دہشت گردی سے نمٹنے اور خود کو پرامن ریاست بنانے کی جنگ محض فوج یا کسی ایک بڑے ادارے تک محدود نہیں بلکہ یہ جنگ مجموعی طور پر پاکستان کی جنگ ہے۔اس جنگ کا مقابلہ بھی انفرادی سطح پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر معاشرے کے تمام فریقین کے باہمی اتفاق رائے یا مشترکہ کوششوں سے جڑا ہوا ہے ۔
داخلی محاذ پر سیاسی تقسیم اور چونکہ چنانچہ کی گردان زیادہ مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے درست بات کی ہے کہ جو لوگ دہشت گردی کی جنگ کو محض ایک ادارے تک محدود کرکے مثبت نتائج کی توقع کرتے ہیں تو ان کا تجزیہ جذباتیت کی بنیاد پر دیکھا جائے گا۔اسی طرح ان کا یہ نقطہ بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر کوئی فریق داخلی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی یا سہولت کاری کررہا ہے تو وہ بھی قابل گرفت ہے۔ یقینی طور پر حکومت یا دیگر فریقین کی سطح پر دہشت گردی کے خلاف کسی بھی سطح پر کوئی سمجھوتہ بازی یا اگر مگر کی سیاست اور بحث نہیں ہونی چاہیے۔
یہ نقطہ بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر پاکستان نے سیاسی ،معاشی اور سیکیورٹی کے تناظر میں ایک بڑے استحکام اور ترقی کی جانب بڑھنا ہے تو اس کو ہر سطح پر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے سختی کے ساتھ نمٹنا ہوگا۔کیونکہ ایسے عناصر کا قلع قمع کیے بغیر نہ تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے اور نہ ہی سیاسی اور معاشی استحکام کی بنیادوں کو مضبوط بنایا جاسکے گا۔
پاکستان کا ایک بڑا چیلنج افغانستان کا ہے اور اس کا جو باہمی گٹھ جوڑ ہمیں اس وقت بھارت دوستی یا بھارت نوازی کی صورت میں دیکھنے کو مل رہا ہے، وہ پاکستان کے تناظر میں کافی خطرہ کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ پاکستان مخالف پراکسی یا پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار رکھنے کی حکمت عملی یقینی طور پر پاکستان مخالف ہے ۔
افغانستان کی حکومت کا بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنا، کوئی بری بات نہیں ہے لیکن یہ تعلقات پاکستان دشمنی اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ہوں تو یہ قابل اعتراض بات ہے۔ اسی طرح افغان حکومت یا افغان طالبان کی ٹی ٹی پی کی حمایت اور سرپرستی بھی ہماری مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے ۔افغان طالبان کھلے عام ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی مدد کررہے ہیں۔
اس تناظر میں جہاں ہمیں علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کا سفارت کاری کی سطح پر مقابلہ کرنا ہے وہیں اسی حکمت عملی کی بنیاد پر داخلی سطح پر موجود دہشت گردوں کے نظریاتی ساتھیوں اور سیاسی سہولت کاروں کا مقابلہ کرنا بھی ریاست اور حکومت کی مشترکہ ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے۔
اس وقت وفاق اور خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان افغانستان یا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے تقسیم دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک بڑی پریس کانفرنس میں یہ کہنا کہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت، پی ٹی آئی یا صوبہ خیبر پختونخواہ دہشت گردی یا دہشت گردوں کے لیے سازگار سیاسی ماحول کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے یا دہشت گرد صوبہ کے سازگار اور معاونت پر مبنی ماحول سے فائدہ اٹھا کر دہشت گردی کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں ، یہ انتہائی اہمیت کی حامل اور قابل غور بات ہے اوریقینی طور پی ٹی آئی کی قیادت کو ان باتوں پر غور کرنا چاہیے اور کے پی کی صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے حوالے سے اپنا موقف قومی امنگوں کے مطابق بنانا چاہیے نہ کہ اسے مخصوص مفادات کے تابع ہونا چاہیے کیونکہ جو صوبہ پہلے ہی سے دہشت گردی کے باعث عملا حالت جنگ میں ہے اور اس جنگ سے نمٹنے میں بھی اسی صوبہ کی صلاحیت پر سوالات موجود ہیں۔ اس طرز کی تقسیم کی کسی بھی طور پر حمایت نہیں کی جاسکتی ۔
کیونکہ یہ حکمت عملی بلاوجہ عوام میں ایک دوسرے کے خلاف مزید بداعتمادی کو پیدا کررہی ہے اور اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت میں مسائل اور تضادات ہوسکتے ہیں لیکن اس کا علاج مخالفانہ بیان بازی سے نہیں بلکہ مشترکہ سطح پر بات چیت اورسیاسی حکمت عملی سے ہی جڑا ہوا ہے۔ایک بات اور سمجھنی ہوگی کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیاسی لوگ جن کا مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق ہے ، ان سب کا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پی ٹی آئی والا ہی موقف ہے۔
افغانستان یا ٹی ٹی پی بھارت کی سرپرستی میں جو کچھ کررہی ہے اور اس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بد انتظامی کا بحران بڑھ گیا ہے، وہ ہمیں کسی بھی سطح پر قابل قبول نہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ خود پی ٹی آئی کی مرکزی اور بالخصوص صوبائی قیادت سمیت بانی پی ٹی آئی کی سطح پر پہلے سے موجود اس تاثر کی نفی ہونی چاہیے کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر ٹی ٹی پی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔کیونکہ ٹی ٹی پی پاکستان مخالف سرگرمیوں یا دہشت گردی کا حصہ ہے تو اس پر کسی بھی سطح پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔اسی طرح افغان حکومت نے دوحہ،قطر اور سعودی عرب میں افغان پاکستان کی سطح پر جو مذاکرات کی میزسجائی تھی اس پر بھی پاکستان کے تحفظات پر افغان حکومت نہ کوئی مثبت زبانی یا تحریری جواب نہیں دیا اور پاکستان کی سطح پر اٹھائے جانے والے سوالات پر خاموشی اختیار کی ۔
اس لیے ٹی ٹی پی کی مخالفانہ سرگرمیوں کو روکنا یا افغان سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں میں استعمال نہ ہو تو یہ سب کچھ افغان حکومت کی براہ راست حمایت اور عملی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں ۔اس لیے جب پی ٹی آئی یہ کہتی ہے کہ مسئلہ کا حل فوجی آپریشن نہیں اور بات چیت کا آپشن اختیار کیا جائے تو اس کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ اور کس سے بات چیت ہوگی ؟یا کب ہوگی؟اور کون اس میں سہولت کاری کا کردار ادا کرے گا؟ ان سوالوں کا جواب بھی صوبائی حکومت کی سطح سے آنا چاہیے۔
اس بات کا بھی تجزیہ کرنا چاہیے کہ جو جماعتیں اس وقت اقتدار میں ہیں، ان کا اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیا کردار ہے ؟ سیاسی سطح پر اس دہشت گردی کی خلاف جنگ میں جو کردار ریاست کے اداروں کا ہے، اس میں اقتدار میں شامل جماعتوں نے اپنا حصہ کتنا ڈالا ہے یا کتنی اس جنگ کی سیاسی قیادت کی ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں خود کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے کے کھیل سے باہر نکالیں اور ایک دوسرے کے مسائل اور تجاویز پر بات چیت کی مدد سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اسی میں ریاست پاکستان کا مفاد وابستہ ہے۔