اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس: دفاع کیلئے 5 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ منظور

دفاعی اخراجات آئندہ مالی سال سے باقاعدہ بجٹ میں شامل ہوں گے، پنجاب میں ایس ڈی جیز پروگرام کیلئے 2 ارب کی بھی منظوری


بزنس رپورٹر January 13, 2026

اسلام آباد:

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاع کیلئے 5 ارب روپے سے زائد کی ٹیکنکل سپلیمنٹری گرانٹس جبکہ پنجاب میں ایس ڈی جیز پروگرام کیلئے 2 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی، دفاعی اخراجات آئندہ مالی سال سے باقاعدہ بجٹ میں شامل ہوں گے۔

وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس پیر کو وزارتِ خزانہ میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک (آن لائن شرکت)، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون سمیت وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق اجلاس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی جانب سے پیش کی گئی متعدد سمریوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ترقیاتی، دفاعی، ڈیجیٹل اور سماجی بہبود سے متعلق منصوبوں کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی جبکہ اہم پالیسی اور انتظامی امور پر بھی فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں دفاعی ڈویژن کی دو الگ الگ سمریوں پر غور کرتے ہوئے ای سی سی نے موجودہ مالی سال کے دوران پنجاب میں سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گولز اچیومنٹ پروگرام (ایس اے پی) کے لیے 2 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی۔

دفاعی خدمات کے لیے 5 ارب 8 کروڑ 10 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی جو استعداد کار میں اضافے،انفراسٹرکچر کی ترقی،کمیونٹی انگیجمنٹ اور سائبر سیکیورٹی کے اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ یہ رقم مرحلہ وار جاری کی جائے گی اور اس مد کو آئندہ مالی سال سے باقاعدہ دفاعی بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔

ای سی سی نے خصوصی تعلیم کے فروغ سے متعلق ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن کے لیے 32 کروڑ 28 لاکھ 70 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی جس کے تحت اسلام آباد میں قائم کیے جانے والے آٹزم سینٹر آف ایکسیلینس میں زیرِ تعلیم خصوصی بچوں کی آمدورفت کے لیے 15 کوسٹر بسیں فراہم کی جائیں گی۔ یہ مرکز آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر میں مبتلا کم از کم 300 بچوں کو محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کی سمریوں پر بھی غور کیا گیا۔ ای سی سی نے اسلام آباد میں شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے فلیگ شپ منصوبے کے طور پر آسان خدمت مرکزکے قیام کے لیے 80 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی۔

اس کے علاوہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کے فروغ، آئی ٹی انفراسٹرکچر کی بہتری، ای گورننس اور قومی آئی سی ٹی ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے 3 ارب 70 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں ہدایت کی گئی کہ فنڈز کو متعلقہ منصوبوں پر مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایف بی آر کی جانب سے دریائے سندھ، حب اور بلوچستان کے علاقوں میں ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام سے متعلق تجویز پر بھی غور کیا۔ وزیراعظم کے 19 ستمبر 2024ء کے فیصلے کی روشنی میں پیش کی گئی اس سمری کے تحت 10 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ تجویز کی گئی تھی، تاہم ای سی سی نے تیسری سہ ماہی کے لیے 3 ارب روپے کی منظوری دی، جب کہ باقی رقم چوتھی سہ ماہی میں فراہم کی جائے گی۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ایشیا پیٹرولیم لمیٹڈ (اے پی ایل) پائپ لائن کے مستقبل سے متعلق سمری بھی اجلاس میں زیرِ غور آئی۔ ای سی سی نے نیشنل ٹاسک فورس (پاور ڈویژن) کے دائرہ کار میں ایک کمیٹی قائم کی جس میں پیٹرولیم، خزانہ، قانون و انصاف، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے نمائندے شامل ہوں گے یہ کمیٹی 31 جنوری تک پائپ لائن کے مستقبل، عملدرآمدی معاہدے، گارنٹی ایگریمنٹ، لیٹر آف ایگریمنٹ، ایندھن کی ملکیت اور پائپ لائن کے متبادل استعمال سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی۔

اجلاس کے اختتام پر وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے فلم اینڈ ڈرامہ فنانس فنڈ کے لیے ایک ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی درخواست پر غور کیا گیا۔ یہ فنڈ نیشنل فلم اینڈ براڈکاسٹنگ پالیسی 2018ء کے تحت قائم کیا گیا ہےجس کا مقصد پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کو فروغ دینا اور معیاری، ذمہ دار اسکرین مواد کے ذریعے قومی بیانیے کو مضبوط بنانا ہےای سی سی نے 70 کروڑ روپے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وزارت ہر چھ ماہ بعد فنڈز کے استعمال پر واضح کارکردگی اشاریوں (کے پی آئیز) کے تحت رپورٹ پیش کرے اور اخراجات شفاف اور مسابقتی بنیادوں پر کیے جائیں۔

مقبول خبریں