کراچی:
سیشن عدالت شرقی نے نیپا کے قریب مین ہول میں گر کر کم سن ابراہیم کے جاں بحق ہونے سے متعلق میئر کراچی، ٹاؤن چیئرمین، واٹر بورڈ اور بی آر ٹی کنٹریکٹر کیخلاف مقدمہ اندراج کی درخواست پر میئر کراچی ودیگر فریقین کے وکلا سے دلائل طلب کرلیے۔
سیشن عدالت شرقی کی عدالت کے روبرو نے نیپا کے قریب مین ہول میں گر کر کم سن ابراہیم کے جاں بحق ہونے سے متعلق میئر کراچی، ٹاؤن چیئرمین، واٹر بورڈ اور بی آر ٹی کنٹریکٹر کیخلاف مقدمے کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار ایڈووکیٹ شیخ ثاقب احمد نے عدالت میں دلائل دیے۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ایک جرم ہوا ہے، پولیس کو سیکشن 154 کا بیان لے کر مقدمہ درج کرنا چاہئے۔ پولیس نے اپنے رپورٹ میں کہا کہ والدین قانونی کاروائی نہیں چاہتے لیکن سپریم کورٹ کہتی ہے کہ اگر جرم ہوا ہے تو کوئی بھی شخص اس پر مقدمہ کروا سکتا ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ معافی تلافی بھی ہو تو وہ سیکشن 345 کے تحت ہوتی ہے، مقدمے اندراج کے بعد۔ مقدمے میں قتل بالسبب کے ساتھ قتل امد سیکشن 302 بھی لگانا چاہئے۔ مارنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن فریقین کو معلوم تھا اس عمل سے کسی کی جان جا سکتی ہے۔ اگر یہ موقف اپناتے ہیں کہ ڈھکن لگایا تھا لیکن وہ ہیروئنچی لے گئے لیکن یہ ان کا فرض ہے کہ ڈھکن لگانے کے بعد اس کا خیال بھی کیا جائے۔
درخواست گزار کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے آئندہ سماعت پر میئر کراچی اور دیگر فریقین کے وکلا سے دلائل طلب کرلیے۔ عدالت نے سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی۔ یاد رہے کم سن ابراہیم نجی سپر اسٹور کے سامنے کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ متوفی کی لاش 15 گھنٹے کے بعد نکالی گئی تھی۔