ملائیشیا کے سابق وزیرِ اعظم 100 سالہ مہاتیر محمد اپنے گھر کی بالکونی سے ڈرائنگ روم جاتے ہوئے پھسل کر گرگئے جس پر انھیں اسپتال میں داخل کیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اہل خانہ نے فوری طور پر مہاتیر محمد کو نیشنل ہارٹ انسٹی ٹیوٹ لے کر گئے جہاں حال ہی میں ان کی دل کی سرجری بھی ہوئی تھی۔
سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کے معاون صوفی یوسف نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم ہوش میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ انھیں اسپتال میں داخل کیا جائے گا یا نہیں۔
یاد رہے کہ مہاتیر محمد حالیہ برسوں میں مختلف طبی مسائل کا شکار رہے ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں اپنی 100 ویں سالگرہ پر ایک سادہ تقریب کے بعد انہیں شدید تھکن کے باعث اسپتال میں داخل کرنا پڑا تھا۔
مہاتیر محمد کو 1989 سے دل کے مختلف عارضوں کا سامنا رہا ہے۔ 2007 میں بھی انھیں دل سے متعلق علاج اور بائی پاس کے مرحلے سے بھی گزرنا پڑا۔
گزشتہ چند برسوں سے انھیں وقفے وقفے سے تھکن، سانس کی تکلیف اور دل کی کمزوری کے باعث اسپتال میں داخل ہونا پڑا ہے۔
خیال رہے کہ مہاتیر محمد 1981 سے 2003 تک مسلسل 22 سال وزیراعظم رہے۔ اس طرح وہ ملائیشیا کے سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے رہنما بن گئے۔
بعد ازاں 2018 میں ایک بار پھر اقتدار میں آئے اور 2020 تک وزیر اعظم رہے۔ ان دوبرسوں کو بھی ملالیا جائے تو مہاتیر محمد مجموعی طور پر 24 برس وزیراعظم رہے۔
اپنے دوسرے دور حکومت میں وہ دنیا کے معمر ترین منتخب سربراہ حکومت قرار پائے تھے۔
مہاتیر محمد آج بھی ملائیشیا میں ایک بااثر اور قابل احترام سیاسی شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور قومی و عالمی امور پر ان کی آراء کو اہمیت دی جاتی ہے۔