امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ عزائم سے بھرے ایک بیان نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں وہ اپنی فوج کو کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول انھیں یہ حکم دینے کا مکمل اختیار ہے کیوں کہ وہ اپنے ملک کے کمانڈر انچیف ہیں اور مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ کسی ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ وہ صرف اپنے طے کردہ اخلاقیات کے اُصول اور اپنی سوچ سے لیتے ہیں۔ کسی اور کی پروا نہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد بحث کے لیے منظور کرلی جس میں صدر ٹرمپ کو وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کے لیے کانگریس کی اجازت لینا ہوگی۔
بحث کرانے کی اس قرارداد کے حق میں 52 ارکان نے حق میں ووٹ دیئے تھے جب کہ 47 نے مخالفت کی تھی۔
جس پر صدر ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے اپنی جماعت ریپبلکن کے سینیٹرز پر تنقید کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ آئندہ یہ لوگ سینیٹر نہیں بن سکیں گے۔
البتہ صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر دوسرے مرحلے میں کرنے والے فوجی حملے کو منسوخ کر دیا۔
یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکی فورسز نے وینزویلا پر حملہ کرکے صدارتی محل میں آپریشن کیا اور صدر مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کیا گیا۔
صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو بیڈ روم سے گھسیٹتے ہوئے پہلے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحری جہاز تک پہنچایا گیا جس پر وہ امریکا منتقل کیے گئے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو منیشیات اسمگلنگ سمیت سنگین جرائم پر نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا اور فرد جرم سنائی گئی۔
صدر مادورو اور ان کی اہلیہ نے تمام الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری نہیں بلکہ اغوا کرنا ہے اور وہ بھی وینزویلا کے صدر ہیں۔
امریکا کے وینزویلا پر اس حملے اور صدر کی گرفتاری کے آپریشن میں 100 افراد ہلاک بھی ہوئے جن میں وینزویلا اور کیوبا کے 55 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
اس واقعے کے بعد یہ بحث چھڑ گئی تھی کہ کس قانون کے تحت امریکا نے وینزویلا پر حملہ کیا اور وہاں کے صدر کو اہلیہ سمیت حراست میں لیا تھا۔