پاکستان کا 36 ارب ڈالر توانائی کے قرضوں کی ری فنانسنگ کیلیے ورلڈ بینک سے رجوع

یہ وہ قرضے ہیں جو پاکستان نے ماضی میں پاور پراجیکٹس لگانے کیلئے لیے تھے


شہباز رانا January 09, 2026

پاکستان نے کثیر جہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان کے 36 ارب ڈالر مالیت کے توانائی کے شعبے کے قرضوں کی ری فنانسنگ میں ممکنہ کردار کے لیے ورلڈ بینک سے رجوع کیا ہے۔ یہ وہ قرضے ہیں جو پاکستان نے ماضی میں پاور پراجیکٹس لگانے کیلئے لیے تھے۔

حکومتی ذرائع نے ’’ ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کو بتایا کہ ابتدائی تجویز اس مقصد کے ساتھ تیار کی گئی ہے کہ صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے مہنگے غیر ملکی قرضوں کو نسبتاً سستے کثیر جہتی قرضوں سے بدل دیا جائے۔ اصل زر کی واپسی سمیت قرض کی لاگت بجلی کی قیمت کا حصہ ہے۔ یہ رقم صارفین ادا کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے اب تک بین الوزارتی بات چیت کے علاوہ ورلڈ بینک کے ساتھ بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ورلڈ بینک کے ترجمان نے ’’ ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کو تصدیق کی کہ جمعرات کو ہونے والی ایک ملاقات میں وزیر توانائی نے 36 ارب ڈالر توانائی کے قرضے کا ذکر کیا اور پوچھا کہ کیا ترقیاتی شراکت دار مل کر ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ فنانسنگ کے حجم کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی واحد قرض دہندہ 36 ارب ڈالر فراہم نہیں کر سکتا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس جمعرات کو منعقد اجلاس کے دوران مختلف وزارتوں کے خیالات مختلف تھے اور فیصلہ کیا گیا کہ پاور ڈویژن وزارت اقتصادی امور کے ساتھ مشاورت کے بعد تجویز کو حتمی شکل دے گا۔

ابتدائی تجویز کے مطابق حکومت قرض کی واپسی کے لیے 15 سال کی مدت مانگ رہی ہے جس میں تقریباً چار سال کی رعایت (گریس پیریڈ) بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کر کے تقریباً 8 سے 9 امریکی سینٹ فی یونٹ تک لانا ہے جس کا مطلب 25 روپے فی یونٹ قیمت بنتا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتیں کم کر کے تقریباً 23 روپے فی یونٹ کی ہیں لیکن بلوں کی اصل لاگت 26 روپے فی یونٹ سے زیادہ ہے۔ گھریلو صارفین اب بھی 57 روپے فی یونٹ سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں جو ناقابل برداشت ہے۔

ذرائع نے بتایا وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے رواں ہفتے ورلڈ بینک کی کنٹری ہیڈ مس بولورما امگابازار سے ملاقات کی اور اس حوالے سے تعاون مانگا ہے۔ رابطہ کرنے پر ورلڈ بینک کے ترجمان نے کہاوزیر نے شعبے کے قرضوں کے بھاری بوجھ کو ری اسٹرکچر کرنے کے اپنے منصوبے کا ذکر کیا۔ تجویز ابھی تک ہمارے سامنے واضح نہیں ہے اور ہم نے مزید معلومات طلب کی ہیں۔ 

ورلڈ بینک نے حکومت کو بتایا ہے کہ وہ کچھ عالمی تجربات شیئر کر سکتا ہے جو انہیں اپنے قرضوں کی تشکیل نو کے لیے فنانسنگ میکانزم تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے مالی تعاون کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کثیر جہتی قرض دہندگان پاکستان کی مدد کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں تو وہ واجب الادا قرضوں کی واپسی کے لیے سالانہ 1 ارب سے 2 ارب ڈالر فراہم کر سکتے ہیں۔ رابطہ کرنے پر پاور ڈویژن کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ طلب بڑھانے اور صارفین پر دباؤ کم کرنے کے لیے متعدد اصلاحاتی خیالات اندرونی طور پر زیر غور ہیں تاہم، قرضوں کی ری پروفائلنگ یا ری فنانسنگ سے متعلق کوئی تجویز زیر بحث نہیں ہے۔

سرکاری ترجمان نے مزید کہا کہ پاور ڈویژن کا اصلاحاتی ایجنڈا پاور سیکٹر کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بجلی کے نرخوں سے متعلق خدشات کو دور کرنے اور علاقائی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے مجموعی پالیسی اور میکرو اکنامک فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کاروباری برادری اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران زیادہ تر پاور پلانٹس چینی مالیاتی اداروں کے تعاون سے لگائے ہیں۔

 ’’ ایکسپریس ٹریبیون‘‘ نے 2018 میں رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کو سی پیک کے توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے عوض بیجنگ کو 2038 تک 28 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنے ہوں گے۔ یہ مضمون حکومتی ڈیٹا پر مبنی تھا جو اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا تھا۔

 سی پیک پاور پلانٹس لگانے کے لیے کمرشل قرضے لندن انٹر بینک آفرڈ ریٹ (لائبور ) پلس 4.5 فیصد کی شرح سود پر لیے گئے تھے۔ سات سال پہلے یہ بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ پاکستان ان قرضوں کی واپسی صرف اپنی برآمدات بڑھا کر ہی برداشت کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں