قرآن کریم کے حوالے سے عموماً تین طرح کی اصطلاحیں پائی جاتی ہیں، ’’صاحب قرآن، حامل قرآن اور حافظ قرآن‘‘۔
فرق ان میں یہ ہے کہ ’صاحب قرآن‘ یا ’حامل قرآن‘ سے مراد وہ افراد ہیں جو قرآن کریم کا مکمل فہم رکھنے والے ہیں ،اور حافظ قرآن سے مراد وہ افراد ہیں جو قرآنی الفاظ کو زبانی یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔
دین کا بنیادی مطالبہ کیا ہے؟ قرآن کریم کا یاد رکھنا (فہم، سمجھ بوجھ) یا زبانی یاد رکھنا (حفظ)؟
دورِ رسالتؐ میں بھی ہر صحابی مکمل حافظ قرآن ہرگز نہیں تھا۔ مراد ہر کوئی اپنی استطاعت کی بنا پر ایک سورہ، دو یا زائد حفظ کرلیتا تھا۔ چونکہ عربوں کا حافظہ بہت تیز تھا، اس وجہ سے زیادہ تر لوگوں کے لیے مکمل قرآن کو حفظ رکھنا مشکل نہیں تھا۔ تحریر کے ذرائع کا بھی فقدان تھا جیسا کہ کاغذ، قلم اور ناخواندہ افراد جو تحریر کرنا ہی نہیں جانتے تھے، لہٰذا زیادہ تر محفوظ کرنے کےلیے یاد رکھنے کا ذریعہ رائج تھا۔ لیکن آج کے دور میں جب کہ تحریر آسان اور مستند ذریعہ محفوظ ہے اس لیے یاد کرنے کی مشقت بھی اتنی لازم نہیں۔ لیکن جن کی یاد رکھنے کی استطاعت زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں یاداشت کی توفیق دوسروں کی نسبت زیادہ رکھی ہوئی ہے وہ یاد بھی رکھیں یہ بھی بہترین عمل ثواب ہے۔ لیکن ہر ایک کو اس مشقت میں ڈالنا جس کی اس میں صلاحیت ہی نہیں ہے نا انصافی ہی ہوگی۔
بنیادی طور پر دیکھا جائے تو دین ہم سے قرآن کو سمجھنے کا مطالبہ کرتا نہ کہ زبانی یاد رکھنے کا۔ یہی وہ بنیادی غلطی ہے جس کی بنا پر ہم دین کی اصل تعلیمات سے دور ہوگئے اور وہ فہم حاصل نہ کرسکے جس کا ہم سے مطالبہ کیا گیا تھا۔ اور اس میں زیادہ تر حفظ قرآن کی فضیلت کے متعلق ان روایات کا بھی حصہ شامل ہے جن کی سند کو علما کرام نے ضعیف قرار دیا ہے اور خود قرآنی آیات ان ضعیف روایات کے خلاف ہیں۔ جیسا کہ روایات میں درج ہے کہ ’’قرآن حفظ کرنے والے کے ماں باپ کو سونے کے تاج پہنائے جائیں گے‘‘ (ترمذی)۔ لیکن قرآن تو کہتا ہے کہ ’’ہر شخص کےلیے وہی ہوگا جس کی اس نے کمائی کی‘‘ (سورہ المدثر: آیت 38)
پھر یہ روایت کہ ’’ایک حافظ قرآن دس ایسے خاندان کے افراد کا سفارشی بنے گا جن کےلیے جہنم واجب ہوچکی ہوگی‘‘ (حدیث)۔ قرآن تو کہتا ہے کہ ’’اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ان سے کچھ معاوضہ لیا جائے گا اور نہ لوگوں کی کوئی مدد ہی ملے گی‘‘ (سورہ البقرہ: آیت 48)۔
حالانکہ ان ضعیف روایات میں ان حفاظ قرآن کو سفارشی بنانے کا کہا گیا ہے جو حفظ کے ساتھ قرآن کریم میں درج حلال و حرام پر مبنی احکامات کا مکمل علم رکھتے ہوئے ان پر سختی سے عمل پیرا بھی ہوں گے۔ پھر بھی علمائے کرام نے ان احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور ان کے رد میں سب سے بڑی بات ہی یہ ہے کہ قرآنی آیات ہی ان روایات کے خلاف کھڑی ہیں۔
ہمارے ہاں حفظ اور اس کی فضیلت سے متعلق ان تمام روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف حفظ قرآن کا رواج عام بلکہ لازم کردیا گیا ہے۔ ایسی روایات جن کی کوئی سند ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ صحیح روایات کا بھی ناقص فہم حاصل کیا گیا کہ ’’جو قرآن کو بھول گیا اس کے لیے تباہی ہے‘‘ (حدیث)۔ اب یہ قرآنی تعلیمات کو بھول جانے کے بارے میں تھی اس کی تعلیمات کو نظر انداز کردینے کے بارے میں اور قرآن سے اپنے تعلق کو کمزور کردینے کے بارے میں تھی، ناکہ زبانی یاد کرکے بھول جانے کے بارے میں۔
قرآن کریم کو بغیر سمجھے زبانی یاد کرنے کا رجحان سراسر اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ اسلام اس کی بالکل بھی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ اسلام آپ سے اس عقل کو استعمال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جس کی بنا پر اللہ تبارک تعالیٰ نے انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز بنایا ہے۔
اس عقل کو استعمال کرنے کا مطالبہ پیش نظر ہے کہ قرآنی احکامات کو سمجھا جائے اور اسے اپنی زندگی میں اپنایا جائے۔
ایسے تو ہم پھر اللہ تبارک تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو توڑنے والے حفاظ ہی پیدا کریں گے۔ وہ حافظ قرآن جو قرآن کا ذرہ بھر بھی فہم رکھنے والے نہیں ہوں گے۔ ایک عام آدمی کی عقل خود ہی فیصلہ کرلے گی کہ وہ خود کہاں کھڑے ہیں جس کی اپنی بخشش داؤ پر لگی ہے، وہ کسی کو بخشوانے کا ذریعہ کیسے بن سکتا ہے؟ اور بخشش کا فیصلہ تو سوائے واحد رب العزت کے کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔
دین کا بنیادی تقاضا قرآنی احکامات کی تکمیل کا ہے، یعنی ہر کام میں قرآنی احکامات کو یاد رکھا جائے۔ اس بات کا لازماً خیال رکھا جائے کہ کلام خدا یعنی قرآن پاک ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے اور کیا احکامات نافذ کرتا ہے، نہ کہ قرآن کو یاد رکھنے سے مراد قرآن کا زبانی حفظ کرلینا۔
صحیح حدیث میں ہے کہ ’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے‘‘۔ اب اس حدیث کے مطابق بہترین افراد وہ ہوں گے جو کلام خدا کو ’’سیکھیں، سمجھیں‘‘ اور اسے ’’آگے سکھائیں اور سمجھائی‘‘۔ نہ کہ بغیر سمجھے زبانی یاد کریں اور بغیر سمجھائے ہی زبانی یاد کروائیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں صحیح حدیث رسول کا مفہوم بالکل ہی الٹ لے لیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں وہی افراد کامیاب قرار پاتے ہیں جو قرآن کو سیکھے اور سمجھے بغیر اسے زبانی یاد کرے گا جبکہ وہ افراد گمراہ قرار دیے جاتے ہیں جو دین کو اپنانے کےلیے قرآن کو سیکھتے اور سمجھتے ہیں۔
رسول اللہ عرب میں مبعوث ہوئے، ان کی مادری زبان عربی تھی، قرآن یعنی کلام خدا کو بھی عربی میں مبعوث کیا گیا تاکہ اہل عرب سمجھ سکیں کیونکہ ابتداً خدا ان سے ہم کلام تھا، لہٰذا جو کلام مقامی لوگوں کی مقامی زبان میں نازل ہورہا ہے اسے عمومی طور پر سمجھنا ناممکن نہیں تھا۔ اس لیے مسلمان اہل عرب کے ہاں سمجھے بنا قرآن پڑھنے اور یاد کرنے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ عربی ان کی اپنی زبان تھی اس لیے بغیر سمجھے قرآن کی تلاوت ممکن ہی نہ تھی۔
قرآن کریم کو پڑھنے کے ساتھ سیکھنا اور سمجھنا تمام ان غیر مقامی اہل اسلام کے لیے لازماً تھا جن کی مادری زبان عربی نہ تھی۔ لہٰذا اس حدیث (قرآن کو سیکھے اور سکھائے) کے زیادہ متقاضی غیر عربی زبان لوگ ہیں۔
آخرت کی جوابدہی میں بنیادی سوال یہ ہوگا کہ اپنی زندگی میں قرآن (دین) کو کس حد تک سمجھا، دوسروں کو سمجھایا اور اپنایا، یعنی اس کی تعلیمات پر عمل کیا (جو کہ قرآن کو سمجھے بنا ممکن ہی نہیں) نہ کہ یہ پوچھا جائے گا کہ کتنا بغیر سمجھے زبانی یاد کیا اور بغیر سمجھائے یاد کروایا۔ لہٰذا قرآن کریم کی وہی تلاوت اور حفظ باعث اجر اور فلاح ہوگا جو سمجھ کر کیا جائے۔ سورہ ص میں فرمان ہے ’’یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو اے پیغمبر ہم نے تم پر نازل کی، اس لیے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور اس لیے کہ عقل والے اس سے یاد دہانی حاصل کریں‘‘۔
سو دین کا بنیادی مطالبہ قرآن کریم کو سمجھنا اور تمام معاملات زندگی میں اس کو یاد رکھنا ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔