ایم ایل ون کو خطرہ، 465 ارب روپے کا متنازع موٹر وے منصوبہ منظور

پنجاب حکومت کے حصے کے بغیر منصوبہ کلیئر، 2 برس میں 76 فیصد لاگت بڑھ گئی


شہباز رانا January 07, 2026

اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے کے 465 ارب روپے مالیت کے صوبائی نوعیت کے منصوبے کو اصولی طور پر منظوری کے لیے سفارش کر دی، جو قومی مالیاتی معاہدے، وزیراعظم آفس کی ہدایات اور مالی وسائل کے فقدان کے باوجود دی گئی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی لاگت دو سال پرانے تخمینے کے مقابلے میں 201 ارب روپے یا 76 فیصد زیادہ ہوچکی ہے،جبکہ یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اہم ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی افادیت اور اپ گریڈیشن کو بھی خطرے میں ڈال سکتاہے۔

سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے منصوبے کو ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل کی حتمی منظوری کے لیے سفارش کی۔

پنجاب میں واقع موٹروے منصوبے کو وفاقی پبلک سیکٹرڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فنانس کرنے کی تجویز دی گئی،جو نیشنل فِسکل پیکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

دستاویزات کے مطابق منصوبے کو 2024 کے کمپوزٹ شیڈول آف ریٹس کی بنیاد پر منظورکیاگیا،حالانکہ 2025 کے کم لاگت  سی ایس آر دستیاب تھے۔

پلاننگ کمیشن کے تکنیکی ونگ نے سفارش کی ہے کہ نئی شرحوں کے مطابق لاگت کوکم اور معقول بنایاجائے۔ منصوبے کے تحت دو حصوں پر مشتمل موٹروے تعمیرکی جائیگی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم  نے واضح ہدایات دی تھیں کہ پنجاب حکومت منصوبے کی کم از کم 50 فیصد لاگت برداشت کرے اور الائنمنٹ میں تبدیلی کے بعد پی سی ون پیش کیا جائے،مگر ان ہدایات پر عمل نہیں کیاگیا،جبکہ منصوبے کیلیے کوئی قابلِ عمل فنانسنگ پلان یاحتمی ڈیزائن بھی موجودنہیں۔

پلاننگ کمیشن نے خبردارکیاہے کہ منصوبے کی شمولیت سے نیشنل ہائی وے اتھارٹی  پر مالی دباؤ بڑھے گا،منصوبے کی منظوری سے دیگر اہم منصوبے جیسے قراقرم ہائی وے کی توسیع،سکھر،حیدرآبادموٹروے، کھاریاں،راولپنڈی موٹروے، لواری ٹنل اوردیامر بھاشاڈیم متاثر ہونے کاخدشہ ہے۔

سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں پلاننگ کے وزیر نے متعددسوالات اٹھائے، تاہم وزارتِ مواصلات نے یقین دہانی کرائی کہ اعتراضات بعد میں دورکر لیے جائیں گے۔

اس ضمن میں سیکریٹری مواصلات سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر فائل ہونے تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مقبول خبریں