اسلام آباد:
قائمہ کمیٹی مواصلات نے سیکریٹری مواصلات اور سی ای او کے خلاف توہین پارلیمنٹ کی کارروائی کا عندیہ دے دیا، کمیٹی نے سیکریٹری مواصلات کو عہدے سے ہٹانے کیلئے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سیکریٹری مواصلات اور سی ای او این ایچ اے کی عدم حاضری پر کمیٹی اراکین سخت برہم ہوئے۔ اجلاس میں وزارت اور این ایچ اے سے محض دو افسران نے شرکت کی۔
سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ آج کمیٹی میں محکمہ اور وزارت سے ایک ایک ذیلی افسر آئے، ایسی صورتحال پارلیمانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔ افسران نے بتایا کہ سیکریٹری مواصلات سندھ کی عدالت کے روبرو پیش ہوں گے اس لیے نہیں آسکے۔
سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ ان کے لیے عدالت اہم ہے لیکن پارلیمنٹ نہیں، ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد تو عدالتوں کا حشر نشر کر دیا گیا ہے، اب تو جج سانس بھی بڑی مشکل سے لے رہے ہیں، ان کے ساتھ اچھا ہوا، انہوں نے ہمارے تین وزرائے اعظم کے ساتھ کیا کیا؟
قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی نے سیکریٹری مواصلات علی شیر محسود کو عہدے سے ہٹانے کے لیے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
اراکین کمیٹی نے کہا کہ سیکریٹری مواصلات نے آج زیادتی کی ہے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے چیئرمین سینیٹ کو سفارش ارسال کی جائے گی اور نقل وزیراعظم آفس کو بھی بھیجی جائے گی۔
اجلاس میں سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر عبد العلیم خان کے درمیان تنازع کا تذکرہ ہوا۔ کنوینر کمیٹی کے مطابق وزیر نے کہا کہ
سارے جہان کے بے ایمان اس کمیٹی میں جمع ہو گئے ہیں، علیم خان پارلیمنٹ کا نمائندہ ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا اس نے ایسا کیوں کہا؟
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سب سے بڑا بے ایمان وہ خود ہے، پہلے اس معاملے کو نپٹائیں گے، ابھی تو وہ پاکستان توڑ کر دس بارہ صوبے بنا رہا ہے، اس نے سندھ توڑ کر دو صوبے بنانے کی بات کی ہے۔