زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے لائحہ عمل

دنیا میں جب کسی ملک کی فصل کی پیداوار اچانک بڑھ جاتی ہے تو ایمرجنسی ایکسپورٹ پلان ترتیب دیا جاتا ہے



صبح کے دھندلکے میں کسان اپنے کھیت میں کھڑا گندم کی فصل کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اس خاموشی میں ریڈیو کی مدھم آواز میں جیسے جان پڑ گئی ہو۔ کیونکہ وزیر اعظم نے جو کچھ کہا اس سے وہ چونکا نہیں بلکہ اس کے ولولے ایک بار پھر جوان ہو گئے۔ اس نے ضرور سوچا ہوگا کیا ہم گندم کا برآمدی ملک بن جائیں گے؟ کیا چین کی برآمدات میں اضافہ ہوگا؟ وزیر اعظم کہہ رہے تھے کہ زرعی برآمدات بڑھانے کے لیے لائحہ عمل بنایا جائے، اور وہ شاید یہ بھی سوچ رہا ہو کہ پاکستان بننے سے پہلے سندھ کی وادی اور پنجاب کے دریا مل کر اتنا اناج اگاتے تھے کہ گندم،گنا، چاول، سبزیاں، پھل وافر مقدار میں پیدا ہوتی تھیں اور انگریز ان زرعی اشیا کو مال گاڑی میں بھر بھر کر کراچی کی بندرگاہ تک لے کر جاتے۔

ان زرعی برآمدات کی خاطر انگریزوں نے کراچی سے پشاور تک ٹرین چلائی۔ کراچی کی بندرگاہ کو ترقی دی۔ پیداوار میں اضافے کی خاطر پاکستان کو ایک زبردست نہری نظام دیا۔ پاکستان بننے کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ہم برآمدی ملک نہ رہے اور خوراک کا اہم درآمدی مل بن کر رہ گئے۔ گندم کی درآمد، کبھی چینی کی درآمد اور کپاس کی گانٹھوں کی درآمد کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ہم بہت سی چیزوں کی پیداوار میں خودکفیل ہیں لیکن فوری برآمد کا ہنر نہیں آتا۔ پاکستان کا المیہ پیداوار میں اضافہ نہ ہونے کا نہیں ہے بلکہ بعض پیداوار اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ فوری برآمدات کا کوئی نظام نہیں ہے۔ البتہ ضایع کرنے کا ہنر خوب آتا ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا کبھی ٹماٹر 400 روپے فی کلو اور کبھی 20 روپے یا 10 روپے فی کلو کی آوازیں آ رہی ہوتی ہیں، کبھی ریڑھی والا چیخ چیخ کر پکارتا ہے 100 روپے کے 5 کلو آلو اور کبھی پیاز 250 روپے کلو اور کبھی 20 روپے کلو بکتا ہے۔ اور جب کسان کو اپنی زرعی فصل کی اتنی قیمت ہی نہیں ملتی کہ ٹرک کا کرایہ بھر کر منڈی لے کر جائے اور وہ دیکھتا ہے کہ نقصان ہو رہا ہے تو آلو، پیاز، ٹماٹر کو اسی کھیت میں دبا دیتے ہیں،کیونکہ ریاست کے پاس زرعی منصوبہ بندی نہیں۔ ہر حکومت میں پیداوار سے قبل طلب کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ کہیں حکومت جب دیکھتی ہے کہ فصل بہت زیادہ ہو گئی ہے تو فوری برآمدی چینل کھول دیتی ہے۔

کہیں قیمت گرنے سے پہلے ریاست خریدار بن جاتی ہے جب کہ پاکستانی حکومت مارکیٹ کا مسئلہ کہہ کر طلب و رسد کا معاملہ قرار دے کر کسان کو لاچار مجبور بے بس کر دیتی ہے اور پھر اس کا فیصلہ یہی ہوتا ہے کہ اگلے سال یہ فصل نہیں بوتا اور پھر کیا ہوتا ہے کبھی ٹماٹر 40 روپے فی کلو، کبھی آلو سو روپے کلو اور کبھی پیاز 250 روپے فی کلو اور کبھی آم بھی اتنے زیادہ پیدا ہو کر ضایع ہو جاتے ہیں کیونکہ فوری ایکسپورٹ کا انتظام بھی نہیں ہے۔ اسی طرح بعض سبزیوں اور پھلوں کی کثرت پیداوار بھی ہے اور ہماری حکومت کے حکام اس سلسلے میں بدانتظام بھی ہیں۔ یہ منڈی پاکستانیوں کی ناکامی نہیں بلکہ حکام کی غفلت، لاپرواہی اور زرعی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔

دنیا میں جب کسی ملک کی فصل کی پیداوار اچانک بڑھ جاتی ہے تو ایمرجنسی ایکسپورٹ پلان ترتیب دیا جاتا ہے، اگر حکومت واقعی زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ عمل بنانا چاہتی ہے تو فوری زرعی ایمرجنسی میکنزم بنانا ہوگا۔ کس فصل کی پیداوار اچانک ملکی طلب سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اگر ملک میں قیمت گر رہی ہے، کسان نقصان میں جا رہا ہو تو بیرون ملک کے تجارتی اتاشی کو جگایا جائے یا اسے یاد دلایا جائے کہ آپ کی بھی کچھ ڈیوٹیز ہیں کہ ہنگامی امپورٹ کے لیے طلب کا ڈیٹا حاصل کریں تاکہ فوری زرعی برآمدات ممکن بنائی جا سکے۔ یہ سب کچھ دنیا میں ہو رہا ہے۔ صرف پاکستان میں نہیں ہو رہا۔ ترکی ہو یا مصر یا کوئی اور بڑا زرعی ملک ایسی ہنگامی صورت حال میں فوری برآمدی چینلز کھل جاتے ہیں۔ برآمدات بڑھانے کے لیے ویلیو ایڈیشن کی حکمت عملی پر غور کیا جائے۔ بہت سی زرعی پیداوار ضایع ہونے سے بچانے کے لیے کولڈ اسٹوریج کا جال بچھایا جائے۔

کسانوں کی سہولت کے لیے موبائل وین چلائی جائیں جن میں کسانوں سے فصل لاد کر کولڈ اسٹوریج پہنچائی جائے۔ ایسے ممالک جوکہ زرعی درآمدات والے ہیں وہاں زرعی برآمدی پروموشن آفیسرز تعینات ہوں جو مقامی زبان میں مہارت رکھتا ہو اور زرعی پیداوار سبزیوں اور پھلوں کے بارے میں بھی خوب جانتا ہو۔ ان ملکوں کے سفیروں کو چاہیے کہ وہ وہاں کے بڑے بڑے زرعی امپورٹرز سے اپنے تعلقات کو بڑھائیں اور تجارتی اتاشی ان باتوں پر گہری نظر رکھے۔

زرعی برآمدات کو ون ونڈو کے تحت لے کر آئیں۔پاکستان کے کھیتوں اور کسانوں میں اتنی صلاحیت ہے اور کھیتوں میں اتنی وفاداری ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے ظلم و ستم سے نجات دلا سکتے ہیں کیونکہ کسان کے پاس زرخیز زمین ہے، چار موسم ہیں، پانی ہے، محنت ہے، صبر ہے کمی صرف ایک چیز کی ہے وہ ہے ریاست کی مکمل سرپرستی، ریاست کا تعاون اور وہ پالیسی جو کسان دوست ہو۔ یہی کھیت جو جی ڈی پی کا 23 فی صد حصہ فراہم کرتے ہیں ، روزگار کا 37 فی صد اور غذائی سلامتی کا 100 فی صد مہیا کرتے ہیں، اگر انھی کھیتوں کو منصوبہ بندی سے جوڑ دیا جائے، ویلیو ایڈیشن سکھا دی جائے، ان کے لیے کولڈ اسٹوریج اور بیرونی منڈیوں سے رسائی آسان کر دی جائے تو یہ ہمارے ملک کو جوکہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اس سے نجات دلا دیں گے۔ کئی ملکوں کی مثال سامنے ہے جنھوں نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔

مقبول خبریں