ڈیجیٹل لٹریسی اور خواتین: شعور، تحفظ اور خودمختاری کی ضرورت

سوشل میڈیا، آن لائن کورسز، فری لانسنگ اور معلوماتی ویب سائٹس خواتین کے لیے طاقتور وسائل بن سکتی ہیں


مقدس سمرہ January 10, 2026

ڈیجیٹل دنیا نے خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، جو پہلے صرف محدود اداروں یا مخصوص طبقے تک محدود تھے۔ تعلیم، روزگار، سماجی روابط، اظہارِ رائے اور عالمی معلومات تک رسائی اب صرف ایک کلک کی دوری پر ہے۔

سوشل میڈیا، آن لائن کورسز، فری لانسنگ اور معلوماتی ویب سائٹس خواتین کے لیے طاقتور وسائل بن سکتی ہیں۔ مگر جیسے ہی امکانات بڑھتے ہیں، خطرات اور چیلنجز بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ان کا سامنا کرنے کے لیے ڈیجیٹل لٹریسی یعنی آن لائن شعور اور آگاہی ناگزیر ہے۔

ڈیجیٹل لٹریسی صرف موبائل یا سوشل میڈیا استعمال کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک جامع صلاحیت ہے جس کے ذریعے صارف یہ جان سکتا ہے کہ کونسی معلومات قابل اعتماد ہیں، کس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، اپنی ذاتی معلومات کو کس حد تک محفوظ رکھا جائے اور آن لائن خطرات سے کس طرح بچا جائے۔

ایک باخبر صارف وہ ہوتا ہے جو نہ صرف محتاط ہو بلکہ علم اور شعور کے ساتھ اپنے حقوق کا دفاع کر سکے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بہت سی خواتین ان اصولوں سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے آن لائن دھوکے، جعلی شناختیں، ہراسانی اور مالی یا نفسیاتی نقصان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خواتین کے لیے آواز بن سکتے ہیں، مگر یہی پلیٹ فارمز دھوکا، ہراسانی اور غلط معلومات کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ آن لائن تعلقات میں، محبت یا توجہ کے نام پر دھوکے کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں، جہاں کچھ لوگ اپنی شناخت چھپاتے ہیں اور خواتین کو جذباتی، مالی یا سماجی طور پر متاثر کرتے ہیں۔

ایسے میں شعور اور آگاہی کی کمی سب سے بڑا مسئلہ بنتی ہے۔ خواتین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اصل اور جعلی، محفوظ اور خطرناک، خیرخواہی اور استحصال کے درمیان فرق کیسے پہچانا جائے۔

خوش قسمتی سے پاکستان میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور دیگر ادارے خواتین کے تحفظ کے لیے موجود ہیں، مگر ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے خواتین کی خود آگاہی اور ڈیجیٹل لٹریسی کی ضرورت ہے۔ متاثرہ خواتین کو معلوم ہونا چاہیے کہ کس صورت میں رپورٹ کرنا ہے، قانونی کارروائی کیسے کی جاتی ہے، اور کس طرح اپنے آن لائن حقوق کا تحفظ ممکن ہے۔ قانونی شعور کے بغیر، سب سے مؤثر ادارے بھی مدد فراہم نہیں کر سکتے۔

ڈیجیٹل لٹریسی خواتین کو صرف تحفظ ہی نہیں بلکہ خودمختاری بھی فراہم کرتی ہے۔ ایک باخبر عورت آن لائن پلیٹ فارمز کو تعلیم، فری لانسنگ، کاروبار اور سماجی شعور کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ وہ جعلی خبروں کو پہچان سکتی ہے، قانونی حقوق سے واقف ہو سکتی ہے، اور کسی بھی ہراسانی کی صورت میں درست اداروں سے رجوع کر سکتی ہے۔ یوں ڈیجیٹل شعور عورت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے اور سماجی اثرات کو مثبت سمت میں لے آتا ہے۔

تعلیمی نصاب میں ڈیجیٹل آگاہی کو لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اسکول اور کالج سطح پر ورکشاپس، سیمینارز اور معلوماتی سیشنز خواتین کے لیے آن لائن شعور پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اس کے ساتھ والدین، اساتذہ اور کمیونٹی کے افراد کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ خواتین کو ڈیجیٹل دنیا میں خود مختار اور باخبر بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کرنا ان کا حق اور ذمے داری ہے۔

لائبریریاں اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ نہ صرف معلومات تک رسائی کا ذریعہ ہیں بلکہ محفوظ سیکھنے کی جگہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ اگر لائبریریوں میں ڈیجیٹل آگاہی پروگرامز متعارف کروائے جائیں تو خواتین اعتماد کے ساتھ سیکھ سکتی ہیں، سوال کر سکتی ہیں اور خود کو بااختیار بنا سکتی ہیں۔ مطالعہ، تحقیق اور معلوماتی تربیت خواتین کو صرف تحفظ نہیں بلکہ خوداعتمادی اور فیصلہ سازی کی قوت بھی دیتی ہے۔

ڈیجیٹل دنیا میں خواتین کی شمولیت معاشرے کے لیے بھی مثبت اثر رکھتی ہے۔ جب خواتین علم، شعور اور آگاہی کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کرتی ہیں تو وہ نہ صرف خود کو محفوظ بناتی ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثبت مثال قائم کرتی ہیں۔ یہ نہ صرف خاندان یا کمیونٹی بلکہ پورے سماج میں ذمہ دار ڈیجیٹل کلچر کی بنیاد رکھتی ہیں۔

آن لائن دھوکے اور ہراسانی کے مسئلے کے حل کے لیے صرف قانونی اقدامات کافی نہیں ہیں، بلکہ خواتین کو باخبر اور خودمختار بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل لٹریسی کی تربیت، سائبر قوانین کے بارے میں آگاہی، اور محفوظ آن لائن سلوک کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں خواتین کی مضبوط اور باشعور موجودگی آن لائن دنیا کو خطرناک نہیں بلکہ طاقتور بناتی ہے۔

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل دنیا سے خواتین کو دور رکھنا حل نہیں، بلکہ انہیں باخبر اور شعور یافتہ بنانا ہی اصل راستہ ہے۔ ایک باشعور عورت نہ صرف خود کو محفوظ رکھتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں ذمہ دار ڈیجیٹل کلچر کو فروغ دیتی ہے۔ یہ خواتین کو فری لانسنگ، آن لائن کاروبار اور تعلیمی مواقع تک رسائی کا موقع بھی فراہم کرتا ہے، جس سے نہ صرف معاشی بلکہ سماجی خودمختاری بھی حاصل ہوتی ہے۔

آخرکار، ڈیجیٹل لٹریسی کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ ہر عورت کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب خواتین علم، شعور اور آگاہی سے لیس ہوں گی تو ڈیجیٹل دنیا ان کے لیے خطرہ نہیں بلکہ طاقت بن جائے گی۔ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ عورت معاشرے کو مضبوط بنانے کا سب سے اہم ستون ہے، اور یہی مستقبل کی کامیابی کی کلید ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
مقدس سمرہ
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں