پاک چین اسٹرٹیجک مذاکرات، مشترکہ اعلامیہ

چین، پاکستان اقتصادی راہداری، جو ابتدا میں ایک جرات مندانہ تصور کے طور پر سامنے آئی تھی


ایڈیٹوریل January 07, 2026

پاکستان اور چین نے افغان طالبان کو ایک مضبوط اور مربوط پیغام دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے کام کرنے والی تمام دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے واضح اور قابل تصدیق اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، یہ پیغام پاک چین وزرائے خارجہ کے اسٹرٹیجک مذاکرات کے ساتویں دور کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں دیا گیا۔ دونوں ممالک سی پیک کا اپ گریڈ ورژن بنائیں گے، صنعت، زراعت، کان کنی، بینکنگ اور مالیاتی شعبوں میں تعاون کو مزید تیز کریں گے۔

 پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو اگر عصرِ حاضر کی عالمی سیاست کا ایک مستحکم ستون کہا جائے، تو یہ محض ایک مبالغہ نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت ہے۔ دونوں ممالک بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں اپنی شراکت داری کو نئی سمت، نئی رفتار اور نئی گہرائی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

یہ ڈائیلاگ ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب دنیا ایک غیر یقینی سیاسی، معاشی اور سلامتی کے ماحول سے گزر رہی ہے، جہاں طاقت کے توازن بدل رہے ہیں، اتحاد تشکیل پا رہے ہیں اور تنازعات نئی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور چین کا باہمی ہم آہنگی، اعتماد اور مشترکہ وژن پر مبنی تعلق خطے کے لیے استحکام کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔

 افغانستان میں افغان طالبان کی عبوری حکومت قائم ہوئے کئی برس گزر چکے ہیں، مگر خطے کے امن و استحکام سے جڑے بنیادی سوالات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ پاکستان اور چین کی جانب سے یہ مطالبہ کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کا مکمل خاتمہ کریں، دراصل محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ خطے میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ، تشدد اور بداعتمادی کا عکاس ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن رہا ہے، مگر اس توجہ کی وجہ تعمیر و ترقی نہیں بلکہ وہ خطرات ہیں جو اس کی سرزمین سے جنم لے کر ہمسایہ ممالک کو متاثر کر رہے ہیں۔

 افغانستان کی جغرافیائی حیثیت ہمیشہ سے خطے کے لیے اہم رہی ہے۔ وسطی اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع یہ ملک اگر پرامن ہو تو تجارتی راہداریوں، علاقائی تعاون اور معاشی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر یہاں دہشت گرد تنظیمیں پنپتی رہیں تو یہی خطہ بدامنی، اسلحہ، منشیات اور انتہا پسندی کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں یہی دوسرا منظر نامہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ افغان طالبان کی حکومت نے بارہا یہ یقین دہانیاں کرائی ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان کو اس صورتحال کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہوں کی افغانستان میں موجودگی ایک کھلا راز ہے۔ پاکستان میں ہونے والی متعدد دہشت گرد کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان سے جا ملتے ہیں، جہاں ان عناصر کو پناہ، تربیت اور سہولت کاری میسر ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے داخلی امن، معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔افغان طالبان اور وہاں موجود دہشت گرد گروہوں کے درمیان نظریاتی، قبائلی اور عملی روابط کسی سے پوشیدہ نہیں، اگرچہ افغان طالبان باضابطہ طور پر ان روابط سے انکار کرتے ہیں، مگر عملی اقدامات کی کمی اس انکار کو بے وزن بنا دیتی ہے۔

پاکستان نے بارہا ثبوتوں کے ساتھ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی میں افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود افغان طالبان کی جانب سے نہ تو ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں دیکھنے میں آئی ہیں اور نہ ہی ان کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر آتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہوگئی ہے۔

 چین کے خدشات بھی کم اہم نہیں۔ چین کے لیے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ اس کی داخلی سلامتی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے تناظر میں، جس کے باعث دونوں ممالک کے تجربات اور خدشات میں ایک فطری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا اثر صرف پاکستان اور چین تک محدود نہیں بلکہ پورا خطہ اس سے متاثر ہو رہا ہے۔

وسطی ایشیائی ریاستیں اپنی سرحدوں کے حوالے سے فکرمند ہیں، ایران کو فرقہ وارانہ اور سرحدی سلامتی کے مسائل درپیش ہیں، جب کہ روس بھی اس خطرے کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ حالیہ دنوں میں تاجکستان کی سرحد پر افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں، یوں افغانستان ایک بار پھر اس مقام پرکھڑا نظر آتا ہے، جہاں اس کی داخلی پالیسیاں علاقائی سلامتی کے توازن کو متاثر کر رہی ہیں۔

 اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغان طالبان عالمی برادری سے تسلیم شدہ حکومت کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر اس کے لیے جو ذمے داریاں نبھانا ضروری ہیں، ان سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ کسی بھی ریاست کے لیے یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ریاستی رٹ قائم کرے اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کو پنپنے نہ دے۔ افغان طالبان اگر واقعی ایک ذمے دار حکومت کے طور پر سامنے آنا چاہتے ہیں تو انھیں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنا ہوگی۔ محض بیانات اور وعدے اب کافی نہیں رہے، کیونکہ خطے کے ممالک ان وعدوں کے نتائج اپنی سرزمین پر بھگت رہے ہیں۔

 پاکستان کے لیے یہ صورتحال دہری آزمائش بن چکی ہے۔ ایک طرف وہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور علاقائی امن کا خواہاں ہے، دوسری طرف اس کی اپنی سلامتی کو درپیش خطرات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغانستان میں امن کے لیے سفارتی کوششیں کیں ، مگر اس کے جواب میں پاکستان کو بداعتمادی اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال پاکستان کے عوام میں بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے کہ آخر کب تک یکطرفہ صبر کا مظاہرہ کیا جائے۔

افغان طالبان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے، اگر وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اور شفاف اقدامات نہیں کرتے تو افغانستان عالمی تنہائی کا شکار رہے گا۔ معاشی پابندیاں، انسانی بحران اور سفارتی تنہائی اس ملک کے مقدر کا حصہ بنی رہیں گی۔ اس کے برعکس اگر افغان طالبان واقعی دہشت گردی کے خاتمے کی راہ اپناتے ہیں تو نہ صرف خطے کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ افغانستان خود بھی ترقی اور استحکام کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔

 دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دے کر وقتی فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں، مگر اس کی قیمت ہمیشہ قومی سلامتی، عالمی ساکھ اور عوامی فلاح کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ پاکستان اور چین کا مطالبہ اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ خطے میں امن کسی ایک ملک کے مفاد کا نہیں بلکہ سب کی مشترکہ ضرورت ہے، اور اس ضرورت کو پورا کرنے کی ذمے داری سب سے بڑھ کر افغان طالبان پر عائد ہوتی ہے۔

چین، پاکستان اقتصادی راہداری، جو ابتدا میں ایک جرات مندانہ تصور کے طور پر سامنے آئی تھی، آج عملی حقیقت بن چکی ہے، تاہم اب دونوں ممالک کی جانب سے سی پیک کے اپ گریڈ ورژن کا اعلان اس بات کی دلیل ہے کہ یہ منصوبہ جامد نہیں بلکہ وقت کے تقاضوں کے ساتھ ارتقا پذیر ہے۔ صنعتی تعاون کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان کی برآمدات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے پاکستان اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی منڈیوں میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ کان کنی کے شعبے میں پاکستان کے قدرتی وسائل طویل عرصے سے نظرانداز ہوتے رہے ہیں، اور چین کے ساتھ تعاون اس شعبے کو ترقی کی نئی راہوں پر ڈال سکتا ہے۔ بینکنگ اور مالیاتی شعبوں میں تعاون سے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو گا، جس کا براہِ راست فائدہ معیشت کو پہنچے گا۔

 یہ تمام نکات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ساتواں اسٹرٹیجک ڈائیلاگ محض ایک سفارتی تقریب نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ بلاشبہ پاکستان اور چین کے تعلقات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں امکانات چیلنجز سے کہیں زیادہ ہیں۔ مشترکہ اعلامیہ ایک عزم، ایک وعدہ اور ایک سمت کا تعین ہے، اگر دونوں ممالک اس عزم کو عملی اقدامات میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ شراکت داری نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ خطے کی مجموعی سیاست، معیشت اور سلامتی پر دیرپا مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی، جسے اکثر پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی قرار دیا جاتا ہے، آج بھی اسی قوت کے ساتھ قائم ہے اور یہی قوت مستقبل کے اندھیروں میں روشنی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

مقبول خبریں