پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا لیکن ساتھ ہی واضح کردیا کہ دوطرفہ تعلقات میں کسی بھی بامعنی بہتری کا انحصار کابل کی جانب سے اس ٹھوس، قابل تصدیق اور تحریری یقین دہانی پر ہے۔
ان خیالات کا اظہار وزارت خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے کیا۔ دوسری جانب چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے قومی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کے خلاف پاک فوج کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ پیشہ ورانہ مہارت، یکسوئی اور عزم کے ساتھ ہمہ جہت چیلنجز کا مقابلہ کرے گا۔ جب کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں قومی شاہراہ N-25 اور پانچ دانش اسکولوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا اور کہا ہے کہ صوبے کو درپیش سیکیورٹی، معاشی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا، افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے باعث ملک کا دفاع مضبوط ہوا ہے،2018ء کی طرح دوبارہ دہشت گردوں کا صفایا کریں گے۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف نہ تو نیا ہے اور نہ ہی غیر منطقی۔ اسلام آباد بارہا اس بات کا اعادہ کر چکا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا، نہ ہی افغان عوام کے خلاف کوئی منفی جذبات رکھتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی احترام، برابری اور امن پر مبنی ہوں، تاہم یہ خواہش اس وقت تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکتی جب تک افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہے۔ وزارت خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان کا یہ کہنا کہ دوطرفہ تعلقات میں کسی بھی بامعنی بہتری کا انحصار کابل کی جانب سے ٹھوس، قابل تصدیق اور تحریری یقین دہانی پر ہے، دراصل ریاستِ پاکستان کے عوامی جذبات اور زمینی حقائق کی ترجمانی ہے۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی بڑی وارداتوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں سے جا ملتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں میسر رہی ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کابل کی جانب سے اب تک اس حوالے سے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے جس کے باعث اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو پا رہی۔پاکستان کا یہ بھی واضح مؤقف ہے کہ اس کے تحفظات کی بنیاد سیاسی یا نظریاتی اختلاف نہیں بلکہ خالصتاً سیکیورٹی خدشات ہیں۔
اسلام آباد نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ افغانستان کے داخلی نظام یا وہاں کی حکومت کے طرزِ حکمرانی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان صرف یہ چاہتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور ہمسائیگی کے اصولوں کے عین مطابق مطالبہ ہے، اگر افغانستان واقعی ایک ذمے دار ریاست کے طور پر علاقائی امن میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے اس بنیادی ذمے داری کو تسلیم کرنا ہوگا۔
ان سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں پاکستان کی عسکری قیادت کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن ہو چکا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی کو دوٹوک انداز میں دہرایا ہے بلکہ عملی سطح پر بھی اس کا مظاہرہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی جی ایچ کیو راولپنڈی میں آمد اور اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں دفاعی تعاون اور عسکری سفارت کاری کو بھی انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔
یہ ملاقات محض رسمی نوعیت کی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ جنوبی ایشیا اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے جہاں ایک جانب طاقت کے توازن میں تبدیلی آ رہی ہے تو دوسری جانب غیر ریاستی عناصر اور ہائبرڈ وار جیسے خطرات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا دیگر دوست ممالک کے ساتھ عسکری روابط کو مضبوط کرنا ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔
پاک فوج کے بنیادی مشن، یعنی ملک کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی استحکام کے تحفظ کا اعادہ دراصل دشمن عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف مکمل طور پر چوکس ہیں بلکہ ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔
لاہورگیریژن کے دورے کے دوران آپریشنل تیاری، تربیتی معیار اور جنگی صلاحیت میں اضافے کے اقدامات پر بریفنگ اس بات کی دلیل ہے کہ پاک فوج بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں، جدید ٹیکنالوجی اور غیر روایتی خطرات کے مطابق خود کو مسلسل اپ گریڈ کر رہی ہے۔ یہ عسکری تیاری اس لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان کو صرف سرحد پار دہشت گردی ہی نہیں بلکہ ہائبرڈ وار، پروپیگنڈا مہمات اور اندرونی انتشار پھیلانے کی سازشوں کا بھی سامنا ہے۔ دشمن عناصر جانتے ہیں کہ روایتی جنگ کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنا ممکن نہیں، اس لیے وہ معاشی دباؤ، نسلی و صوبائی تعصبات اور دہشت گردی جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ ایسے میں ریاست کا مضبوط اور متحد مؤقف ہی ان سازشوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔
اسی تناظر میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی بلوچستان میں حالیہ سرگرمیاں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا مگر ترقی کے اعتبار سے پسماندہ صوبہ ہے، طویل عرصے سے احساسِ محرومی اور بدامنی کا شکار رہا ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ اعتراف ہے کہ جب تک بلوچستان کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا، ملک مجموعی طور پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
قومی شاہراہ N-25 اور پانچ دانش اسکولوں کے سنگ بنیاد رکھنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ موجودہ حکومت بلوچستان کی ترقی کو محض نعروں تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے صوبے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ صوبے کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح دانش اسکولوں کا قیام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی قوم یا خطے کی ترقی ممکن نہیں۔وزیراعظم کی جانب سے یہ بات بھی بالکل درست طور پر اجاگر کی گئی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے خارجی ہاتھ کارفرما ہے۔
یہ کوئی الزام نہیں بلکہ زمینی حقائق اور سیکیورٹی اداروں کی تحقیقات کا نچوڑ ہے۔ ہمسایہ ملک کی جانب سے خوارجی عناصر کی سرپرستی اور فتنہ الہندستان کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہیں۔ پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو اس حوالے سے شواہد فراہم کیے ہیں مگر بدقسمتی سے بین الاقوامی سطح پر اس خطرے کی سنگینی کو وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی۔
سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر، عالمی بینک کی جانب سے 112 ارب روپے کی گرانٹ اور کچھی کینال منصوبے کی تکمیل جیسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریاست مشکل حالات کے باوجود اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑ رہی۔ کچھی کینال منصوبہ بلوچستان کی زرعی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی تکمیل سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
یہ وہ عملی اقدامات ہیں جو صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کا حالیہ بیانیہ واضح، مضبوط اور حقیقت پسندانہ ہے۔ افغانستان کے حوالے سے دوٹوک مؤقف، عسکری قیادت کی زیرو ٹالرنس پالیسی، علاقائی دفاعی روابط اور بلوچستان کی ترقی پر توجہ، یہ سب ایک ہی قومی حکمتِ عملی کے مختلف پہلو ہیں۔ پاکستان نے یہ پیغام واضح طور پر دے دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے مگر کمزوری کی قیمت پر نہیں۔ ریاست نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے تیار ہے بلکہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سطح پر اتحاد، اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط کیا جائے۔ دشمن عناصر کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ پاکستان اندرونی اختلافات اور انتشار کا شکار ہو جائے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم اور ادارے یکجا ہوئے ہیں، ملک نے ہر چیلنج پر قابو پایا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی یہی راستہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی منزل تک لے جا سکتا ہے اور ریاستی پالیسیوں میں یہی عزم اور تسلسل نظر آ رہا ہے۔