گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگایا اور زمین پر گھسیٹتے رہے تاہم جب کوئی ثبوت نہ ملا تو نیا الزام گھڑ لیا۔
ہندوتوا کے غنڈوں نے مسلم بزرگ شہری سے شناختی اور آدھار کارڈ مانگا اور پھر انھیں روہنگیا یا بنگلا دیش سے بھارت میں دراندازی کے لیے داخل ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بزرگ شخص زمین پر بے بسی کے عالم میں پڑے ہوئے ہیں اور 8 سے 10 نوجوان اس کے گرد کھڑے ہو کر لاتیں اور گھونسے مار رہے ہیں۔
چند ایک نے تو ادھ موئے بزرگ پر لاٹھیاں بھی برسائیں اور تھپڑ بھی مارے۔ حملہ آور لگاتار بزرگ شہری کو مغلظات بھی بکتے رہے۔
مسلم بزرگ کو مردہ سمجھ کر ہندوتوا کے جنونی دہشت گرد جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے۔
علاقہ مکینوں نے مسلم بزرگ کو نیم مردہ میں قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں مودی سرکار کے مسلسل دوسرے دورِ اقتدار میں اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔
ہندوستان کو اکھنڈ بھارت بنانے کے لیے ہندوتوا ازم کو فروغ دیا جا رہا ہے اور کبھی گاؤ ماتا کی رکھشا تو کبھی کسی بھگوان کی جنم بھومی کے نام پر مسلمانوں کی زندگیوں اور املاک کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔