امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر حملے کا منصوبہ تیار کریں۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو یہ برطانوی وزیراعظم سے کھلا اختلاف ہوگا اور اس صورت میں نیٹو اتحاد ٹوٹ جائے گا، مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام آزادی کی جانب دیکھ رہے ہیں، ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب دو برس میں ڈیڑھ لاکھ اسرائیلی ملک چھوڑ گئے، جنگ، عدم تحفظ اور سیاسی مایوسی نے صہیونی ریاست کے دعوؤں کو چیلنج کر دیا۔
عالمی سیاست اس وقت ایک غیر معمولی اور خطرناک موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں طاقت، دھمکی، عسکری منصوبہ بندی اور سفارتی اقدار باہم ٹکرا رہی ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی حملے کی تیاری کا حکم، ایران کے خلاف مسلسل دھمکیاں، لاطینی امریکا میں دباؤ کی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی داخلی کمزوری اور انسانی انخلا، یہ سب واقعات مل کر ایک ایسے عالمی منظر نامے کی تشکیل کر رہے ہیں جو سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی توازن کو شدید چیلنج کر رہا ہے۔ طاقت کے اس بے لگام استعمال نے نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ خود مغربی اتحادوں، خصوصاً نیٹو کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
گرین لینڈ پر ممکنہ امریکی حملے کی خبر بظاہر حیران کن محسوس ہوتی ہے، مگر اگر صدر ٹرمپ کی سابقہ پالیسیوں اور بیانات کو سامنے رکھا جائے تو یہ اقدام ان کی سوچ کے عین مطابق دکھائی دیتا ہے۔ گرین لینڈ جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم خطہ ہے، جہاں معدنی وسائل، برفانی راستے اور عسکری اہمیت نے بڑی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔
تاہم کسی خود مختار علاقے یا اس سے منسلک ریاست پر طاقت کے زور پر قبضے کا تصور اکیسویں صدی میں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے بالکل منافی ہے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو یہ برطانوی وزیراعظم سے کھلا اختلاف ہوگا، اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغربی اتحاد اب اندرونی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہے۔
نیٹو، جو دہائیوں تک مغرب کی عسکری یکجہتی کی علامت رہا، اب خود اپنے رکن ممالک کے درمیان اعتماد کے بحران سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ اگر واقعی اس نوعیت کا حملہ ہوا تو نیٹو اتحاد کے ٹوٹنے کا خدشہ محض قیاس آرائی نہیں رہے گا بلکہ ایک حقیقی امکان بن جائے گا۔ یورپی ممالک پہلے ہی امریکا کی یکطرفہ پالیسیوں سے نالاں ہیں اور ٹرمپ کی قیادت میں واشنگٹن نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اتحادیوں کی رائے کو ثانوی حیثیت دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کینیڈا نے امریکی دھمکیوں کے بعد دفاعی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ شمالی امریکا کے اندر بھی اعتماد کی فضا کمزور ہوچکی ہے اور وہ ممالک جو کبھی امریکا کو اپنی سلامتی کا ضامن سمجھتے تھے، اب خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ایران کے خلاف امریکی صدر کی مسلسل دھمکیاں عالمی کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایرانی عوام آزادی کی جانب دیکھ رہے ہیں اور امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے، دراصل ایک پرانا بیانیہ ہے جو ماضی میں عراق، لیبیا اور دیگر ممالک میں استعمال کیا جا چکا ہے۔
تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ بیرونی مداخلت کے نام پر کی جانے والی فوجی کارروائیاں نہ آزادی لاتی ہیں اور نہ استحکام، بلکہ تباہی، خانہ جنگی اور طویل المدت عدم استحکام کو جنم دیتی ہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا یہ انتباہ کہ اگر امریکا نے ایران پر فوجی حملہ کیا تو اسرائیل اور امریکی فوجی مراکز جائز اہداف ہوں گے، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطہ ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے بیانات، جن میں انھوں نے پرتشدد مظاہروں کے پیچھے بیرونی عناصر اور دہشت گردوں کی موجودگی کا الزام عائد کیا، اس پیچیدہ صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہیں جہاں داخلی احتجاج، بیرونی مداخلت اور علاقائی سیاست ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو چکی ہے۔ امریکا اور اسرائیل پر یہ الزام کہ وہ ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے مظاہرین کو تشدد پر اکسا رہے ہیں، کوئی نئی بات نہیں، مگر موجودہ حالات میں یہ الزامات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ کہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی پر گفتگو ہوئی، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پردے کے پیچھے عسکری منصوبہ بندی جاری ہے۔امریکی مداخلت کے خدشے کے پیش نظر تل ابیب اور دیگر اسرائیلی شہروں میں ہائی الرٹ کا نفاذ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ خود اسرائیل بھی اس ممکنہ تصادم کے نتائج سے خوفزدہ ہے۔ ایک طرف اسرائیلی قیادت جارحانہ بیانات اور اقدامات کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے، تو دوسری جانب اس کے شہری عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ امریکا میں قائم ایک انسانی حقوق کی تنظیم کا یہ کہنا کہ ایران میں مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے، انسانی المیے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا عالمی طاقتیں واقعی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فکرمند ہیں یا یہ نعرہ محض اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔
اسی عالمی افراتفری کے دوران اسرائیل کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے انسانی انخلا کا سامنا ہے۔ اکتوبر 7 کے بعد پیدا ہونے والی جنگ، عدم تحفظ اور سیاسی مایوسی نے صہیونی ریاست کے اس دعوے کو شدید نقصان پہنچایا ہے کہ وہ دنیا بھر کے یہودیوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد اسرائیلی شہری ملک چھوڑ چکے ہیں، اور صرف 2023 میں طویل مدت کے لیے بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک گہری سماجی اور نفسیاتی تبدیلی کی علامت ہیں۔ جب ایک ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ، استحکام اور مستقبل کی امید فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو ہجرت ایک فطری ردعمل بن جاتی ہے۔
اسرائیل سے بڑے پیمانے پر انخلا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلسل جنگی ماحول، داخلی سیاسی بحران اور علاقائی تنہائی نے ریاستی بیانیے کو کمزور کر دیا ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جو دہائیوں تک اپنی عسکری طاقت اور ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعوے کرتی رہی، مگر آج اس کے شہری یک طرفہ ٹکٹ پر ملک چھوڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
لاطینی امریکا میں صورتحال بھی کم تشویشناک نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ طنزیہ بیان کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کیوبا کا صدر بننا ایک’’ اچھا خیال‘‘ ہوگا، دراصل اس خطے کے لیے امریکا کے استعماری رویے کی یاد دہانی ہے، اگرچہ اس بیان کے پیچھے کسی سرکاری پالیسی یا سفارتی منصوبے کا ثبوت موجود نہیں، مگر اس طرح کے بیانات خطے میں عدم اعتماد اور کشیدگی کو بڑھاتے ہیں۔
کیوبا کو یہ دھمکی دینا کہ اگر اس نے بروقت امریکا سے معاہدہ نہ کیا تو اسے تیل یا مالی امداد نہیں ملے گی، کھلے عام معاشی دباؤ اور بلیک میلنگ کی مثال ہے۔کیوبا کے وزیر خارجہ کا سخت ردعمل اور لاطینی ممالک کی خود مختاری اور اتحاد پر زور اس بات کی علامت ہے کہ یہ خطہ اب یکطرفہ امریکی بالادستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وینز ویلا میں حالیہ امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد لاطینی امریکا میں یہ احساس مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ امریکا ایک بار پھر ’’ مونرو ڈاکٹرائن‘‘ کے تحت خطے کو اپنے اثر و رسوخ میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر بدلتی ہوئی عالمی حقیقت میں یہ پالیسی نہ صرف پرانی ہو چکی ہے بلکہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
ان تمام واقعات کو ایک ساتھ دیکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کی سیاست، عسکری دھمکیاں اور معاشی دباؤ بین الاقوامی تعلقات کا مرکزی محور بن چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا نے کثیرالجہتی سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین اور اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کی روایت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نہ صرف امریکا کے مخالفین بلکہ اس کے قریبی اتحادی بھی عدم تحفظ اور بے یقینی کا شکار ہیں۔عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آیا وہ طاقت کے اس بے لگام استعمال کو روکنے کے لیے کوئی اجتماعی لائحہ عمل اختیار کرے گی یا خاموش تماشائی بنی رہے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عالمی سطح پر طاقتور ریاستوں کو بلا روک ٹوک کارروائی کی اجازت دی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن نکلے۔
پہلی اور دوسری عالمی جنگیں اسی ذہنیت کا شاخسانہ تھیں جہاں طاقت کو قانون پر فوقیت دی گئی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی رہنما طاقت کے نشے سے باہر آ کر مکالمے، سفارت کاری اور باہمی احترام کو ترجیح دیں۔ گرین لینڈ ہو یا ایران، کیوبا ہو یا اسرائیل، کسی بھی مسئلے کا پائیدار حل فوجی حملوں، دھمکیوں یا معاشی دباؤ میں نہیں بلکہ مذاکرات اور انصاف پر مبنی عالمی نظام میں پوشیدہ ہے۔ اگر دنیا نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا تو آنے والے برسوں میں تاریخ ہمیں ایک اور تباہ کن باب کی صورت میں یاد رکھے گی، جہاں انسانیت نے ایک بار پھر طاقت کے سامنے عقل اور انصاف کو قربان کردیا۔