وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور نیویارک کی عدالت میں پیشی کے بعد امریکی فورسز کے تیل بردار جہازوں کو ضبط کرنے پر عالمی تناؤ میں اضافہ ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے امریکی فورسز کی جانب سے بحر اوقیانوس کے پانیوں پر تیل بردار جہاز کو ضبط کرنے پر ردعمل سامنے آگیا۔
روس کا کہنا ہے کہ امریکا نے جہاز کو بلا جواز ضبط کرکے بین الاقوامی بحری قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے جس کے لیے اسے جوابدہ ہونا چاہیئے۔
روس کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحری افواج کی کارروائی کے بعد روسی پرچم بردار تیل بردار جہاز مارینیرا سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحریہ نے جہاز پر چڑھائی کی اور عملے کو تحویل میں لے لیا اور تاحال کسی سے رابطے کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے 1982 کے اقوامِ متحدہ کنونشن برائے قانونِ سمندر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی تمام ممالک کو حاصل ہے اور کوئی بھی ریاست کسی دوسرے ملک کے قانونی طور پر رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
ادھر روسی وزارت خارجہ نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ ضبط کیے گئے روسی پرچم بردار تیل بردار جہاز مارینیرا پر سوار روسی شہریوں کی فوری اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ جہاز پر موجود تمام روسی شہریوں کے ساتھ انسانی، مہذب اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کیا جائے اور ان کی وطن واپسی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
یاد رہے کہ امریکی حکام کا مؤقف تھا کہ روسی پرچم بردار جہاز ’مارینیرا‘ کو امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی پر وفاقی عدالت کے وارنٹ کے تحت ضبط کیا گیا۔
امریکی فوج کے یورپی کمانڈ کے مطابق اس کارروائی میں کوسٹ گارڈ اور دیگر اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
یاد رہے کہ امریکا، روس اور وینزویلا کے درمیان توانائی، پابندیوں اور سمندری تجارت کے معاملات پر پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔