وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو دورہ سندھ میں سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی ہوگی، شرجیل میمن

سہیل آفریدی کو خوش آمدید کہنے کیلئے حکومتِ سندھ کا نمائندہ بھی ایئرپورٹ پر موجود ہوگا، سینئر صوبائی وزیر


اسٹاف رپورٹر January 09, 2026

کراچی:

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ جمہوری اقدار پر مکمل یقین رکھتی ہے اور صوبے میں فری موومنٹ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ایک بیان اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو مکمل سکیورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا جائے گا جبکہ انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے حکومتِ سندھ کا نمائندہ بھی ایئرپورٹ پر موجود ہوگا۔ سہیل آفریدی کو سندھ میں سیاسی و سرکاری سرگرمیاں انجام دینے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی اپنے دورے کے پروگرام سے آگاہ کریں، اگر انہیں کسی جلسے یا تقریب کے لیے گراؤنڈ درکار ہوگا تو حکومتِ سندھ وہ بھی فراہم کرے گی تاہم اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی سرگرمی قانون کی خلاف ورزی یا عوام کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ حکومتِ سندھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں تاہم جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے اور تنقید کو برداشت کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی تنقید کرتی ہے تو اسے اس کا حق حاصل ہے اور پیپلز پارٹی بھی سیاسی انداز میں اس کا جواب دینے کا حق رکھتی ہے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں صورتحال مختلف تھی، جب کسی ٹاک شو میں عمران خان پر تنقید کی جاتی تھی تو اگلے روز نیب کے نوٹسز اور گرفتاریاں سامنے آ جاتی تھیں۔ سندھ میں ایسا طرزِ عمل اختیار نہیں کیا جائے گا اور تنقید کو سیاسی اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے برداشت کیا جائے گا۔

انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے عمران خان کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا طالبان کے حق میں بیانیہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ عمران خان نے طالبان کے دفاتر کھولنے کی بات کی، حالانکہ یہی دہشت گرد وہ عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان میں کسی کو نہیں بخشا اور اسکولوں میں معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا مگر پی ٹی آئی کا ان کے لیے ہمیشہ نرم گوشہ رہا ہے، جس پر پیپلز پارٹی کو شدید اختلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اسی تناظر میں عمران خان کو ’’طالبان خان‘‘ کہتے رہے ہیں کیونکہ عمران خان کی پالیسیاں مسلسل انتہاپسند عناصر کے حق میں رہی ہیں۔ یہی عناصر خیبرپختونخوا میں معصوم شہریوں کی جانیں لیتے رہے ہیں اور آج بھی وہاں صورتحال تشویشناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مغرب کے بعد تھانے بند ہو جاتے ہیں اور ایک غیر اعلانیہ کرفیو کی کیفیت نظر آتی ہے، خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے، نہ کہ ایسے عناصر کو سہولت دے جو عوام کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں