راولپنڈی:
چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی دہشت گرد جماعت ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تاہم کے پی اسمبلی کو آن بورڈ لینے کی ضرورت ہے۔
داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بہت افسوس کی بات ملاقاتیں نہیں ہورہیں، ہر ہفتے ہم آتے ہیں، انتظار کرکے واپس چلے جاتے ہیں پتا نہیں ان کو کس نے پٹی پڑھائی ہے کہ ملاقات نہ کرانا اچھا عمل ہے حالانکہ ملاقاتیں ہوں گی تو حالات میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ فروری 2025ء سے پارٹی لیڈرشپ کی کوئی ملاقات بانی سے نہیں ہوئی عدالتوں کے احکامات پر عمل ہونا چاہیے، جتنا آپ ملنے سے روکیں گے اتنا ہی عوام کی ہمدردیاں بانی سے بڑھیں گی۔
سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے دورہ سے قبل سندھ حکومت کے رویے پر شکریہ ادا کیا تھا بدقسمتی سے سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے آخری دن رویہ بدل گیا، حیدرآباد سے واپسی پر سہیل آفریدی کا راستہ روکا گیا، سندھ حکومت نے پہلے جلسے کی اجازت دی پھر راستے روک دئیے، سہیل آفریدی جہاں جہاں ئے کوئی ایک گملا تک نہیں ٹوٹا، عوام نے سہیل آفریدی کا استقبال کیا اور اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی اور بشریٰ بی بی کی فیملی کو کبھی ہم نے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ڈسکس نہیں کیا، پارلیمانی پارٹی کا ایجنڈا پارلیمینٹ سے متعلق تھا، پارلیمانی پارٹی میں زیادہ تر گفتگو اپوزیشن لیڈر کے نوٹیفکیشن پر کی گئی، آئینی توازن ہر حال میں ہونا چاہیے، دہشت گردی کے مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے دہشت گردی کے مسئلے پر نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہونا چاہیے دہشتگردی ایک ناسور ہے، دہشت گردوں سے متعلق کسی کے دل میں نرم گوشہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا نوٹی فکیشن ہونا خوش آئند ہے، اگست سے یہ نشست خالی ہے ساری اپوزیشن کی جانب سےاپوزیشن لیڈر کا ایک ہی امیدوار ہے اور وہ ہے محمود خان اچکزئی، آج سارا پراسس مکمل ہوگیا امید ہے جمعرات تک نوٹی فکیشن آجائے گا اپوزیشن لیڈر کا نو ٹی فکیشن ہونا اعتماد سازی کی جانب اہم قدم ہوگا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 8 فروری کو شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان ہے ہمارا احتجاج پُرامن ہوگا اور مہذب ہوگا، دہشت گردی کے خلاف متفقہ موقف ہے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے، 9 مئی کا کوئی ایسا کیس نہیں جس میں سہیل آفریدی نامزد ہوں فرانزک رپورٹ میں سہیل آفریدی کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے اس کے متعلق واضح نہیں وہ کسی جگہ کی ہے۔
دہشت گردی پر انہوں ںے کہا کہ ہم واضح الفاظ میں کہتے ہیں ٹی ٹی پی دہشت گرد جماعت ہے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، ہر وہ جماعت جسے حکومت اور ادارے دہشت گرد سمجھتے ہیں ہم انہیں دہشت گرد سمجھتے ہیں پاکستان کے مفاد کے خلاف سرگرم تنظیمیں دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں تاہم دہشت گردی کے خلاف کے پی اسمبلی کو آن بورڈ لینے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو عوام رول آف لاء کے لیے نکلیں گے، ایک ملاقات میں کیا مسئلہ ہے اگر ایس او پی کے تحت کرادی جائے، میں نے ہمیشہ کہا ہے مذاکرات ہوں سیاسی مسائل کا سیاسی حل ہو میں نے ہمیشہ کہا مذاکرات ہوں حالات نارملائز ہوں ملاقاتیں نہیں ہوں گی تو پی ٹی آئی کو اسپیس نہیں ملے گا تو ہمارے پاس احتجاج کے سوا کیا حل رہ جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سلمان اکرم راجہ نے میرے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کردی ہے سوشل میڈیا اور میڈیا میں متنازع چیزیں بکتی ہیں میں نہیں چاہتا کہ پارٹی کے اندر کے معاملات باہر آئیں، بانی اگر مجھے کہیں تو یہیں سے استعفی دے کر گھر چلا جاؤں گا، آئین کے مطابق میں دو بار چئیرمین بن سکتا ہوں، مجھے چئیرمین کا عہدہ دیا گیا ہے یہ امانت ہے، پی ٹی آئی کا قلم دوات میرے پاس ہے لیکن اس کا اختیار بانی چئیرمین کے پاس ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کراچی میں اگر ہماری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت چاہتا ہوں مخالف آوازوں کو برداشت کرکے عبرت حاصل کرنا چاہیے، ہم میڈیا کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہے ہیں میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے۔