ایران میں کریک ڈاؤن میں 648 ہلاکتیں ہوگئیں؛ انسانی حقوق کی تنظیم

ایران میں 14 روز سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں


ویب ڈیسک January 12, 2026
ایران میں احتجاج اور مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 650 ہوگئی

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن میں 648 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے خبردار کیا کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے تاہم ملک بھر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ کے باعث اطلاعات کی آزادانہ تصدیق انتہائی مشکل ہو گئی۔

تنظیم کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کو طاقت کے ذریعے منتشر کیا، جس کے دوران براہ راست فائرنگ، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کر رہے جبکہ سرکاری میڈیا ہلاکتوں کی تعداد کو کم ظاہر کر رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رہا تو واشنگٹن انتہائی سخت آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی خبردار کر چکے ہیں کہ وہ مظاہرین کے قتل کی صورت میں کارروائی کریں گے۔

صدر ٹرمپ کے بیانات کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن دھوکے اور غدار کرائے کے عناصر پر انحصار کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کے حق میں نکالی گئی سرکاری ریلیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم بیرونی دباؤ اور سازشوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ اپنے بیانات پر عملی قدم اٹھاتے ہیں یا نہیں، کیونکہ کسی بھی ممکنہ امریکی مداخلت کے خطے اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ احتجاج کی ایک بڑی وجہ ایران کی کرنسی کی شدید گراوٹ، مہنگائی اور معاشی بحران ہے، جس نے عوامی غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج اسلامی جمہوریہ ایران کو درپیش سب سے سنگین چیلنجز میں سے ایک بن چکا ہے۔

واضح رہے کہ بی بی سی اور دیگر بیشتر بین الاقوامی میڈیا ادارے ایران کے اندر سے آزادانہ رپورٹنگ کے قابل نہیں، جس کے باعث زمینی حقائق تک رسائی محدود ہے۔

مقبول خبریں