انڈونیشیا میں مسلسل بارشوں سے دریا ابل پڑے اور ڈیم کے بند ٹوٹ گئے جس سے سیلابی ریلہ رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیلابی ریلے میں کیچڑ اور ملبہ بھی شامل ہوگیا جس نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔
سیلاب کے تیز بہاؤ کے باعث متعدد مکانات، پل اور سڑکیں بہہ گئیں جب کہ جو علاقے سیلاب سے بچ گئے وہاں موسلادھار بارشوں سے نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔
مسلسل بارشوں کے باعث بعض دیہی علاقوں میں رابطہ منقطع ہوچکا ہے جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ریسکیو ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ سیلاب اور بارشوں میں کم از کم 16 افراد جاں بحق، 18 زخمی اور 4 لاپتا ہیں۔
شمالی سولاویسی کے گورنر کا کہنا ہے کہ سیلاب سے سیکڑوں رہائشی مکانات، سرکاری عمارتیں، اسکول اور بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ان کے بقول اب تک 444 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا جبکہ متاثرین کے لیے عارضی پناہ گاہیں، طبی سہولتیں اور خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں، فوج اور رضاکار لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں تاہم بعض علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث آپریشن سست روی کا شکار ہے۔
انڈونیشیا کے محکمہ موسمیات، آب و ہوا اور ارضیات نے خبردار کیا ہے کہ جنوری اور فروری 2026 کے دوران ملک کے کئی حصوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جاوا، سولاویسی، مالوکو اور پاپوا کے جزائر میں مزید سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور طوفانی صورتحال کا خطرہ موجود ہے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ دریا کنارے اور نشیبی علاقوں میں غیر ضروری آمدورفت سے گریز کریں اور ہنگامی صورتِ حال میں مقامی انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا ایک ایسا ملک ہے جو ہر سال مون سون کے موسم میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی آفات کا سامنا کرتا ہے۔
ماہرین کے بقول موسمیاتی تبدیلی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور جنگلات کی کٹائی ان آفات کی شدت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔