لندن کا آئندہ میئر کون؟ مسلم خاتون امیدوار بھی میدان میں

لندن کے موجودہ میئر صادق خان ممکنہ طور پر چوتھی بار الیکشن نہیں لڑیں گے


ویب ڈیسک January 08, 2026
برطانیہ کی جماعت نے مسلم خاتون امیدوار کو نامزد کردیا

برطانوی دارالحکومت لندن میں میئر کے الیکشن ویسے تو 2028 میں ہونا ہیں لیکن سیاسی سرگرمیاں وقت سے پہلے ہی شروع ہو گئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق میئر لندن کے الیکشن کی یہ گہماگہمی اُس وقت شروع ہوئی جب برطانوی سیاسی پارٹی ’’ریفارم یوکے‘‘ نے ابھی سے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کردیا۔

ریفارم یوکے کے رہنما نائجل فراج نے اعلان کیا کہ لندن کے آئندہ میئر الیکشن کے لیے ان کی جماعت سے امیدوار لیلیٰ کیننگھم ہوں گی۔

لیلی کیننگھم کی نامزدگی کے پیشگی اعلان کا مقصد حال ہی میں ہونے والے مقامی انتخابات اور پارٹی الیکشن میں انھیں متحرک کرنا ہے۔

یاد رہے کہ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب میئر لندن صادق خان نے تاحال چوتھی مدت کے لیے الیکشن لڑنے کے حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔

نامزد مسلم خاتون امیدوار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر وہ میئر منتخب ہوئیں تو جرائم کے خلاف سخت کارروائی اوّلین ترجیح ہوگی۔

انھوں نے لندن میں بڑھتے ہوئے چاقو بردار جرائم، منشیات، ڈکیتی اور جنسی جرائم جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ لیلیٰ کیننگھم اس سے قبل 2022 میں ویسٹ منسٹر سے کونسلر منتخب ہوچکی ہیں۔ ایک برطانوی سیاست دان اور کراؤن پراسیکیوشن سروس کی سابق پراسیکیوٹر ہیں۔

وہ 2022 میں کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے ویسٹ منسٹر سٹی کونسل کے لیے منتخب ہوئیں۔

بعد ازاں 2025 میں انہوں نے کنزرویٹو پارٹی چھوڑ کر ’’ریفارم یوکے‘‘ میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد وہ لندن کے کسی بھی بورو کونسل میں ریفارم یوکے کی پہلی منتخب نمائندہ بن گئیں۔

ان کے والدین 1960 کی دہائی میں مصر سے برطانیہ منتقل ہوئے تھے جہاں لیلیٰ کیننگھم جن کا سابقہ نام لیلیٰ ڈوپی تھا، اگست 1977 میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں۔

ان کی پہلی شادی 10 سال چلی جن سے 4 بچے ہیں جب کہ دوسری شادی امریکی سے کی جن سے ایک بیٹا ہے جب کہ امریکی شوہر کے پہلی بیوی سے دو بچوں کی پرورش بھی لیلیٰ کر رہی ہیں۔

 

 

 

مقبول خبریں