عام دوا سے پیچیدہ حیاتیاتی ادویہ

مریض کےلیے دوا کی ہر خوراک ایک امید ہے


ڈاکٹر عبید علی January 13, 2026
دوا ساز ادارے کتنے مہینے یا سال نقصان کے باوجود دوائیں خود تیار کریں گے؟، میاں خالد مصباح کی ایکسپریس سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

مریض کےلیے دوا کی ہر خوراک ایک امید ہے۔ معمولی دوا اور اہم دوا کہہ کر ہم سوچنے کا زاویہ بدل دیتے ہیں۔ سستی دوا اور مہنگی دوا، سادہ دوا اور لگژری دوا کا نام دے کر ہم ابھرتے خیالات کی اجزا ترکیبی کو آلودہ کردیتے ہیں۔

آئیے، لہروں کے رجحان کو دل سے دیکھتے ہیں، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک صحتمند شخص کو مہنگی ترین سانس لینے کی دوا مفت تحفے میں دی جائے، کیا وہ یہ دوا کھائے گا؟ کسی توانا دوست کو مفت میں ہوٹل کی جگہ اسپتال کے مہنگے ترین کمرے کی پیشکش ہو، کیا وہ دوست وہاں قیام کرے گا، کسی چلتے پھرتے دوڑتے شہری کو اسپتال کے انتہائی نگہداشت میں نصب وینٹی لیٹر بلا قیمت دستیاب ہو، کیا وہ شہری آلات اپنے اوپر استعمال کرے گا؟

گفتگو پھیل رہی ہے، سمیٹتا ہوں۔ اس تیزی سے دماغ میں الفاظ کلبلاتے ہیں کہ کیا بتاؤں، برقی تختہ سیاہ کی رفتار ہمارے خیالات کی رفتار سے کم از کم دس گناہ کم ہے۔ کسی ذرے کی حرکت پر نظر رکھوں تو اس کی جسامت دھندلی ہوجاتی ہے۔ پانی کے بلبلوں کے مانند ابھرتا، پھیلتا اوجھل ہوجاتا ہے۔

موضوع یہ تھا کہ چند روپے والا پیراسیٹامول ہو یا لاکھوں روپے والا مونوکلونل اینٹی باڈیز، ضرورت پڑنے پر مریض کےلیے اہم ہے اور کہیں لازمی۔ بیماری تو کسی کا انتخاب نہیں اور نا ہی کسی کی خواہش ہے، درد کا کوئی مذہب، قومیت، کسی قسم کی درجہ بندی سے تعلق نہیں۔ آپ بزنس کلاس میں سفر کرتے ہیں یا پسینہ کی بو میں رچی بسی عوامی بس میں۔ درد بے رحم اور سفاک ہے۔ خیال کیجیے، انسانیت کےلیے علاج کو آسان اور باوقار رکھیے۔ 

سماج میں پھیلے طبی درد کا مجموعی حجم ہو یا اس کا وزن، ہم ختم نہیں کم کرسکتے ہیں اور کم کرنے کےلیے احساس کو یکجا کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا دھوپ کےلیے سورج کا نکلنا۔

علم الادویہ کے دوستو، مونو کلونل اینٹی باڈیز ہوں یا سیلولر تھراپی، اٹھیں کمر کسیں، یہاں اپنے شہر میں ان ادویات کو بنانے کا ارادہ کریں۔ اپنے ملک میں ہی بنانے کا حوصلہ کریں۔ اس للکار کو قبول کریں اور اس میں بھی سرمایہ کاری کریں۔ آپ کا اعتماد، آپ کا یقین اور آپ کی نیت رائیگاں نہیں جائے گی۔ اور چلی بھی گئی تو کیا، خالی ہاتھ ہی آئے تھے اور خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ خیال ایک ہی کریں کہ اداکاروں سے دور رہیں، کیلے کے چھلکوں پر دانستاً پاؤں نہ رکھیں، عزت و احترام صرف سچائی کےلیے۔

یاد رکھیے، اچھی نیت سے کیا ہوا برا کام کبھی اچھا نہیں ہوگا اور نہ ہی بری نیت سے کیا ہوا اچھا کام۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
ڈاکٹر عبید علی
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں