وینزویلا کی وہی کہانی ہے جو ازل سے دہرائی جارہی ہے اور ابد تک دہرائی جاتی رہے گی، یعنی ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘۔ اور وینزویلا بالکل نئی اور تازہ بھینس ہے۔
جیسے غریب کے گھر میں ’لعل‘ ہوں یا ’لال‘ دونوں ہی غیر محفوظ ہوتے ہیں اور طاقتور جب چاہے اس پر قابض ہوسکتا ہے، بس یہی کچھ وینزویلا کے ساتھ ہوا ہے۔ وینزویلا کے تیل کے ذخائر جو اس کی آزادی، خودمختاری اور خوشحالی کا باعث ہونا چاہئے تھے، وہی اس میں رکاوٹ ہیں۔
وینزویلا پچھلے کئی برسوں سے انتظامی بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانیوں کا شکار رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عوام کی ایک بڑی تعداد ملک سے ہجرت پر مجبور ہوگئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2023 کے آخر تک 77 لاکھ سے زائد وینزویلا کے باشندے ملک چھوڑ چکے ہیں، جس میں سے بیشتر نے لاطینی امریکا کے ممالک جیسے کولمبیا، پیرو، ایکواڈور، چلی اور برازیل کا رخ کیا ہے۔ یہ ہجرت سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی، اور بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
کون اس بات پر یقین کرے گا کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ وینزویلا کے پاس 303 ارب بیرل کے ذخائر ہیں جو دنیا کے تمام ذخائر کا 18.17 فیصد ہے جبکہ سعودی عرب کے ذخائر 16.15 فیصد ہے۔ سعودی عرب کی تمام دولت تیل کی بدولت ہے تو وینزویلا میں ایسا کیا ہوا کہ وہ سعودی ماڈل کو اپنے پاس دہرا نہیں سکا؟
امریکا کی تمام معاشی فراوانی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ ہے کہ دنیا میں ہر وقت کہیں نا کہیں جنگ ہوتی رہے تاکہ امریکا اپنی مرضی کا اسلحہ اپنی من مانی قیمتوں پر فروخت کرسکے۔ اسی لیے امریکا ہر وقت جنگ کرتا یا کرواتا رہتا ہے اور دوسری وجہ اس کا پیٹرو ڈالر معاہدہ ہے۔ اب اس کےلیے امریکا کی ضرورت ہے کہ تمام تیل پیدا کرنے والے ممالک یا زیادہ تر ممالک ڈالر میں تیل فروخت کریں اور اس کےلیے ان ممالک میں امریکا کی طفیلی یا اس کے اپنے گماشتوں کی حکومت ہو۔
سماجی ذرائع ابلاغ کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ جو معلومات پہلے گنے چنے لوگوں کے پاس ہوتی تھیں، سماجی ذرائع ابلاغ کے بعد اب محلے کے عام لوگوں کے پاس بھی وہی معلومات ہوتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں سے کتنی معلومات سچی ہوتی ہیں یہ آپ کے ذرائع سے زیادہ آپ کی سمجھ پر منحصر ہے۔
امریکا کسی بھی بڑے تیل برآمد کرنے والے ملک کو ڈالر کے علاوہ تیل فروخت کرنے کی اجازت دینے کا متحمل نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی معاشی طاقت کی عمارت جو دنیا کے وسائل پر قائم ہے، ڈھے جائے گی اور اس کے عوام کو آٹے دال کا بھاؤ پتہ چل جائے گا، جو اب اس کے عوام کو تھوڑا تھوڑا پتہ چلنا شروع ہوگیا ہے۔ اسی لیے امریکا اس معاملے میں سفاک ہے اور اس کا نظارہ ہم عراق اور لیبیا میں بھی دیکھ چکے ہیں۔
امریکا اور وینزویلا کے تعلقات میں بگاڑ کا آغاز ہیوگو شاویز کے برسر اقتدار آنے سے ہی ہوگیا تھا۔ ابتدائی پابندیاں 2006 میں جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت میں لگائی گئی۔ 2013 میں شاویز کے کینسر میں مرنے کے بعد نکولس مادورو برسر اقتدار ہوا۔ 2014 کے آخر اور 2015 کے اوائل میں امریکا نے انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگا کر پابندیوں کو مزید سخت کیا اور وینزویلا کے اہم لوگوں کے اثاثے بھی امریکا میں منجمد کردیے۔
2017 میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس کو مزید سخت کیا اور پہلی دفعہ عسکری قوت استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی۔ مادورو کے دوبارہ انتخابات جیتنے کے بعد امریکا نے نہ صرف انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور پابندیوں کو مزید سخت کردیا۔ امریکا اور کوئی 60 کے قریب مزید ممالک نے حزب اختلاف کے قائد خوان گوائیڈو کو صدر تسلیم کیا کہ جنھوں نے خود کو وینزویلا کا صدر قرار دیا تھا، جو بالآخر 2023 کو اپنے اختتام پر پہنچا اور امریکا اس معاملے میں ناکام ہوا۔
2019 میں امریکا نے وینزویلا پر تیل فروخت کرنے کی پابندی عائد کردی۔ 2020 میں امریکا نے مادورو پر منشیات کی فروخت کا الزام لگایا اور 2020 میں ہی مادورو کی گرفتاری پر انعام مقرر کیا، جو پہلے پندرہ ملین اور بعد میں اس کو بڑھا کر پچاس ملین کیا گیا۔ 20205 میں امریکا نے وینزویلا کے تیل کے جہازوں پر حملہ کرنا شروع کیا، جو بالآخر 2026 میں مادورو کی گرفتاری سے یہ باب عارضی طور پر بند ہوا۔
وینزویلا میں اب امریکا اپنی مرضی کی حکومت لائے گا اور اس وقت تک وینزویلا کا انتظام بالواسطہ یا بلاواسطہ امریکا کے ہاتھ میں رہے گا۔ ویسے تو ہوسکتا ہے کہ وقت آنے پر مادورو اور ان کی زوجہ کی گرفتاری کس کی مخبری سے ہوئی، اس کا بھی پتہ چل جائے۔ لیکن ہم سے بہتر یہ کون جانتا ہے کہ گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھاتا یے۔
دنیا ایک مرتبہ پھر سرد جنگ کی لپیٹ میں ہے اور شاید اس دفعہ اس کو گرم جنگ میں تبدیل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اصل جنگ تو امریکا اور چین کی ہے اور ہر تھوڑے دنوں میں کوئی نا کوئی ملک قربانی کا بکرا بنتا ہے۔ نکولس مادورو کی ایک تصویر اس کے ملک میں چینی سفیر کے ساتھ سماجی ذرائع ابلاغ پر موجود ہے جو اس کی گرفتاری سے صرف چند گھنٹوں قبل کی ہے۔ کوئی ملک کسی اور ملک کی جنگ لڑنے نہیں آتا۔ ہم سے بہتر یہ کون جانتا ہوگا؟ ہم چھٹے بحری بیڑے کا انتظار کرتے رہے اور ملک دولخت ہوگیا۔
یہ بات تو طے ہے کہ ڈالر اور امریکا زوال پذیر ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے امریکا ایک ایک کرکے اپنی زندگی کی لکیر استعمال کررہا ہے اور بہت جلد تمام لکیریں ایک ایک کرکے ختم ہوجائیں گی۔ امریکا کے خلاف روس اور چین ایک ہیں۔ پہلے روس کا ہاتھ اوپر تھا اور اب چین کا ہاتھ اوپر ہے۔ چین کسی کام میں جلدی نہیں کرتا اور صبر میں چینی قوم اپنی مثال آپ ہے۔ وینزویلا میں چین اور روس کی بہت بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا کی زندگی کی لکیریں پہلے ختم ہوتی ہیں یا چین اور روس کا صبر پہلے جواب دے جاتا ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ امریکا اپنا مقام لڑے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ اس لڑائی میں دنیا کا کیا انجام ہوگا یہ سوچتے ہوئے بھی ہول آتا ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ دنیا بہت تیزی سے جنگ کی جانب جارہی ہے اور شاید جنگ کے بعد سب کچھ ازسر نو شروع کرنا ہوگا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔